امریکی ڈالر 18 ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آگیا
- ڈالر انڈیکس 0.1 فیصد کمی کے بعد 102.06 پر آگیا
عالمی کرنسی مارکیٹ میں جمعرات کو امریکی ڈالر کی قدر 18 ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آگئی، حالانکہ امریکا میں افراطِ زر کے اعداد و شمار توقعات سے زیادہ رہے۔ فیڈرل ریزرو کے حکام کے محتاط بیانات اور امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں نے رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات کا دوبارہ جائزہ لیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ڈالر انڈیکس 0.1 فیصد کمی کے بعد 102.06 پر آگیا، جبکہ یورو 0.3 فیصد اضافے سے 1.1187 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 0.2 فیصد بڑھ کر 1.3224 ڈالر کا ہوگیا۔
امریکی محکمہ محنت کے مطابق، ستمبر میں بنیادی صارف قیمت اشاریہ ماہانہ بنیاد پر 0.3 فیصد بڑھا، جبکہ ماہرین نے 0.2 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ سالانہ بنیاد پر بنیادی افراطِ زر 2.6 فیصد رہا، جبکہ مجموعی افراطِ زر کی شرح 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ان اعداد و شمار کے بعد اکتوبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات 50 فیصد تک پہنچ گئے تھے، تاہم فیڈ حکام نے واضح کیا کہ مزید فیصلے سے قبل معاشی صورت حال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ فیڈ کا اجلاس 27 اور 28 اکتوبر کو ہوگا۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی شرح منافع کم ہوکر تین ہفتوں کی کم ترین سطح 5.1267 فیصد پر آگئی، جس سے ڈالر پر دباؤ بڑھا۔
دوسری جانب آسٹریلوی ڈالر 0.3 فیصد کم ہوکر 0.6952 ڈالر، جاپانی ین 0.3 فیصد مضبوط ہوکر 157.82 فی ڈالر اور آف شور چینی یوآن 6.6916 فی ڈالر پر آگیا۔ سرمایہ کار اب امریکی پیداواری قیمتوں اور خوردہ فروخت کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔

























Comments