BR100 Decreased By (-1.61%)
BR30 Decreased By (-2.02%)
KSE100 Decreased By (-1.14%)
KSE30 Decreased By (-1.47%)
BAFL 55.70 Increased By ▲ 0.12 (0.22%)
BIPL 24.21 Decreased By ▼ -0.09 (-0.37%)
BOP 27.89 Decreased By ▼ -0.34 (-1.2%)
CNERGY 12.34 Decreased By ▼ -0.18 (-1.44%)
DFML 16.20 Increased By ▲ 0.23 (1.44%)
DGKC 178.12 Decreased By ▼ -4.05 (-2.22%)
FABL 90.17 Decreased By ▼ -0.95 (-1.04%)
FCCL 50.10 Decreased By ▼ -1.20 (-2.34%)
FFL 13.67 Decreased By ▼ -0.27 (-1.94%)
GGL 18.93 Decreased By ▼ -0.33 (-1.71%)
HBL 286.00 Decreased By ▼ -6.27 (-2.15%)
HUBC 191.00 Decreased By ▼ -3.89 (-2%)
HUMNL 8.40 Decreased By ▼ -0.26 (-3%)
KEL 5.67 Decreased By ▼ -0.06 (-1.05%)
LOTCHEM 23.92 Decreased By ▼ -0.24 (-0.99%)
MLCF 87.66 Decreased By ▼ -2.19 (-2.44%)
OGDC 298.98 Decreased By ▼ -4.07 (-1.34%)
PAEL 32.85 Decreased By ▼ -0.22 (-0.67%)
PIBTL 12.90 Decreased By ▼ -0.20 (-1.53%)
PIOC 227.50 Decreased By ▼ -4.81 (-2.07%)
PPL 214.30 Decreased By ▼ -2.37 (-1.09%)
PRL 95.88 Decreased By ▼ -4.00 (-4%)
SNGP 90.50 Decreased By ▼ -1.33 (-1.45%)
SSGC 22.54 Decreased By ▼ -0.67 (-2.89%)
TELE 6.74 Decreased By ▼ -0.24 (-3.44%)
TPLP 11.31 Decreased By ▼ -0.10 (-0.88%)
TRG 54.65 Decreased By ▼ -2.18 (-3.84%)
UNITY 7.72 Decreased By ▼ -0.07 (-0.9%)
WTL 0.90 Decreased By ▼ -0.03 (-3.23%)

پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے تقریباً 2.3 ارب ڈالر کے مجوزہ منصوبے پر مشاورت شروع کردی ہے جس کے تحت منتخب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ایڈوانسڈ میٹرنگ انفرااسٹرکچر (اے ایم آئی) سے لیس تقریباً ایک کروڑ 62 لاکھ بجلی کے میٹر نصب کیے جائیں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کاروباری برادری نے منصوبے کی لاگت، ادائیگی کے طریقۂ کار اور صارفین پر پڑنے والے ممکنہ مالی بوجھ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت پانچ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں سنگل فیز بجلی کے میٹروں کو تبدیل کیا جائے گا جن میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو)، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (ہیزکو) شامل ہیں۔

مجوزہ فریم ورک پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ ایک تخمینی مالی منظرنامے کے تحت صارفین کو 12 سال کے دوران تقریباً 1.4 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں کرنا پڑسکتی ہیں جبکہ اس بات کی کوئی واضح ضمانت سامنے نہیں آئی کہ اس منصوبے سے بجلی کے نقصانات میں خاطر خواہ کمی اور بلوں کی وصولی میں بہتری آئے گی۔

یہ اعتراضات ایسے وقت سامنے آئے جب پی پی آئی بی نے منگل کو متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیا جس کی صدارت ادارے کے قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر منور اقبال کمبوہ نے کی۔

عالمی بینک گروپ کے رکن ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے ایک نمائندے نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی اور شرکا کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے۔

حکومت نے ابھی تک اے ایم آئی میٹروں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم، اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ مقامی سطح پر میٹروں کی تیاری کو ترجیح دی جائے گی جبکہ بین الاقوامی کمپنیاں پیداواری یونٹس قائم کرنے کے لیے مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ اشتراک کر سکتی ہیں۔

مشاورتی اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ منصوبے کی لاگت کو ڈالر کے ساتھ منسلک نہیں کیا جائے گا۔ میٹروں کی قیمت سنگل فیز صارفین سے بجلی کے بلوں کے ذریعے 12 سال کے دوران وصول کی جائے گی، تاہم مجوزہ ادائیگی کے طریقۂ کار کے تحت سروس کی مد میں ادائیگیوں کو متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی بلوں کی وصولی کی کارکردگی سے منسلک نہیں کیا جائے گا۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نمائندوں نے منصوبے کی تیاری کے طریقۂ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس پر عملدرآمد کے ذمہ دار اداروں سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے ایک نمائندے نے کہا کہ قومی سطح کے فیصلے بند کمروں میں کیے جاتے ہیں اور ان لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا جنہیں ایسے دور رس اثرات کے حامل فیصلوں پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے۔

اجلاس کے دوران سائبر سکیورٹی بھی ایک اہم تشویش کے طور پر سامنے آئی۔ ایک شریک نے زور دیا کہ سکیورٹی میں نقب زنی کے خطرات کو کم کرنے اور بجلی کی تقسیم کے نظام کو ممکنہ بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی مقامی سطح پر تیار کی جانی چاہیے۔

آئی ایف سی کے نمائندے نے کہا کہ مقامی سطح پر میٹروں کی تیاری کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ بین الاقوامی کمپنیاں مقامی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے اس منصوبے میں حصہ لے سکیں گی۔ پاکستان کی پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) بھی اس منصوبے میں اہم کردار ادا کرے گی جبکہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اے ایم آئی انفرااسٹرکچر متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے حوالے کر دیا جائے گا۔

شرکا کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو بھی اس منصوبے میں اعتماد میں لیا گیا ہے۔

اجلاس میں ان علاقوں میں اسمارٹ میٹرنگ کی افادیت سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے جہاں صارفین بجلی کے بل ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں یا بجلی چوری کے لیے غیر قانونی کنکشنز، جنہیں عام طور پر کنڈے کہا جاتا ہے، استعمال کرتے ہیں۔ شرکا کو بتایا گیا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مخصوص اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔

منصوبے کے تحت پائلٹ پراجیکٹ آئندہ ماہ شروع کیے جانے کی توقع ہے جبکہ پی پی آئی بی منصوبے کی وضاحت اور متعلقہ فریقوں کے تحفظات کا جواب دینے کے لیے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں مزید مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایف پی سی سی آئی نے 13 اکتوبر کو پی پی آئی بی کو جمع کرائے گئے اپنے تحریری مؤقف میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ایڈوانسڈ میٹرنگ انفرااسٹرکچر کی تنصیب سے متعلق مسودہ فریم ورک گائیڈ لائنز 2026 پر مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ فریم ورک پر عمل درآمد روک دیا جائے، جب تک لاگت اور فوائد کا آزادانہ تجزیہ تیار کرکے شائع نہ کر دیا جائے اور اسے ریگولیٹری حکام اور متعلقہ فریقوں کی جانچ پڑتال کے لیے پیش نہ کیا جائے۔

فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ نصب شدہ اور فعال رابطے کے حامل میٹروں کے لیے 12 سال تک کی معاہداتی مدت کے دوران مقررہ ماہانہ سروس ادائیگیوں کا مجوزہ نظام سرمایہ کاری اور کارکردگی سے متعلق خطرات صارفین پر منتقل کر سکتا ہے، خواہ منصوبے کے متوقع فوائد حاصل ہوں یا نہ ہوں۔

تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ ادائیگیوں کا یہ طریقۂ کار آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ منسلک کیپسٹی پیمنٹ ماڈل کی صورت اختیار کرسکتا ہے جس کے تحت حقیقی کارکردگی یا طلب سے قطع نظر صارفین کو بھاری ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کے تخمینی حساب کے مطابق، اگر ایک کروڑ 62 لاکھ میٹروں میں سے ہر میٹر کی قیمت 40 ہزار روپے فرض کی جائے تو منصوبے کی ابتدائی لاگت 648 ارب روپے بنتی ہے۔

اگر اس رقم کو 15 فیصد کی مفروضہ شرحِ سود پر 12 سال کے دوران فنانسنگ کے ذریعے ادا کیا جائے تو سالانہ ادائیگیاں تقریباً 119.5 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہیں جو فی میٹر ماہانہ تقریباً 615 روپے بنتی ہیں۔ معاہدے کی مدت کے دوران مجموعی ادائیگیاں تقریباً 1.4 ٹریلین روپے تک پہنچ جائیں گی جبکہ اس میں مواصلاتی نظام، سافٹ ویئر اور آپریشنل اخراجات شامل نہیں ہیں۔

ایف پی سی سی آئی نے واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار محض تخمینی مثالیں ہیں، منصوبے کی لاگت کا حتمی تخمینہ نہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت آزادانہ طور پر تصدیق شدہ حسابات کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ بجلی کے نقصانات میں کمی، بلوں کی وصولی میں بہتری اور اخراجات کی بچت سے حاصل ہونے والے فوائد صارفین کی جانب سے ادا کی جانے والی مجموعی رقم سے زیادہ ہوں گے یا نہیں۔

فیڈریشن نے مسودہ گائیڈ لائنز میں غیر ملکی زرمبادلہ کی شرح سے منسلک ادائیگیوں کی مجوزہ شقوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ اگرچہ سروس کی مد میں ادائیگی روپے میں مقرر کی گئی ہے، تاہم مسودے میں زرمبادلہ کی شرح سے منسلک ادائیگیوں کی گنجائش رکھی گئی ہے اور اس مد میں اضافے کی کوئی مخصوص حد مقرر نہیں کی گئی۔

ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ سروس کی مد میں ادائیگی پاکستانی روپے میں مقرر رکھی جائے جبکہ زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے متعلق خطرات مناسب مالیاتی انتظامات یا ہیجنگ کے ذریعے بولی دہندگان برداشت کریں۔

فیڈریشن نے سروس کی مد میں ادائیگیوں کو ایسے اخراجات قرار دینے پر بھی اعتراض کیا ہے جنہیں مکمل طور پر ڈسکو کے ٹیرف کے ذریعے صارفین سے وصول کیا جا سکے اور جن پر کمپنی کا اختیار نہ ہو۔ اس کا مؤقف ہے کہ ان اخراجات کو ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) کے تحت تقسیم کار کمپنی کے منظور شدہ مارجن میں شامل کیا جانا چاہیے جس کا جائزہ اخراجات کے معقول ہونے کی بنیاد پر لیا جائے جبکہ ان کی ادائیگی آپریشنل کارکردگی بہتر بنا کر حاصل ہونے والی بچت سے کی جائے۔

ایک اور تشویش مجوزہ خفیہ بینچ مارک قیمت سے متعلق ہے جس کے تحت بینچ مارک کے برابر یا اس سے کم قیمت کی بولیوں کو معقول اور محتاط مالیاتی فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کا کہنا ہے کہ مالیاتی تجاویز کھولے جانے کے وقت بینچ مارک قیمت اور اس کے تعین کے لیے استعمال کیے گئے مفروضوں کو ظاہر کیا جانا چاہیے اور انہیں نیپرا کے عوامی جائزے کے لیے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ ان کی معقولیت کا تعین کیا جا سکے۔

فیڈریشن نے ادائیگیوں کے تحفظ کے لیے مجوزہ انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، جن میں پورے ماسٹر کلیکشن اکاؤنٹ کے خلاف ضمانت، ڈسکوز کی ادائیگیوں کی ذمہ داریوں کے لیے ممکنہ حکومتی ضمانتیں اور معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں ادائیگیوں کے لیے وفاقی حکومت کی ضمانت شامل ہیں۔

Comments

200 حروف