BR100 Increased By (1.53%)
BR30 Increased By (1.52%)
KSE100 Increased By (1.35%)
KSE30 Increased By (1.44%)
BAFL 57.65 Increased By ▲ 0.45 (0.79%)
BIPL 27.39 Increased By ▲ 0.50 (1.86%)
BOP 34.55 Increased By ▲ 0.86 (2.55%)
CNERGY 10.88 Increased By ▲ 0.27 (2.54%)
DFML 18.41 Increased By ▲ 0.36 (1.99%)
DGKC 211.60 Increased By ▲ 1.70 (0.81%)
FABL 101.51 Increased By ▲ 2.56 (2.59%)
FCCL 54.33 Increased By ▲ 0.59 (1.1%)
FFL 16.86 Increased By ▲ 0.40 (2.43%)
GGL 24.10 Increased By ▲ 0.28 (1.18%)
HBL 305.40 Increased By ▲ 2.98 (0.99%)
HUBC 222.40 Increased By ▲ 3.46 (1.58%)
HUMNL 10.65 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.43 Increased By ▲ 0.15 (2.06%)
LOTCHEM 30.06 Increased By ▲ 0.41 (1.38%)
MLCF 97.40 Increased By ▲ 1.04 (1.08%)
OGDC 321.50 Increased By ▲ 3.28 (1.03%)
PAEL 42.54 Increased By ▲ 0.77 (1.84%)
PIBTL 17.20 Increased By ▲ 0.39 (2.32%)
PIOC 303.00 Increased By ▲ 6.38 (2.15%)
PPL 224.10 Increased By ▲ 3.93 (1.78%)
PRL 52.74 Increased By ▲ 3.69 (7.52%)
SNGP 108.25 Increased By ▲ 2.12 (2%)
SSGC 29.64 Increased By ▲ 0.50 (1.72%)
TELE 8.96 Increased By ▲ 0.14 (1.59%)
TPLP 12.85 Increased By ▲ 0.34 (2.72%)
TRG 60.65 Increased By ▲ 0.43 (0.71%)
UNITY 10.18 Increased By ▲ 0.16 (1.6%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)

امریکہ اور چین نے پیر کے روز باہمی تجارتی تنازع میں اضافی محصولات کے نفاذ کو مزید 90 دن کے لیے مؤخر کر دیا، جس سے ایک دوسرے کی مصنوعات پر تین ہندسوں والے ڈیوٹیز کے نفاذ کا خطرہ ٹل گیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب امریکی ریٹیلرز سال کے آخر میں کرسمس سیزن کی خریداری کے لیے درآمدات بڑھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت 10 نومبر 2025 تک اضافی ٹیکس معطل رہیں گے، جبکہ باقی شرائط برقرار رہیں گی۔ چین کی وزارتِ تجارت نے بھی اسی مدت کے لیے امریکی کمپنیوں پر اضافی محصولات اور تجارتی پابندیوں کے نفاذ کو مؤخر کر دیا۔

نئے حکم کے تحت امریکی درآمدات پر چینی ڈیوٹیز 10 فیصد اور چینی درآمدات پر امریکی ڈیوٹیز 30 فیصد رہیں گی، یوں دونوں ممالک پر بالترتیب 145 فیصد اور 125 فیصد ڈیوٹیز لگنے کا امکان ختم ہو گیا، جو عملی طور پر تجارتی پابندی کے مترادف ہوتا۔

چین نے اس فیصلے کو دونوں سربراہان کے 5 جون کے ٹیلی فونک رابطے میں طے شدہ اتفاقِ رائے کا تسلسل قرار دیا اور کہا کہ یہ عالمی معیشت میں استحکام لائے گا۔ ٹرمپ نے امکان ظاہر کیا کہ اگر تجارتی معاہدہ طے پایا تو وہ اس سال کے آخر تک چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کو دیرینہ تجارتی مسائل حل کرنے کے لیے مزید وقت دے گا اور آئندہ موسمِ خزاں میں ممکنہ ”شی-ٹرمپ“ ملاقات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق، حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کا تجارتی خسارہ نمایاں حد تک کم ہوا ہے، جو گزشتہ سال کی نسبت 70 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔

Comments

Comments are closed.