امریکی شرح سود کے فیصلے سے قبل عالمی منڈی میں سونا سستا
- اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 4,126.84 ڈالر فی اونس ہوگئی
عالمی منڈی میں منگل کو سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کار آئندہ ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو کے شرح سود سے متعلق فیصلے اور مانیٹری پالیسی کے مستقبل کے اشاروں کے منتظر ہیں۔
گرینچ معیاری وقت کے مطابق رات 1 بج کر 2 منٹ پر اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 4,126.84 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ دسمبر میں ترسیل کے لیے امریکی سونے کے مستقبل کے سودے بھی 0.3 فیصد گر کر 4,146 ڈالر فی اونس پر آگئے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ اب 27 اور 28 اکتوبر کو ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس اور آئندہ ہفتے جاری ہونے والے ذاتی اخراجات کے اشاریے (پی سی ای) کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے۔ یہ اشاریہ امریکی مرکزی بینک کے لیے مہنگائی کی صورت حال جانچنے کا اہم پیمانہ ہے، جس کا ہدف مہنگائی کو 2 فیصد تک محدود رکھنا ہے۔
امریکی مرکزی بینک نے ستمبر میں اپنی بنیادی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ کرکے اسے 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں پہنچا دیا تھا۔
سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق تاجروں کو 83 فیصد امکان ہے کہ مرکزی بینک آئندہ ہفتے شرح سود میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کرے گا، جبکہ دسمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات 94 فیصد ظاہر کیے جارہے ہیں۔
زیادہ شرح سود عموماً سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈالتی ہے، کیونکہ اس سے ایسی دھات رکھنے کی موقع لاگت بڑھ جاتی ہے جس پر کوئی منافع یا سود حاصل نہیں ہوتا۔
دوسری جانب بینک آف جاپان کے گورنر کازو اوئیدا نے کہا کہ بنیادی مہنگائی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف کے کافی قریب ہے۔ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی مضبوط طلب اور ملازمتوں کی منڈی میں سختی مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کررہی ہے، جس سے شرح سود میں مزید اضافے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
ادھر یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں توانائی، ہوائی اڈوں اور فوجی اہداف پر حملوں کے دعوؤں نے بھی جغرافیائی سیاسی صورت حال کو سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنائے رکھا۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.7 فیصد کمی کے بعد 56.69 ڈالر فی اونس ہوگئی، پلاٹینم 1,639.65 ڈالر پر مستحکم رہا، جبکہ پیلیڈیم 0.7 فیصد گر کر 1,112.08 ڈالر فی اونس پر آگیا۔























Comments