اسٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس 350 سے زائد پوائنٹس گرگیا
- بینچ مارک انڈیکس 359.99 پوائنٹس یا 0.22 فیصد کمی کے بعد 166,059.72 پوائنٹس پر آ گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو کاروبار کے ابتدائی منٹوں کے دوران فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 350 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔
صبح 9 بج کر 45 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 359.99 پوائنٹس یا 0.22 فیصد کمی کے بعد 166,059.72 پوائنٹس پر آ گیا۔
آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی۔ انڈیکس پر بھاری وزن رکھنے والے حصص، جن میں حبکو، ماری، پی پی ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل، ایچ بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل شامل ہیں، منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔
جمعے کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھی، کیونکہ مارکیٹ میں تازہ محرکات کی کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی بلند قیمتوں نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا، جس کے باعث محدود دائرے میں ہونے والے کاروبار کے دوران تیزی محدود رہی۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 233.55 پوائنٹس یا 0.14 فیصد اضافے کے بعد 166,419.72 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی منڈیوں میں پیر کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی ضروریات کے حوالے سے خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جبکہ آمدنی کے نتائج کے اعلانات سے بھرپور ہفتے کا آغاز ہونے والا ہے۔ دوسری جانب چین کے معاشی اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے، جسے عالمی اقتصادی نمو کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی نے بانڈز اور وال اسٹریٹ کے اسٹاک فیوچرز کو کچھ سہارا دیا، جس سے ایشیائی منڈیوں میں نقصان محدود رہا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر عائد بعض پابندیوں میں چھوٹ دینے کے فیصلے کے بعد تیل کی قیمتیں گر گئیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کو کہا کہ صدر اس اقدام کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 60 دن تک کا وقت لے سکتے ہیں۔ دریں اثنا ایران نے اطلاع دی کہ آبنائے ہرمز میں ایک اور تیل بردار جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا ہے۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور حصص سے سرمایہ نکال کر محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی جانب منتقل ہونے کے رجحان نے سرکاری بانڈز میں تیزی کو مزید بڑھایا۔ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز پر منافع 4 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 5.0525 فیصد رہ گیا۔ اس سے قبل ان بانڈز پر منافع میں آٹھ ماہ سے زائد عرصے کے دوران ہفتہ وار بنیاد پر سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
ان عوامل کے باعث ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ نیس ڈیک کے فیوچرز 1.0 فیصد اوپر چلے گئے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق خدشات نے ایشیائی منڈیوں کی کارکردگی کو متاثر کیا۔ جاپان کا نکیئی انڈیکس 1.2 فیصد گر گیا، جبکہ گزشتہ ہفتے اس میں 5.4 فیصد کمی ہوئی تھی۔ جنوبی کوریا کی مارکیٹ 0.4 فیصد نیچے آئی، جہاں گزشتہ ہفتے 14 فیصد سے زیادہ گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ تائیوان کی مارکیٹ میں 1.4 فیصد کمی ہوئی۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 0.6 فیصد نیچے آ گیا۔
یہ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔
























Comments