پاکستان کی ایچ پی وی ویکسین مہم کی کامیابی کا دارومدار عوامی اعتماد پر
- ویکسین سروائیکل کینسر سے بچاؤ کرتی ہے، لیکن اعتماد اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ویکسین اپنا یہ وعدہ پورا کرسکے
ہر چند برس بعد کوئی نہ کوئی ملک صحتِ عامہ کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتا ہے۔ کہیں نئی ویکسین متعارف کرائی جاتی ہے، کہیں کسی بیماری کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہوتی ہے اور کہیں بچوں کی ایک پوری نسل کو ان بیماریوں سے تحفظ ملتا ہے جو کبھی لاکھوں جانیں لے لیتی تھیں۔ پاکستان میں حالیہ طور پر ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین متعارف کرایا جانا بھی ایسا ہی ایک اہم سنگِ میل ہے۔
پہلی بار پاکستان کے پاس مستقبل میں سروائیکل کینسر کے ہزاروں کیسز کی روک تھام کا موقع ہے، جو دنیا بھر میں خواتین میں کینسر سے ہونے والی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔
تاہم تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ ویکسین متعارف کرانا صرف پہلا قدم ہے۔
کامیابی کا حقیقی پیمانہ یہ نہیں کہ کتنی ویکسین خریدی یا تقسیم کی گئی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کو یہ ویکسین لگوانے پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔ یہ فیصلہ صرف سائنسی شواہد سے نہیں بلکہ اعتماد، مؤثر آگاہی اور اطمینان سے تشکیل پاتا ہے۔
پاکستان کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے نئے دور میں داخل ہوتے ہوئے شاید اسی سب سے اہم سبق کو اپنانا ہوگا۔ سروائیکل کینسر اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ان چند اقسام کے کینسر میں شامل ہے جن کی بڑی حد تک روک تھام ممکن ہے۔ ہیومن پیپیلوما وائرس کی بعض زیادہ خطرناک اقسام کا مسلسل انفیکشن تقریباً تمام سروائیکل کینسر کیسز کا سبب بنتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سامنے آنے والے وسیع سائنسی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ ایچ پی وی ویکسین انفیکشن، کینسر سے قبل پیدا ہونے والے سروائیکل زخموں اور، بڑھتے ہوئے شواہد کے مطابق، خود سروائیکل کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔
بہت سے ممالک ان فوائد کا مشاہدہ شروع کرچکے ہیں۔ پاکستان بھی اب اس عالمی کوشش کا حصہ بن گیا ہے اور اسے لڑکیوں کی ایک پوری نسل کی صحت کا مستقبل بدلنے کا موقع حاصل ہے۔ تاہم قومی حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام میں ویکسین متعارف کرانا اسے کسی سائنسی جریدے میں متعارف کرانے سے بالکل مختلف ہے۔ سائنسی شواہد اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ ویکسین مؤثر ہے یا نہیں۔
لیکن معاشرے ایک مختلف سوال کرتے ہیں:
کیا ہم اس پر اعتماد کرسکتے ہیں؟
ہماری اپنی تحقیق بھی اس چیلنج کے حوالے سے ایک اہم منظرنامہ پیش کرتی ہے۔
گلوبل برڈن آف ایچ پی وی ( گلوب- ایچ پی وی) اسٹڈی کے تحت ہم نے حال ہی میں پاکستان میں شہری کچی آبادیوں اور دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین میں ایچ پی وی انفیکشن کے حوالے سے آبادی کی سطح پر ہونے والی بڑی مطالعات میں سے ایک کی۔ اس تحقیق کے ذریعے ملک بھر میں ایچ پی وی ویکسین کے نفاذ سے قبل اس وائرس کے پھیلاؤ اور اس کی مختلف جینیاتی اقسام سے متعلق تازہ بنیادی اعداد و شمار حاصل کیے گئے۔
اگرچہ وبائیاتی نتائج سائنسی اعتبار سے اہم ہیں، تاہم ایک اور مشاہدہ بھی اتنی ہی توجہ کا مستحق ہے۔
شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں سروائیکل کینسر اور ایچ پی وی کے بارے میں آگاہی انتہائی محدود پائی گئی۔ بہت سی خواتین کے لیے سروائیکل کینسر ایک اجنبی بیماری تھی، کئی نے ایچ پی وی کا نام تک نہیں سنا تھا اور اسکریننگ کی سہولت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ تاہم اس محدود آگاہی کے باوجود بہت سی خواتین نے واضح اور احترام کے ساتھ معلومات فراہم کیے جانے کے بعد حفاظتی اقدامات میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی۔
یہ امر ہمارے لیے حوصلہ افزا ہونا چاہیے۔
معاشرے سائنس کو مسترد نہیں کررہے، وہ فیصلے کرنے سے پہلے قابلِ فہم اور قابلِ اعتماد معلومات چاہتے ہیں۔
صحتِ عامہ کے شعبے میں اکثر یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ سائنسی حقائق فراہم کردینا رویوں میں تبدیلی کے لیے کافی ہے۔ تاہم کئی دہائیوں پر محیط عملی تحقیق اس کے برعکس نتائج پیش کرتی ہے۔
لوگ صحت سے متعلق فیصلے اعتماد پر مبنی تعلقات کے ذریعے کرتے ہیں۔ والدین ڈاکٹروں، نرسوں، اساتذہ، خاندان کے افراد، پڑوسیوں اور بہت سے پاکستانی خاندانوں کے لیے قابلِ احترام مذہبی علما سے اطمینان اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
اس حقیقت کو تسلیم کرنا سائنس کو کمزور نہیں کرتا بلکہ صحتِ عامہ کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ کامیاب حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام یہ سمجھتے ہیں کہ اعتماد ہدایات دینے سے نہیں بلکہ مکالمے کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ جب معلومات ان آوازوں کے ذریعے پہنچتی ہیں جنہیں لوگ پہلے سے جانتے اور قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں تو معاشرے صحت سے متعلق اقدامات قبول کرنے پر زیادہ آمادہ ہوتے ہیں۔
اسی لیے کمیونٹی سے رابطے کو محض ایک اختیاری آگاہی سرگرمی کے بجائے ایچ پی وی ویکسین کے نفاذ کا بنیادی جزو سمجھا جانا چاہیے۔ طبی عملے کو ویکسین کی حفاظت، مؤثریت اور زرخیزی سے متعلق سوالات کے جواب اعتماد اور ہمدردی کے ساتھ دینے کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔ اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو بھی مناسب معلومات فراہم کی جانی چاہئیں کیونکہ والدین کے ساتھ رابطے میں وہ اکثر سب سے پہلے سامنے آتے ہیں۔
کمیونٹی تنظیمیں بھی اس امر میں مدد دے سکتی ہیں کہ غلط معلومات سے پہلے درست معلومات خاندانوں تک پہنچ جائیں۔ اسی طرح مذہبی رہنماؤں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ بہت سے پاکستانی خاندانوں کے لیے مذہب اور صحت ایک دوسرے کے متضاد اثرات نہیں بلکہ رہنمائی کے دو باہم معاون ذرائع ہیں۔ اسلام میں جان کے تحفظ (حفظ النفس)، بیماری سے بچاؤ اور مفید علاج اختیار کرنے پر خاص زور دیا گیا ہے۔ یہ اصول طویل عرصے سے حفاظتی صحت کے اقدامات کی حمایت کرتے آئے ہیں۔
سعودی عرب، انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی مسلم اکثریتی ممالک نے ایچ پی وی ویکسین کو اپنے قومی حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگراموں میں کامیابی سے شامل کیا ہے۔ پاکستان کے صحت کے حکام بھی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ ممتاز اسلامی علما ایچ پی وی ویکسین کی حمایت کرتے ہیں اور اسے اسلامی اقدار سے ہم آہنگ سمجھتے ہیں۔
اسے مذہب کی جانب سے سائنس کی توثیق کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ بلکہ یہ اس بات کی مثال ہے کہ سائنس اور مذہب ایک مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرسکتے ہیں: آنے والی نسلوں کی صحت اور زندگی کا تحفظ۔
عملی سطح پر ویکسین کے نفاذ سے متعلق تحقیق سے ایک اور اہم سبق بھی سامنے آتا ہے۔ وہ ممالک جہاں ویکسینیشن پروگرام مسلسل کامیاب رہتے ہیں، عموماً کسی ایک حکمتِ عملی پر انحصار نہیں کرتے۔ وہ سائنسی شواہد، شفاف آگاہی، سیاسی عزم، مضبوط بنیادی صحت کے نظام، کمیونٹی شراکت داری اور عوامی اعتماد کو یکجا کرتے ہیں۔
اعتماد کسی بحران کے دوران قائم نہیں ہوتا۔ اسے اس سے بہت پہلے پروان چڑھانا پڑتا ہے، جب تک غلط معلومات کو پھیلنے کا موقع نہ ملے۔ اس کا مطلب ہے کہ شروع ہی سے کمیونٹی کو اعتماد میں لیا جائے، خدشات کو احترام سے سنا جائے، مشکل سوالات کے دیانت دارانہ جواب دیے جائیں اور ہر خاندان کو یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی رائے اہم ہے۔
پاکستان نے ایچ پی وی ویکسین متعارف کراکے تاریخی پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ اب چیلنج یہ ہے کہ اس پروگرام کو محض ایک اور مہم بننے کے بجائے پائیدار کامیابی کے حامل صحتِ عامہ کے پروگرام میں تبدیل کیا جائے۔ اس کے لیے ویکسین کی فراہمی سے آگے بڑھ کر ویکسین پر عوام کا اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔
اعتماد اس وقت بڑھتا ہے جب سائنسی شواہد کو واضح انداز میں بیان کیا جائے اور طبی عملے کو ضروری معاونت فراہم کی جائے۔ اعتماد اس وقت بھی بڑھتا ہے جب اسکول، کمیونٹیز اور مذہبی رہنما محض تماشائی نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔ سب سے بڑھ کر اعتماد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگوں کو قائل کرنے کے بجائے ان کے خدشات اور احساسات کا احترام کیا جائے۔
ایک دن پاکستان کے ایچ پی وی ویکسینیشن پروگرام کے حقیقی اثرات کا اندازہ صرف اس بنیاد پر نہیں لگایا جائے گا کہ کتنی لڑکیوں کو ویکسین لگائی گئی۔
اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ بامعنی صورت میں سامنے آئیں گے: وہ مائیں جو سروائیکل کینسر کا شکار نہیں ہوں گی، وہ بیٹیاں جو قابلِ علاج بیماری سے محفوظ رہتے ہوئے پروان چڑھیں گی اور وہ خاندان جو ایسی عورت کو کھونے کے غم سے محفوظ رہیں گے جس کی زندگی بچائی جاسکتی تھی۔
ویکسین سروائیکل کینسر سے بچاؤ کرتی ہے، لیکن اعتماد اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ویکسین اپنا یہ وعدہ پورا کرسکے۔





















Comments