BR100 Increased By (0.81%)
BR30 Increased By (1.03%)
KSE100 Increased By (0.52%)
KSE30 Increased By (0.52%)
BAFL 58.89 Increased By ▲ 0.45 (0.77%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.41 (1.21%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.92 Increased By ▲ 0.08 (0.38%)
DGKC 195.50 Increased By ▲ 2.53 (1.31%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.40 Increased By ▲ 0.57 (1.08%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.36 Increased By ▲ 0.39 (2.06%)
HBL 286.81 Increased By ▲ 1.31 (0.46%)
HUBC 215.31 Increased By ▲ 0.93 (0.43%)
HUMNL 10.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.80 Decreased By ▼ -0.09 (-0.32%)
MLCF 87.36 Increased By ▲ 0.85 (0.98%)
OGDC 322.70 Increased By ▲ 2.74 (0.86%)
PAEL 40.00 Increased By ▲ 0.58 (1.47%)
PIBTL 17.02 Increased By ▲ 0.35 (2.1%)
PIOC 270.05 Increased By ▲ 3.99 (1.5%)
PPL 230.00 Increased By ▲ 1.82 (0.8%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.35 Increased By ▲ 0.17 (0.17%)
SSGC 26.82 Increased By ▲ 0.22 (0.83%)
TELE 8.64 Increased By ▲ 0.36 (4.35%)
TPLP 8.65 Increased By ▲ 0.43 (5.23%)
TRG 69.85 Increased By ▲ 0.14 (0.2%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

امریکہ اور چین نے پیر کے روز باہمی تجارتی تنازع میں اضافی محصولات کے نفاذ کو مزید 90 دن کے لیے مؤخر کر دیا، جس سے ایک دوسرے کی مصنوعات پر تین ہندسوں والے ڈیوٹیز کے نفاذ کا خطرہ ٹل گیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب امریکی ریٹیلرز سال کے آخر میں کرسمس سیزن کی خریداری کے لیے درآمدات بڑھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت 10 نومبر 2025 تک اضافی ٹیکس معطل رہیں گے، جبکہ باقی شرائط برقرار رہیں گی۔ چین کی وزارتِ تجارت نے بھی اسی مدت کے لیے امریکی کمپنیوں پر اضافی محصولات اور تجارتی پابندیوں کے نفاذ کو مؤخر کر دیا۔

نئے حکم کے تحت امریکی درآمدات پر چینی ڈیوٹیز 10 فیصد اور چینی درآمدات پر امریکی ڈیوٹیز 30 فیصد رہیں گی، یوں دونوں ممالک پر بالترتیب 145 فیصد اور 125 فیصد ڈیوٹیز لگنے کا امکان ختم ہو گیا، جو عملی طور پر تجارتی پابندی کے مترادف ہوتا۔

چین نے اس فیصلے کو دونوں سربراہان کے 5 جون کے ٹیلی فونک رابطے میں طے شدہ اتفاقِ رائے کا تسلسل قرار دیا اور کہا کہ یہ عالمی معیشت میں استحکام لائے گا۔ ٹرمپ نے امکان ظاہر کیا کہ اگر تجارتی معاہدہ طے پایا تو وہ اس سال کے آخر تک چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کو دیرینہ تجارتی مسائل حل کرنے کے لیے مزید وقت دے گا اور آئندہ موسمِ خزاں میں ممکنہ ”شی-ٹرمپ“ ملاقات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق، حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کا تجارتی خسارہ نمایاں حد تک کم ہوا ہے، جو گزشتہ سال کی نسبت 70 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔

Comments

Comments are closed.