BR100 Increased By (0.33%)
BR30 Increased By (0.7%)
KSE100 Increased By (0.3%)
KSE30 Increased By (0.29%)
BAFL 55.73 Decreased By ▼ -0.13 (-0.23%)
BIPL 24.36 Increased By ▲ 0.28 (1.16%)
BOP 28.79 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
CNERGY 12.87 Increased By ▲ 0.16 (1.26%)
DFML 16.15 Increased By ▲ 0.05 (0.31%)
DGKC 182.43 Increased By ▲ 0.82 (0.45%)
FABL 91.86 Increased By ▲ 0.26 (0.28%)
FCCL 51.68 Increased By ▲ 0.21 (0.41%)
FFL 14.09 Increased By ▲ 0.08 (0.57%)
GGL 20.14 Increased By ▲ 1.11 (5.83%)
HBL 288.51 Increased By ▲ 1.25 (0.44%)
HUBC 192.20 Increased By ▲ 0.69 (0.36%)
HUMNL 9.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.22%)
KEL 5.97 Increased By ▲ 0.03 (0.51%)
LOTCHEM 26.30 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
MLCF 90.80 Increased By ▲ 0.99 (1.1%)
OGDC 301.28 Increased By ▲ 1.54 (0.51%)
PAEL 33.96 Increased By ▲ 0.37 (1.1%)
PIBTL 13.74 Increased By ▲ 0.02 (0.15%)
PIOC 231.45 Increased By ▲ 0.39 (0.17%)
PPL 217.85 Increased By ▲ 0.38 (0.17%)
PRL 102.03 Increased By ▲ 2.84 (2.86%)
SNGP 90.39 Increased By ▲ 0.47 (0.52%)
SSGC 23.05 Increased By ▲ 0.43 (1.9%)
TELE 7.08 Increased By ▲ 0.03 (0.43%)
TPLP 11.95 Increased By ▲ 0.13 (1.1%)
TRG 56.19 Decreased By ▼ -0.36 (-0.64%)
UNITY 8.36 Decreased By ▼ -0.11 (-1.3%)
WTL 0.97 Increased By ▲ 0.01 (1.04%)
پاکستان

مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 12.5 فیصد سے کم ہوکر 2.6 فیصد رہ گیا، وزیر خزانہ

  • گزشتہ دو برسوں میں ٹیکس محصولات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، محمد اورنگزیب
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کو کہا ہے کہ پاکستان کا مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 12.5 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہوکر 2.6 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹیکس محصولات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

وزیر خزانہ نے یہ بات بنکاک میں عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے دوران ’’عالمی منڈیوں سے قرض حاصل کرنے والے ممالک میں خودمختار مالیاتی خطرات میں کمی‘‘ کے موضوع پر ہونے والی پینل گفتگو میں کہی۔

انہوں نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا سہرا مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے، قرضوں کے انتظام اور ساختی اصلاحات کو دیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان مسلسل تین برسوں سے بنیادی مالیاتی سرپلس ریکارڈ کر رہا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا۔ ان کے مطابق افراطِ زر، جو ایک موقع پر 38 فیصد تک پہنچ گیا تھا، کم ہوکر یک ہندسی سطح پر آگیا، تاہم جاری تنازع کے باعث حالیہ عرصے میں دوبارہ 10 فیصد کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی ہے۔ پہلے ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے، جبکہ اب ان سے تقریباً تین ماہ کی درآمدات پوری کی جاسکتی ہیں۔ اس بہتری سے ملکی معیشت کی اندرونی اور بیرونی دھچکوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی آمدن میں اضافے نے معاشی بحالی کی بنیاد فراہم کی، جبکہ ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 8.5 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہوگیا ہے۔ انہوں نے ٹیکس نیٹ وسیع کرنے، ٹیکس انتظامیہ بہتر بنانے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے محصولات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ٹیکس ادائیگی پر آمادہ کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اخراجات میں کمی اور نجکاری کو بھی مالیاتی استحکام کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔

سرکاری قرضوں کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ مجموعی قرضوں اور جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 75 فیصد سے کم ہوکر 68 فیصد رہ گیا ہے۔ وفاقی بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی سب سے بڑا خرچ ہونے کے باعث حکومت نے مقامی قرضوں کے انتظام کے لیے قرضوں کی قبل از وقت واپسی اور مدت میں توسیع سمیت اقدامات کیے ہیں، تاکہ قرض لینے کی لاگت کم اور دیگر ترجیحات کے لیے مالی گنجائش پیدا کی جاسکے۔

بیرونی قرضوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ حکومت کی درمیانی مدت کی قرض حکمت عملی کا مقصد مجموعی بیرونی قرضوں میں اضافہ کیے بغیر ان کی مدت بڑھانا، دوبارہ قرض لینے کے خطرات کم کرنا اور قرضوں کی ساخت کو زیادہ پائیدار بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے تین ارب ڈالر کے بین الاقوامی بانڈ کے اجرا کو سازگار عالمی حالات سے فائدہ پہنچا، تاہم ایسے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے منظم منصوبہ بندی اور پیشگی تیاری ضروری ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ تعاون پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کو معاشی استحکام پائیدار بنانے اور ٹیکس نظام، توانائی، ٹیرف، سرکاری اداروں اور پنشن کے شعبوں میں طویل عرصے سے زیر التوا اصلاحات آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

ان کے مطابق، پاکستان کے سابقہ آئی ایم ایف پروگراموں اور موجودہ پروگرام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اب اصلاحات کی ذمہ داری سیاسی قیادت نے خود قبول کی ہے، خصوصاً وزیراعظم نے۔ حکومت اصلاحاتی ایجنڈے کو پاکستان کا اپنا پروگرام سمجھتی ہے، جس میں آئی ایم ایف معاونت اور مالی وسائل فراہم کرتا ہے، نہ کہ اصلاحات صرف بیرونی شرائط پوری کرنے کے لیے کی جارہی ہیں۔

محمد اورنگزیب نے تسلیم کیا کہ موجودہ نظام میں تبدیلی کی مخالفت کا سامنا رہتا ہے اور ساختی اصلاحات کے لیے سیاسی عزم اور مسلسل نظم و ضبط ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کو آئی ایم ایف مشن کا عملے کی سطح کے معاہدے کے بعد روانہ ہونا، جس میں مقداری اور ساختی اہداف شامل ہیں، اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنے طے شدہ راستے پر گامزن ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ عالمی ریٹنگ میں بہتری اور مالیاتی منڈیوں تک رسائی کی بحالی نے پاکستان کی معاشی سمت کی بیرونی سطح پر توثیق کی ہے۔ حکومت اصلاحات کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ معاشی استحکام بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے، لیکن اب پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب بڑھنا ہوگا تاکہ اصلاحات کے فوائد عام شہریوں تک بھی پہنچ سکیں۔

Comments

200 حروف