پاکستان میں شرح نمو سست، 2027 میں مہنگائی 9.9 فیصد تک پہنچنے کا امکان، آئی ایم ایف
- جاری کھاتے کا توازن 2026 میں مستحکم رہنے کا تخمینہ ہے، رپورٹ
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے منگل کو جاری کردہ عالمی اقتصادی منظرنامے (ڈبلیو ای اے) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2027 میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 9.9 فیصد ہونے کا امکان ہے جب کہ معاشی شرحِ نمو کم ہو کر 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
آئی ایم ایف کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح 2025 میں 4.5 فیصد کے مقابلے میں 2026 میں بڑھ کر 7.1 فیصد رہی۔ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو 2025 میں 3.2 فیصد کے مقابلے میں 2026 میں 3.6 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، تاہم 2027 میں اس کے کم ہو کر 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
عالمی اقتصادی منظرنامے (ڈبلیو ای او) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا جاری کھاتے کا توازن 2026 میں مستحکم رہنے کا تخمینہ ہے، تاہم 2027 میں اس کے جی ڈی پی کے ایک فیصد کے مساوی خسارے میں تبدیل ہونے کا امکان ہے جبکہ 2025 میں پاکستان کو جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کے برابر سرپلس حاصل تھا۔
اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 2025 کے 7.1 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں 6.9 فیصد اور 2027 میں 6.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی معاشی شرحِ نمو 2026 میں سست ہو کر 3.1 فیصد رہنے جبکہ 2027 میں دوبارہ بڑھ کر 3.4 فیصد ہونے کا امکان ہے۔ عالمی سطح پر مہنگائی کی مجموعی شرح 2026 میں نمایاں اضافے کے ساتھ 4.7 فیصد تک پہنچنی، تاہم 2027 میں کم ہو کر 4.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی معیشت ایک بار پھر مشکلات کے باوجود لچک کا مظاہرہ کررہی ہے، تاہم اس بہتری کی رفتار مختلف خطوں میں یکساں نہیں اور قلیل مدت میں معاشی دباؤ کو سنبھالنے کی گنجائش تیزی سے محدود ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور تجارتی کشیدگی کے باعث مسلسل دباؤ کے باوجود 2026 کی پہلی ششماہی میں معاشی سرگرمیاں توقعات سے بہتر رہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری پیش رفت نے طلب میں اضافہ کیا جس کی بنیادی وجہ اے آئی کے شعبے میں مضبوط سرمایہ کاری ہے۔
جغرافیائی سیاسی حالات اور ٹیکنالوجی کے باہمی اثرات نے عالمی معیشت کو دو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ تجارت کی سازگار شرائط، ٹیکنالوجی سے متعلق برآمدات اور سرمایہ کاری بعض ممالک کو معاشی دباؤ سے بچاؤ کا سہارا فراہم کرتی ہیں جبکہ دیگر ممالک کو درآمدی اخراجات میں اضافے اور طلب میں کمی کا سامنا ہے۔
اب تک معاشی تحفظ کے دستیاب وسائل کے استعمال اور حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت نے معیشتوں کو منفی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دی ہے۔ رسد میں لچکدار ردِعمل، ترسیل کے راستوں میں تبدیلی، ذخیرہ شدہ سامان کے استعمال، مالی معاونت کے اقدامات اور گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں توانائی پر کم انحصار نے جنگ کے باعث معاشی سرگرمیوں کو پہنچنے والے نقصان کو محدود رکھنے میں مدد کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کی عالمی ویلیو چین سے باہر توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کو سب سے زیادہ مشکل معاشی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ تاہم، معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مدد دینے والے اقدامات اور حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی گنجائش لامحدود نہیں جبکہ معاشی خطرات کا جھکاؤ منفی سمت میں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازعات میں مزید شدت، اے آئی سے متعلق توقعات پر نظرثانی، تجارتی کشیدگی میں دوبارہ اضافے اور مالیاتی کمزوریوں کے باعث معاشی شرحِ نمو متاثر ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب اے آئی میں سرمایہ کاری کی رفتار مزید تیز ہونے، اس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت میں اضافے یا جغرافیائی سیاسی اور تجارتی کشیدگی میں مسلسل کمی سے معاشی شرحِ نمو کو تقویت مل سکتی ہے۔























Comments