چاولوں کی برآمدات مشکلات سے دوچار
- دو سال میں آمدنی 3.89 ارب ڈالر سے کم ہوکر 2.3 ارب ڈالر رہ گئی، بھارت کی چاول برآمدات ریکارڈ 21.57 ملین ٹن تک پہنچ گئیں، مقامی برآمدی سبسڈی کی افادیت اور شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے
پاکستان کی چاولوں کی برآمدات کا شعبہ مالی سال 2024 میں ریکارڈ 60 لاکھ ٹن چاول برآمد کرکے 3.89 ارب ڈالر کمانے کے بعد گزشتہ دو برس سے مشکلات کا شکار ہے۔ مالی سال 2026 میں برآمدات تقریباً 43 لاکھ ٹن رہ گئیں، جبکہ آمدنی کم ہوکر 2.3 ارب ڈالر ہوگئی۔ اس کے برعکس بھارت نے ریکارڈ 2 کروڑ 15 لاکھ 70 ہزار ٹن چاول برآمد کرکے 11.53 ارب ڈالر کمائے۔
یہ صورت حال صرف برآمدکنندگان کا مسئلہ نہیں بلکہ کاشتکاروں، مل مالکان اور برآمدکنندگان سمیت چاول کی پوری پیداواری زنجیر کی مسابقت پر سوالیہ نشان ہے۔
صنعتی حلقوں کا مؤقف تھا کہ یہ مراعات ضروری ہیں کیونکہ بھارتی باسمتی چاول پاکستان کے مقابلے میں تقریباً 250 ڈالر فی ٹن سستا ہے۔ تاہم سبسڈی کے باوجود پاکستانی چاولوں کی برآمدات میں مسلسل کمی ہوئی۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ ڈی ایل ٹی ایل متعارف ہونے کے بعد باسمتی چاول کی ظاہر کردہ برآمدی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض برآمدات میں غیر معمولی بلند قیمتیں ظاہر کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ برآمدی قیمتوں سے منسلک مراعات غلط قیمت ظاہر کرنے اور چاول کی اقسام کی غلط درجہ بندی کے امکانات بڑھا سکتی ہیں۔
پاکستان کسٹمز نے بعدازاں چاول کی کھیپوں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔ اس صورت حال میں سوال اٹھتا ہے کہ ایسی برآمدی سبسڈی پر ٹیکس دہندگان کی رقم کیوں خرچ کی جائے جو مسابقت بحال کرنے میں ناکام رہی اور جس کے غلط استعمال کا خدشہ بھی موجود ہے؟
فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
برآمدی سبسڈی بظاہر پاکستانی چاول کو عالمی منڈی میں سستا بنانے کا ذریعہ ہے، لیکن اگر اس کے نتیجے میں مقامی خریداری کی قیمتیں بڑھیں تو اس کا بوجھ پاکستانی صارفین کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اس صورت حال میں ذخیرہ اندوزوں، تاجروں اور بیرونِ ملک دفاتر رکھنے والے برآمدکنندگان کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ سبسڈی کے اخراجات ٹیکس دہندگان برداشت کرتے ہیں اور غیر ملکی صارفین نسبتاً سستا چاول خریدتے ہیں۔
دوسری جانب کاشتکار بدستور مشکلات کا شکار ہیں۔ کھاد، ڈیزل، بجلی، بیج، زرعی ادویات، مشینری اور مزدوری کے اخراجات بڑھ چکے ہیں۔ فصل کی کٹائی کے بعد دھان کی قیمتیں گرنے پر کاشتکار اکثر فوری نقد رقم کی ضرورت پوری کرنے کے لیے فصل جلد فروخت کردیتے ہیں، جس میں گندم کی اگلی فصل کی بوائی کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس زیادہ نقد رقم رکھنے والے ذخیرہ اندوز اور اسٹاک رکھنے والے تاجر فصل روک کر بعد میں قیمتیں بڑھنے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اس صورت حال سے ایک غیر متوازن نظام جنم لیتا ہے، جس میں پیداواری خطرات کا سامنا کاشتکار کرتا ہے، سبسڈی کے اخراجات ٹیکس دہندگان برداشت کرتے ہیں، جبکہ ذخیرے پر کنٹرول رکھنے والے افراد زیادہ تر فوائد سمیٹ لیتے ہیں۔
مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہوجاتا ہے جب زر کی فراہمی میں اضافے اور برآمدی ری فنانسنگ پر رعایت کے ذریعے اضافی نقدی تو فراہم کی جاتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں برآمدات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ یہ رقم بالآخر کہاں خرچ ہورہی ہے؟ کیا رعایتی مالی معاونت مقامی پیداوار اور برآمدات کو مضبوط بنا رہی ہے یا بیرونِ ملک کاروباری سرگرمیوں اور ذخیرہ اندوزی کی مالی ضروریات پوری کررہی ہے؟
غیر ملکی صارفین کے بجائے کاشتکاروں کی مدد کی جائے
حکومتی پالیسی کی ترجیحات تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔بندرگاہوں پر مبنی مراعات یا تمام برآمدکنندگان کے لیے یکساں مال برداری سبسڈی دینے کے بجائے محدود سرکاری وسائل کا رخ پیداواری لاگت کم کرنے اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی جانب کیا جانا چاہیے۔
سمندری مال برداری پر سبسڈی عارضی طور پر برآمدکنندگان کو ریلیف دے سکتی ہے، لیکن اس سے پاکستان کی پیداواری لاگت سے متعلق بنیادی کمزوریاں دور نہیں ہوتیں۔ اس کے نتیجے میں مقامی منڈی میں دھان کی خریداری کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جبکہ فی ایکڑ پیداوار، معیار اور پیداواری کارکردگی میں بہتری نہیں آتی۔
اس کے بجائے تصدیق شدہ زیادہ پیداوار دینے والے مقامی باسمتی اور نان باسمتی بیج، پانی بچانے والے آبپاشی نظام، لیزر لینڈ لیولنگ، جدید زرعی مشینری، دھان خشک کرنے والے آلات، سائنسی بنیادوں پر ذخیرہ کاری، زمین کی جانچ، زرعی توسیعی خدمات اور عالمی معیار کے فوڈ سیفٹی و ٹریس ایبلٹی نظام پر توجہ دی جانی چاہیے۔
چاول کاشتکار معاونتی واؤچر کے ذریعے رجسٹرڈ کسانوں کو تصدیق شدہ بیج، کھاد، زرعی ادویات، زمین ہموار کرنے، مؤثر آبپاشی اور شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں پر رعایت دی جاسکتی ہے۔
چھوٹے کاشتکاروں کو تصدیق شدہ بینک اکاؤنٹس یا پاکستان پوسٹ کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جاسکتی ہے، جسے زیرِ کاشت رقبے، تصدیق شدہ بیج کے استعمال اور پیداواری بہتری سے منسلک کیا جائے۔
اس طرح وہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے جو برآمدی سبسڈی پوری نہیں کرسکتی، یعنی پیداواری لاگت کو اس کی بنیادی سطح پر کم کرنا۔
آبنائے ہرمز کا بحران عالمی مسئلہ ہے
آبنائے ہرمز کے اطراف میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے مال برداری، بیمہ، جہازوں کی دستیابی اور متبادل بحری راستوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارت اور پاکستان کی بندرگاہوں سے جدہ تک 20 فٹ کنٹینر کا کرایہ تقریباً 500 ڈالر سے بڑھ کر 3,500 ڈالر ہوگیا تھا، تاہم بعد میں اس کے نرخ کم ہوکر تقریباً 2,300 ڈالر کے قریب آگئے۔ جبل علی کے لیے بھی مال برداری کے اخراجات بلند سطح پر رہے ہیں۔
لیکن یہ مسئلہ صرف پاکستان کو درپیش نہیں، بلکہ چاول برآمد کرنے والے دیگر ممالک بھی جہاز رانی اور بیمے کے اخراجات میں اسی عالمی اضافے کا سامنا کررہے ہیں۔
لہٰذا پاکستانی برآمدکنندگان کو مال برداری کے اضافی اخراجات کی مکمل تلافی کرنے سے عالمی رسدی مسئلے کو مقامی مسابقت کا مسئلہ سمجھنے کا خطرہ ہے۔ جب مال برداری کے حالات معمول پر آجائیں گے تو یہ سبسڈی ختم ہوجائے گی، لیکن پاکستان کی بنیادی پیداواری لاگت کا فرق برقرار رہے گا۔
پائیدار حل یہی ہے کہ چاول کی پیداواری لاگت کم کی جائے، تاکہ پاکستان عالمی منڈی میں مستقل قیمت کا فائدہ حاصل کرسکے، جیسا کہ بھارت جارحانہ انداز میں اپنی مسابقت مضبوط کررہا ہے۔
چاولوں کی برآمدات کے لیے نئی حکمتِ عملی
پاکستان کو برآمدی کھیپوں پر سبسڈی دینے کے بجائے اپنی مسابقت بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔
اول، حکومت کو غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی برآمدی سبسڈی ختم کرکے مقامی ٹیکسوں اور محصولات کی واپسی کی اسکیم (ڈی ایل ٹی ایل) کے لیے واضح اختتامی طریقۂ کار وضع کرنا چاہیے۔
دوم، سبسڈی سے بچنے والے سرکاری وسائل شفاف ڈیجیٹل واؤچرز اور مخصوص زرعی مداخل پر معاونت کے ذریعے کاشتکاروں تک پہنچائے جائیں۔
سوم، پاکستان کو مقامی باسمتی اقسام، بیجوں کی تحقیق، پانی کے مؤثر استعمال، زرعی مشینری اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والے مقامی بیجوں کی تحقیق میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
چہارم، کسٹمز، پاکستان سنگل ونڈو اور بینکوں کو چاول کی اقسام اور برآمدی قیمتوں کی فوری تصدیق کا نظام قائم کرنا چاہیے، تاکہ غلط بیانی اور برآمدی قیمت بڑھا چڑھا کر ظاہر کرنے کے واقعات کم کیے جاسکیں۔
پنجم، ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائی کی غرض سے اجناس ذخیرہ کرنے کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔ جب تک مقامی منڈی میں بے ضابطگیوں کے باعث خام مال کی قیمتیں بڑھتی رہیں گی، برآمدی مسابقت پیدا نہیں کی جاسکتی۔
ششم، برآمدکنندگان کو بڑی مقدار میں بغیر برانڈ چاول فروخت کرنے کے روایتی کاروبار سے آگے بڑھ کر پاکستانی باسمتی چاول کی برانڈنگ، پیکنگ اور قابلِ سراغ فراہمی کے نظام کو فروغ دینا چاہیے۔ پاکستان کو باسمتی چاول کی پیداوار میں قدرتی برتری حاصل ہے، لیکن اسے صرف بڑی کھیپوں کی برآمد پر انحصار کرنے کے بجائے اس پیداوار سے زیادہ معاشی قدر حاصل کرنا ہوگی۔
آخر میں، وزارتِ تجارت کے ایگرو فوڈ ونگ کو چاولوں کے شعبے کے لیے پانچ سالہ قابلِ پیمائش حکمتِ عملی تیار کرنی چاہیے، جس میں فی ایکڑ پیداوار، کھیت کی سطح پر لاگت، معیار، اضافی قدر پیدا کرنے، برانڈڈ برآمدات اور زرمبادلہ کی آمدنی کے واضح اہداف شامل ہوں۔
پاکستان ثابت کرچکا ہے کہ وہ 60 لاکھ ٹن چاول برآمد کرسکتا ہے لیکن مقصد محض ایک اور سبسڈی دے کر برآمدات کا یہ حجم بحال کرنا نہیں ہونا چاہیے۔
اصل ہدف کم لاگت پر زیادہ چاول پیدا کرنا، معیار بہتر بنانا، کاشتکاروں کی آمدنی بڑھانا اور سرکاری خزانے سے دی جانے والی سبسڈی پر انحصار کم کرنا ہونا چاہیے۔
انتخاب واضح ہے یا تو برآمدی کھیپوں پر سبسڈی دینے کا سلسلہ جاری رکھا جائے یا پاکستانی چاول کو حقیقی معنوں میں عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی جائے۔مشکلات سے نکلنے کا واحد پائیدار راستہ یہی دوسرا طریقہ ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026
























Comments