فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اعلیٰ ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے تہران پہنچ گئے
- یہ دورہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستان کی جاری کوششوں کے سلسلے میں آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے ایرانی دارالحکومت کے حالیہ دوروں کی کڑی ہے
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے رائٹرز کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کو پاکستانی حکام کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے، جہاں وہ اعلیٰ ایرانی عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔
یہ دورہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستان کی جاری کوششوں کے سلسلے میں آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے ایرانی دارالحکومت کے حالیہ دوروں کی کڑی ہے۔
بزنس ریکارڈر کی سابقہ رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر علاقائی کشیدگی میں کمی، فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعے کے حل کے امکانات پر بات چیت ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی ثالثی کے نتیجے میں جون میں عبوری امن معاہدہ، جسے اسلام آباد میمورنڈم کہا جاتا ہے، طے پایا تھا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد یہ معاہدہ جلد ہی مشکلات کا شکار ہوگیا۔
یہ دورہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کے ایک روز بعد ہورہا ہے جس میں انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنازعے کے دوران مشکل مراحل کے باوجود اسلام آباد نے امن کی کوششیں ترک نہیں کیں۔
محسن نقوی نے دونوں فریقوں کو قریب لانے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو غیر معمولی قرار دیا۔ انہوں نے 18 جون کو 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور بعد ازاں سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کے مشترکہ اہتمام سے ہونے والی لیک لوسرن سربراہی کانفرنس کا بھی ذکر کیا۔























Comments