BR100 Increased By (0.54%)
BR30 Increased By (0.72%)
KSE100 Increased By (0.49%)
KSE30 Increased By (0.52%)
BAFL 58.64 Increased By ▲ 0.20 (0.34%)
BIPL 25.35 Increased By ▲ 0.15 (0.6%)
BOP 34.19 Increased By ▲ 0.20 (0.59%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.90 Increased By ▲ 0.06 (0.29%)
DGKC 195.49 Increased By ▲ 2.52 (1.31%)
FABL 89.80 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
FCCL 53.25 Increased By ▲ 0.42 (0.8%)
FFL 18.11 Increased By ▲ 0.16 (0.89%)
GGL 19.09 Increased By ▲ 0.12 (0.63%)
HBL 286.60 Increased By ▲ 1.10 (0.39%)
HUBC 214.60 Increased By ▲ 0.22 (0.1%)
HUMNL 10.95 Increased By ▲ 0.07 (0.64%)
KEL 8.07 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
LOTCHEM 28.10 Increased By ▲ 0.21 (0.75%)
MLCF 87.40 Increased By ▲ 0.89 (1.03%)
OGDC 321.80 Increased By ▲ 1.84 (0.58%)
PAEL 39.52 Increased By ▲ 0.10 (0.25%)
PIBTL 16.85 Increased By ▲ 0.18 (1.08%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 3.94 (1.48%)
PPL 229.05 Increased By ▲ 0.87 (0.38%)
PRL 34.80 Increased By ▲ 0.12 (0.35%)
SNGP 99.16 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
SSGC 26.80 Increased By ▲ 0.20 (0.75%)
TELE 8.70 Increased By ▲ 0.42 (5.07%)
TPLP 8.46 Increased By ▲ 0.24 (2.92%)
TRG 70.00 Increased By ▲ 0.29 (0.42%)
UNITY 11.78 Increased By ▲ 0.11 (0.94%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
کاروبار اور معیشت

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری: قومی اسمبلی کی کمیٹی نے انتخابی معیار پر اعتراض اٹھا دیا

  • حکومت کا خسارے میں چلنے والی سرکاری تقسیم کار کمپنیوں کو فروخت کرنے کا منصوبہ — ابتدا اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی، اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی سے ہوگی
شائع July 23, 2025 اپ ڈیٹ July 23, 2025 10:48pm

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور ڈویژن نے بدھ کے روز بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے انتخابی معیار پر سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ نجکاری کے لیے اُن ڈسکوز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کے ”ترسیلی و تقسیمی نقصانات نہایت کم ہیں“۔

حکومت پاکستان نے خسارے میں چلنے والی سرکاری ملکیتی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو فروخت کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کا آغاز اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) سے کیا جائے گا۔ حکومت نے ان تینوں کمپنیوں کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیر بھی مقرر کر دیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور ڈویژن کا اجلاس بدھ کے روز چیئرمین محمد عاطف کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی مجوزہ نجکاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق کمیٹی نے نجکاری کے موجودہ انتخابی معیار پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔

اراکین نے متفقہ طور پر اس طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کیا جس کے تحت صرف اُن ڈسکوز کو نجکاری کے لیے منتخب کیا جا رہا ہے جن کے ترسیلی و تقسیمی نقصانات نہایت کم ہیں۔

کمیٹی نے زور دیا ہے کہ اگر نجکاری کا دائرہ صرف بہترین کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں تک محدود رکھا گیا تو حکومت کو مجبوراً ناقص کارکردگی والی ڈسکوز اپنے پاس رکھنی پڑیں گی، جس سے موجودہ انتظامی مسائل میں مزید اضافہ ہوگا اور ان کمپنیوں کی مستقبل میں نجکاری تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔

دریں اثنا بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں پاور ڈویژن نے قائمہ کمیٹی کو پاکستان کی موجودہ بجلی پیداوار کی مجموعی صلاحیت پر بریفنگ دی، جس کے مطابق ملک میں بجلی کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 39,952 میگاواٹ ہے۔

قومی اسمبلی کے بیان کے مطابق توانائی کے ذرائع کے تجزیے سے ایک تشویشناک عدم توازن سامنے آیا، جہاں 54 فیصد بجلی کی پیداوار فوسل فیول (روایتی ایندھن) پر مبنی ہے جبکہ صرف 46 فیصد صاف توانائی (کلین انرجی) سے حاصل کی جا رہی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کا توانائی شعبہ اس وقت بجلی کی پیداوار کی صلاحیت میں تقریباً 7,000 سے 8,000 میگاواٹ کا قابلِ ذکر اضافی بوجھ (سرپلس) برداشت کر رہا ہے۔

کمیٹی کے اراکین نے اس غیر استعمال شدہ بجلی پر ادا کیے جانے والے کیپیسٹی پیمنٹس (ادائیگی برائے پیداواری صلاحیت) سے قومی خزانے پر پڑنے والے بھاری مالی بوجھ پر شدید تشویش کا اظہار کیا، کیونکہ یہ اخراجات عملی طور پر کسی فائدے کے بغیر مسلسل جاری ہیں۔

نجی شعبے کو منتقل کیے جانے والے ریاستی اداروں کی نجکاری کے منصوبے کے تحت حکومت مالی سال 2024-25 میں 30 ارب روپے ( نظر ثانی کے بعد 8 ارب روپے) حاصل کرنے کا ہدف بھی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

اب موجودہ مالی سال 2025-26 کے لیے حکومت نے نجکاری سے آمدنی کا ہدف 86.55 ارب روپے مقرر کیا ہے۔

Comments

Comments are closed.