لبنانی فوج نے جنوبی پائلٹ زونز کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا، امریکا
- جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا معاہدہ عملی طور پر ابتدائی آزمائش سے دوچار
جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے معاہدے کو پیر کے روز پہلی عملی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا، جب لبنانی فوج نے جنوبی لبنان کے تین دیہات میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنا شروع کر دیں۔ یہ بات امریکا نے بتائی۔
امریکا کے مطابق فرون، صریفا اور زوطر الغربیہ میں ”پائلٹ زونز“ کے تحت کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں، جو سہ فریقی فریم ورک کے مطابق اور ملٹری کوآرڈی نیشن گروپ فار لبنان کی نگرانی میں جاری ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے اس پیش رفت کو گزشتہ ہفتے روم میں اسرائیلی اور لبنانی وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ”براہِ راست نتیجہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن دونوں فریقوں کے ساتھ مل کر اس فریم ورک پر کامیاب عمل درآمد کے لیے کام جاری رکھے گا۔
لبنان، اسرائیل اور امریکا کے درمیان 26 جون کو براہِ راست مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد طے پانے والے اس فریم ورک کے تحت جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا کیا جائے گا۔
اس کے بدلے لبنانی مسلح افواج ان علاقوں کی مکمل سکیورٹی سنبھالیں گی جہاں سے اسرائیلی فوج واپس جائے گی اور اس بات کی تصدیق کریں گی کہ ان علاقوں سے حزب اللہ کے ہتھیار اور عسکری ڈھانچہ ختم کر دیا گیا ہے۔
پائلٹ زونز کا مقصد یہ ہے کہ دریائے لیتانی کے اطراف واقع چند دیہات میں اس طریقہ کار کو آزمائشی بنیادوں پر نافذ کیا جائے، جس کے بعد اسے دیگر علاقوں تک توسیع دی جائے گی۔
تاہم حزب اللہ کی جانب سے مسترد کیے گئے اس معاہدے میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی۔
اسرائیلی حکام یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جب تک حزب اللہ مسلح رہے گی، ان کی افواج سرحد کے ساتھ تقریباً 10 کلومیٹر گہرے ”سکیورٹی زون“ میں موجود رہیں گی۔
لبنان اور اسرائیل، جن کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں، نے مذاکرات کا آغاز اس وقت کیا جب مارچ میں حزب اللہ نے اسرائیل پر حملہ کر کے لبنان کو وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شامل کر دیا تھا۔
لبنانی فوج کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ فوج نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی قبضے والے علاقوں سے متصل متعدد دیہات، جن میں فرون بھی شامل ہے، میں گشت بڑھا دیا ہے۔
یہ فریم ورک معاہدہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کے بعد طے پایا تھا۔
اس کے باوجود اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان میں وقفے وقفے سے حملے کرتا ہے اور سرحد کے قریب اپنے زیرِ قبضہ دیہات میں دھماکے بھی کرتا رہتا ہے۔
روم میں ہونے والے مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب لبنانی صدر جوزف عون کی منگل کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات طے ہے۔






















Comments