امریکی ییلڈز اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے ڈالر دباؤ کا شکار
- آسٹریلوی ڈالر کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں تین ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب رہی
امریکی ڈالر پر بدھ کو دباؤ برقرار رہا جبکہ اس سے پچھلے سیشن میں یہ تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گیا تھا۔ ٹریژری ییلڈز اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے امریکی کرنسی کی کشش کو متاثر کیا ہے۔
آسٹریلوی ڈالر کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں تین ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب رہی۔ سٹی بینک کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے ڈپٹی گورنر اینڈریو ہاؤزر نے کہا کہ افراطِ زر کا منظرنامہ توقعات سے کہیں زیادہ خراب دکھائی دے رہا ہے جس کے باعث وہ اس بات پر غیر یقینی کا شکار ہیں کہ آیا مرکزی بینک کو اگلے ماہ اپنی پالیسی شرحِ سود میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت پڑے گی یا نہیں۔
آسٹریلوی ڈالر کی قدر 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 0.7013 امریکی ڈالر ہوگئی جو گزشتہ روز کی بلند ترین سطح 0.7017 ڈالر سے معمولی کم ہے۔
ڈالر انڈیکس 0.2 فیصد کمی کے بعد 101.78 پر مستحکم رہا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق بڑھتے ہوئے جوش و خروش کے باعث مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران سرمایہ کاروں نے امریکی ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اس کی جانب رجوع کیا ہے۔ اس رجحان کی ایک وجہ توانائی کے معاملے میں امریکا کا نسبتاً خودکفیل ہونا بھی ہے۔
رات کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی جو اس سے قبل پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ تاجروں نے ایرانی صدر اور پاکستان کے آرمی چیف کے درمیان ملاقات، جنہیں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والا قرار دیا گیا ہے کو سعودی تنصیبات پر حوثی حملوں کے تسلسل اور خلیج میں بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات کے تناظر میں پرکھا۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس کے نتائج کے ساتھ آمدنی کے نئے سیزن کے آغاز پر وال اسٹریٹ میں کاروبار کا اختتام نمایاں تیزی کے ساتھ ہوا۔ بدھ کے روز جاپان کے نکیئی اور جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں بھی تیزی دیکھی گئی۔
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی ماہرِ معاشیات اور کرنسی اسٹریٹجسٹ کیرول کانگ نے اپنے کلائنٹس کے لیے جاری کردہ نوٹ میں لکھا کہ چونکہ حصص کی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کے رجحانات اور معاشی نمو کے امکانات کا گہرا تعلق بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کارکردگی سے ہے، اس لیے ان کمپنیوں کے مالی نتائج امریکی ڈالر کی قدر پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال روایتی محفوظ سرمایہ کاری کے اثاثوں کی کارکردگی ملی جل رہنے کے باوجود امریکی ڈالر نمایاں طور پر بہتر کارکردگی دکھانے والی کرنسی رہا ہے۔ ان کے بقول مشرقِ وسطیٰ میں تنازع ختم ہونے اور توانائی قیمتوں میں کمی آنے کے بعد امریکی ڈالر کی محفوظ سرمایہ کاری کے ذریعے کے طور پر طلب میں کمی آنے کا امکان ہے۔ تاہم، ہمیں توقع ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران امریکی منڈیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے بہاؤ کے باعث ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ ہوگا۔
امریکی ڈالر کی قدر جاپانی ین کے مقابلے میں معمولی تبدیلی کے ساتھ 158.33 ین پر رہی جبکہ یورو کے مقابلے میں 1.1229 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں 1.33735 ڈالر پر مستحکم رہی۔
تاہم فرانس میں حکومت مخالف وسیع احتجاج اور بگڑتی ہوئی مالیاتی صورتِ حال کے باعث تاجروں نے یورو کے حوالے سے محتاط رویہ برقرار رکھا۔
فرانسیسی حکومت نے منگل کو بتایا کہ ہفتے کو مزید متوقع احتجاج کے پیش نظر پولیس کی معاونت کے لیے فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔ حکومت نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے پُرتشدد واقعات سے نمٹنے کے اپنے ردعمل میں خامیوں کا اعتراف بھی کیا۔
مرکزی بینکوں میں امریکی فیڈرل ریزرو، یورپی مرکزی بینک اور بینک آف جاپان آئندہ بدھ سے مسلسل تین روز میں اپنی مانیٹری پالیسی سے متعلق فیصلوں کا اعلان کریں گے۔ تاجروں کو ان میں سے کسی بھی اجلاس میں شرحِ سود میں تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔
نیوزی لینڈ کے ریزرو بینک اور بینک آف کینیڈا بھی اسی روز پالیسی فیصلوں کا اعلان کریں گے جس روز امریکی فیڈرل ریزرو اپنا فیصلہ جاری کرے گا۔ تاجروں کو توقع ہے کہ دونوں مرکزی بینک شرحِ سود میں 0.25 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کریں گے۔
بدھ کو نیوزی لینڈ ڈالر کی قدر 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 0.5677 امریکی ڈالر رہ گئی جبکہ کینیڈین ڈالر 1.4064 کینیڈین ڈالر فی امریکی ڈالر پر مستحکم رہا۔























Comments