خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو معمولی اضافے سے ایک ہفتے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین امن معاہدے میں رکاوٹ ڈالی تو اس کے نتائج برآمد ہوں گے جس سے سپلائی سے متعلق خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
جاپان جو دنیا کے بڑے خام تیل درآمد کنندگان میں سے ایک ہے سے موصول ہونے والے مضبوط معاشی اعدادوشمار نے بھی مارکیٹ کے رجحان کو سہارا دیا۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 16 سینٹ یا 0.2 فیصد بڑھ کر 67.00 ڈالرفی بیرل پر جاپہنچے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ فیوچرز بھی 14 سینٹ یا 0.2 فیصد بڑھ کر 64.10 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔
سب کی نظریں جمعہ کو امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی الاسکا میں ہونے والی ملاقات پر مرکوز ہیں، جہاں یوکرین میں جنگ بندی کو ایجنڈے میں سرفہرست رکھا گیا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ روسی تیل کی سپلائی محدود کر کے عالمی منڈیوں کو سہارا دے رہا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے کہا کہ ان کا یقین ہے کہ روس یوکرین میں جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔
جمعہ کو جاری جاپانی حکومت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل تا جون سہ ماہی میں معیشت سالانہ بنیادوں پر 1.0 فیصد بڑھی، جو مارکیٹ کے اوسط اندازے 0.4 فیصد سے زیادہ ہے۔
مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں یہ اضافہ سہ ماہی بنیادوں پر 0.3 فیصد کے اضافے کے برابر ہے جو کہ 0.1 فیصد اضافے کے اوسط اندازے سے زیادہ ہے۔ مضبوط معاشی سرگرمی عام طور پر تیل کی کھپت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
تاہم امریکہ میں طویل عرصے تک بلند شرحِ سود برقرار رہنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کو محدود رکھا۔
توقع سے زیادہ مہنگائی کے اعداد و شمار اور کمزور روزگار کے اعداد نے فیڈرل ریزرو کے بلند شرحِ سود کے امکانات کو تقویت دی، جو عام طور پر تیل کی کھپت پر منفی اثر ڈالنے والا عنصر ہے۔






















Comments
Comments are closed.