ریاض ایئرپورٹ پر حملوں سے قبل سعودی عرب کا وارننگ سسٹم خاموش رہا
- حکام کے مطابق، انتباہات سے شہریوں کی نیند متاثر ہونے اور شکایات بڑھنے کے باعث یہ سلسلہ روکا گیا تھا
سعودی عرب نے ریاض ایئرپورٹ پر حالیہ مہلک حملوں سے چند روز قبل شہریوں کو ممکنہ فوجی حملوں سے خبردار کرنے کا سلسلہ روک دیا تھا، جس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے ہونے والے چار حملوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی حکومت نے تاحال وضاحت نہیں کی کہ حملوں سے قبل عوام کو انتباہ کیوں جاری نہیں کیا گیا۔ ماہرین اور خطے کے مغربی و عرب حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انتباہی نظام کی خاموشی سے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور شہریوں و سیاحوں کے تحفظ سے متعلق سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
سعودی عرب نے مئی میں موبائل فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے کا نظام شروع کیا تھا۔ تاہم، جنوبی صوبے نجران کے لیے 29 ستمبر کو جاری کردہ انتباہ کے بعد گزشتہ ہفتے کے حملوں تک کوئی نیا عوامی انتباہ سامنے نہیں آیا۔ پیر کو سعودی شہری دفاع نے ریاض اور جنوبی شہروں میں ممکنہ خطرات سے متعلق دوبارہ انتباہ جاری کیا۔
حکام کے مطابق، انتباہات سے شہریوں کی نیند متاثر ہونے اور شکایات بڑھنے کے باعث یہ سلسلہ روکا گیا تھا، تاہم سعودی حکومت نے اس دعوے پر تبصرہ نہیں کیا۔
سابق امریکی سفیر مائیکل ریٹنی کے مطابق سعودی حکومت حوثیوں کے حملوں کا جواب دینے اور ملک میں معمولات زندگی برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن انتباہات کی عدم موجودگی نے شہریوں میں بے چینی بڑھا دی ہے۔
سعودی تجزیہ کار علی شہابی نے کہا کہ ملک کے وسیع رقبے، ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور پائپ لائنوں کے باعث تمام اہم مقامات کا دفاع کرنا مشکل ہے۔ ادھر سعودی وزیر توانائی نے کہا کہ خطرات کے باوجود ملک اپنے معاشی منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔























Comments