BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.23%)
KSE100 Increased By (0.23%)
KSE30 Increased By (0.19%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
BIPL 24.37 Decreased By ▼ -0.04 (-0.16%)
BOP 28.29 Increased By ▲ 0.14 (0.5%)
CNERGY 12.55 Increased By ▲ 0.14 (1.13%)
DFML 16.10 Increased By ▲ 0.37 (2.35%)
DGKC 181.25 Increased By ▲ 1.62 (0.9%)
FABL 91.05 Increased By ▲ 0.02 (0.02%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -0.16 (-0.31%)
FFL 13.88 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
GGL 19.50 Increased By ▲ 0.16 (0.83%)
HBL 288.02 Increased By ▲ 1.47 (0.51%)
HUBC 194.01 Increased By ▲ 2.70 (1.41%)
HUMNL 8.63 Decreased By ▼ -0.06 (-0.69%)
KEL 5.72 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 24.40 Increased By ▲ 0.15 (0.62%)
MLCF 89.73 Increased By ▲ 0.09 (0.1%)
OGDC 300.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0%)
PAEL 33.09 Increased By ▲ 0.08 (0.24%)
PIBTL 13.20 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
PIOC 231.99 Increased By ▲ 0.70 (0.3%)
PPL 214.40 Increased By ▲ 0.08 (0.04%)
PRL 100.50 Decreased By ▼ -0.94 (-0.93%)
SNGP 91.50 Decreased By ▼ -0.93 (-1.01%)
SSGC 23.20 Increased By ▲ 0.05 (0.22%)
TELE 6.96 Decreased By ▼ -0.02 (-0.29%)
TPLP 11.77 Increased By ▲ 0.08 (0.68%)
TRG 57.57 Increased By ▲ 0.44 (0.77%)
UNITY 7.92 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 0.94 Increased By ▲ 0.01 (1.08%)

پاکستان کے برآمد کنندگان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دوطرفہ تجارتی معاہدوں کو بہتر بنانے کے امکانات تلاش کرے اور ایسی منڈیوں کا جائزہ لے جہاں علاقائی حریف ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کو ترجیحی تجارتی رسائی حاصل ہے۔ عالمی تجارتی قواعد میں تبدیلیوں کے باعث پاکستان کی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت وزارتِ تجارت میں وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ممتاز برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور کاروباری برادری کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران سامنے آئی۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اجلاس میں ورچوئل شرکت کی، جبکہ وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے تجارت و صنعت سے متعلق کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل خان، متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز اور متعلقہ محکموں کے سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ کاروباری برادری کے بیشتر نمائندوں نے ورچوئل شرکت کی جبکہ دیگر نے اجلاس میں بالمشافہ شرکت کی۔

اجلاس کے دوران برآمد کنندگان نے بین الاقوامی شپنگ میں تاخیر، بندرگاہوں پر سہولتوں، ٹیکس ریفنڈز اور بینکاری ضوابط سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ عالمی لاجسٹکس میں خلل کے باعث شرکاء نے ادائیگیوں کے تصفیے کی مدت میں مزید لچک پیدا کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

شرکاء نے ان منڈیوں کا جائزہ لینے کی سفارش کی جہاں بنگلہ دیش اور بھارت کو ترجیحی تجارتی سہولتیں حاصل ہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے دوطرفہ تجارتی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات تلاش کرنے پر بھی زور دیا۔

کاروباری برادری کے نمائندوں نے برآمد کنندگان کے لیے ایگزم بینک کی اسکیم کو سراہتے ہوئے اسے برآمدی فنانسنگ تک رسائی بہتر بنانے اور بین الاقوامی منڈیوں میں توسیع کے خواہاں کاروبار کی معاونت کے لیے ایک مثبت اقدام قرار دیا۔

صنعتی شعبے کے نمائندوں نے توانائی کی بلند قیمتوں، کیپٹیو پاور کے لیے گیس لیوی، صوبائی انفراسٹرکچر لیویز اور پیداواری اخراجات میں اضافے سے متعلق تحفظات بھی اجاگر کیے۔ اس موقع پر پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے گیس لیوی کے طریقۂ کار کے حوالے سے وضاحتیں پیش کیں۔

گوشت اور لائیو اسٹاک کے شعبے سے وابستہ نمائندوں نے منہ کھر کی بیماری، بین الاقوامی صحت و صفائی کے معیارات، سرحدی پابندیوں اور خلیجی منڈیوں تک رسائی سے متعلق مشکلات کو اجاگر کیا۔

اس موقع پر جام کمال خان نے شرکاء کو بتایا کہ وزیراعظم لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں جس میں بیماریوں پر قابو پانے، سرمایہ کاری، نسلوں کی بہتری اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کے فروغ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اجلاس کو نجی شعبے کی قیادت میں ایک مخصوص لائیو اسٹاک بورڈ کے قیام کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

معدنیات کے برآمد کنندگان نے کان کنی میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد پر پابندیوں اور ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا جبکہ جراحی آلات کے شعبے کی نمائندگی کرتے ہوئے قیصر سلیم شبیر نے پاکستان کی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی میں جدت، ہنرمند افرادی قوت، صنعتی سرمایہ کاری اور جدید کاری کی ضرورت پر زور دیا۔

ایف بی آر کے حکام نے شرکاء کو ٹیکس ریفنڈز کی کارروائی بہتر بنانے اور ڈیجیٹل انوائسنگ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی جبکہ برآمد کنندگان نے زیر التوا ریفنڈز، کاروباری ویزوں اور بین الاقوامی ضوابط کی تعمیل سے متعلق مشکلات کی نشاندہی کی۔

اجلاس کے اختتام پر جام کمال خان نے کہا کہ وزارتِ تجارت مختلف شعبوں سے متعلق مخصوص اور مشترکہ مسائل کو یکجا کرے گی اور وزیراعظم کے زیر غور لانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنے کی غرض سے متعلقہ وزارتوں سے ان پر ردعمل طلب کرے گی۔

Comments

200 حروف