BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.01%)
KSE100 Decreased By (-0.19%)
KSE30 Decreased By (-0.24%)
BAFL 59.02 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 27.17 Decreased By ▼ -0.09 (-0.33%)
BOP 36.46 Increased By ▲ 0.46 (1.28%)
CNERGY 11.94 Increased By ▲ 0.69 (6.13%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 218.03 Decreased By ▼ -2.16 (-0.98%)
FABL 100.40 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 57.36 Increased By ▲ 0.48 (0.84%)
FFL 16.58 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
GGL 24.62 Increased By ▲ 0.72 (3.01%)
HBL 324.62 Decreased By ▼ -0.98 (-0.3%)
HUBC 225.64 Increased By ▲ 2.06 (0.92%)
HUMNL 10.79 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Decreased By ▼ -0.10 (-1.35%)
LOTCHEM 27.14 Decreased By ▼ -0.06 (-0.22%)
MLCF 102.07 Decreased By ▼ -1.02 (-0.99%)
OGDC 319.19 Increased By ▲ 0.70 (0.22%)
PAEL 43.88 Decreased By ▼ -0.50 (-1.13%)
PIBTL 16.84 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 274.84 Decreased By ▼ -1.02 (-0.37%)
PPL 221.55 Decreased By ▼ -0.93 (-0.42%)
PRL 63.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
SNGP 103.79 Decreased By ▼ -1.12 (-1.07%)
SSGC 27.28 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
TELE 8.62 Decreased By ▼ -0.19 (-2.16%)
TPLP 14.98 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
TRG 63.29 Increased By ▲ 0.92 (1.48%)
UNITY 11.51 Decreased By ▼ -0.39 (-3.28%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)

ایران کے حامی یمنی حوثی گروپ نے اتوار کو سعودی عرب کی آرامکو کی جازان ریفائنری پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ حملہ سعودی عرب کی جانب سے ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کے دو روز بعد کیا گیا۔

سعودی وزارتِ توانائی نے تصدیق کی کہ جازان ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جس پر بعد ازاں قابو پالیا گیا، تاہم آگ لگنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ وزارت کے مطابق متعلقہ ادارے واقعے سے نمٹنے کے لیے ضروری کارروائیاں مکمل کر رہے ہیں۔ ریفائنری جنوب مغربی سعودی عرب میں واقع ہے اور روزانہ 4 لاکھ بیرل خام تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ریفائنری کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ حوثی اس سے قبل جازان اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔

آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ کمپنی کی تنصیبات پر حالیہ حملوں سے پیداوار میں کچھ خلل پڑا، تاہم آپریشنز جلد بحال ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق حملوں کا کمپنی کی مجموعی آپریشنل یا مالی کارکردگی پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔

یہ کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی میں خلل اور عالمی معیشت میں بے چینی کا باعث بنی ہے۔ گزشتہ ماہ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحیرہ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔

Comments

200 حروف