یمنی حوثیوں کا سعودی ایئرپورٹس اور تیل تنصیبات پر مزید حملوں کا اعلان، آرامکو ہیڈکوارٹر پر حملہ
- حملے میں تیل کی بڑی کمپنی سعودی آرامکو کے ہیڈکوارٹر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا دعویٰ
یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر مزید حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب ذرائع کے مطابق تیل کی بڑی کمپنی سعودی آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر حملے سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
حوثیوں نے کہا کہ جن مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے، وہ جائز اہداف ہیں۔ انہوں نے اپنے حملوں کو یمن پر سعودی حملوں کے جواب میں کارروائی قرار دیا۔ اس پیش رفت سے خلیج میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث دوبارہ بھڑکنے والے تنازع میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سعودی عرب کو حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔ ان میں ہفتے کے روز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
تین باخبر ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ منگل کی رات سعودی عرب کے مشرقی شہر ظہران میں سعودی آرامکو کے مرکز پر حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی، جو عمارت کی کئی منزلوں تک پھیل گئی۔ تاہم سعودی وزارتِ توانائی نے کہا تھا کہ حملے سے محدود پیمانے پر آگ لگی۔
دو ذرائع کے مطابق آرامکو کے معمول کے آپریشنز جاری تھے اور ملازمین گھر سے کام کر رہے تھے۔ آرامکو نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
سعودی قیادت میں اتحاد کا میزائل روکنے کا دعویٰ
بڑھتے ہوئے تنازعے نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سعودی معیشت کو تبدیل کرنے، متنوع بنانے اور تیل پر انحصار کم کرنے کے پرعزم منصوبوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی جانب سے یمنی حکومتی فورسز کی حمایت کے جواب میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ یہ جنگ گزشتہ ماہ دوبارہ شروع ہوئی تھی۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بدھ کو کہا کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل روک لیا ہے۔ سعودی دارالحکومت میں کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
ایک عینی شاہد کے مطابق سعودی حکام نے بدھ کو اس سے قبل ریاض میں ممکنہ فضائی خطرے کے پیش نظر انتباہ جاری کیا تھا، جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دھماکوں کی آوازیں کس وجہ سے آئیں، جبکہ حکام نے بھی ان کے ماخذ پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے بھی دھماکوں کی وجہ سے متعلق تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
حوثیوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے ظہران میں سعودی آرامکو کی تنصیبات، ریاض ایئرپورٹ اور ریاض میں آرامکو کی ایک ریفائنری پر بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے۔
حوثیوں نے وسیع پیمانے پر دھمکی دیتے ہوئے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں شہریوں اور ملازمین پر زور دیا کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو خالی کردیں۔
ظہران میں واقع کمپلیکس میں آرامکو کا ایک بڑا آپریشنز سینٹر موجود ہے، جو خشکی اور سمندر میں پھیلے ہوئے تیل کے کنوؤں، پائپ لائنوں، ریفائنریز اور برآمدی ٹرمینلز کے وسیع نیٹ ورک کی نگرانی کرتا ہے۔
ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اب تک چار مرتبہ حملوں کی زد میں آچکا ہے۔ ان میں ہفتے کا حملہ بھی شامل ہے، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران سعودی عرب میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملہ تھا۔
حکام نے ہوائی اڈہ 17 اکتوبر تک بند کردیا ہے، جبکہ ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں منسوخ کردی ہیں۔
ایرانی اثر و رسوخ میں اضافے اور اپنی سرحدوں پر بدامنی کے خدشے کے پیش نظر سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں حکومتی فورسز کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔ اس سے قبل حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرلیا تھا۔
اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 میں یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں اس سال تک نازک امن برقرار رہا۔
سعودی عرب نے گزشتہ ماہ حوثیوں کی اچانک پیش قدمی کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ حوثی بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے اہم آبنائے باب المندب تک پہنچ گئے تھے۔
ادھر ریڈ کراس نے کہا کہ یمن بھر کے اسپتالوں کو جنگ میں زخمی ہونے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ متعدد محاذوں پر لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا کہ حکومتی کنٹرول میں موجود شہر تعز کے لیے زندگی بچانے والی امداد کی فراہمی منقطع ہوگئی ہے۔ حوثیوں نے رواں ماہ کے اوائل میں اس شہر کا محاصرہ کرلیا تھا۔
عالمی ادارہ خوراک نے اپنے بیان میں کہا کہ ادارہ اور اس کے شراکت دار تعز میں 6 لاکھ سے زائد ایسے افراد تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے جو انسانی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ ان میں 2 لاکھ سے زائد خواتین اور بچے شامل ہیں۔
























Comments