خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے امریکی خام تیل کے ذخائر میں کمی کی رپورٹ اور سرمایہ کاروں کا یوکرین جنگ ختم کرنے کے مذاکرات میں اگلے اقدامات کے انتظار میں ہونا بتایا گیا جبکہ روسی خام تیل پر پابندیاں فی الحال برقرار ہیں۔
یاد رہے کہ منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی کیونکہ اس امید کا اظہار کیا گیا تھا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ قریب ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن ممکنہ طور پر معاہدہ کرنے کے خواہشمند نہ ہوں۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 55 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے سے 66.34 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز برائے ستمبر کی ڈلیوری، جو بدھ کو ختم ہو رہے ہیں، 65 سینٹ یا 1 فیصد اضافے کے ساتھ 63 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے تھے۔
ایسا لگتا ہے کہ تیل کی قیمتیں ایک دن گر جاتی ہیں اور اگلے دن دوبارہ اوپر چڑھ جاتی ہیں۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جووانی اسٹاؤنوو نے کہا کہ اے پی آئی کی رپورٹ مثبت رہی، اس لیے میرا خیال ہے کہ اس سے قیمتوں کو کچھ سہارا مل رہا ہے۔‘ مارکیٹ ذرائع نے منگل کو امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ خام تیل کے ذخائر 2.42 ملین بیرل کم ہو گئے ہیں۔
جووانی اسٹاؤنوو نے مزید کہا کہ امن معاہدے کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا – دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دنوں میں کچھ پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ وہ پوتن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان ملاقات کا اہتمام کر رہے ہیں، جس کے بعد تینوں صدور کے درمیان ایک سہ فریقی سربراہی اجلاس ہوگا۔
روس نے ابھی تک زیلینسکی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لینے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
اے این زیڈ کے سینئر کموڈیٹی اسٹریٹیجسٹ ڈینیئل ہائنز نے بدھ کو ایک نوٹ میں کہا کہ اب روس کے ساتھ تنازع کے فوری حل کے امکانات کم لگ رہے ہیں۔
تیل کو ایک بڑے امریکی ریفائنری میں سیلاب کی وجہ سے بھی سہارا ملا۔
برٹش پیٹرولیم نے منگل کو کہا کہ انڈیانا کے شہر وہائٹنگ میں واقع اس کے 440,000 بیرل یومیہ کی گنجائش والے ریفائنری کے آپریشنز رات بھر آئے ایک شدید طوفان کی وجہ سے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جس سے خام تیل کی طلب متاثر ہونے کا امکان ہے۔






















Comments
Comments are closed.