BR100 Decreased By (-0.2%)
BR30 Decreased By (-0.59%)
KSE100 Decreased By (-0.13%)
KSE30 Decreased By (-0.18%)
BAFL 55.28 Increased By ▲ 0.24 (0.44%)
BIPL 24.47 Increased By ▲ 0.04 (0.16%)
BOP 28.88 Increased By ▲ 0.27 (0.94%)
CNERGY 12.32 Decreased By ▼ -0.09 (-0.73%)
DFML 16.28 Decreased By ▼ -0.05 (-0.31%)
DGKC 182.20 Increased By ▲ 1.08 (0.6%)
FABL 91.30 Decreased By ▼ -0.72 (-0.78%)
FCCL 51.70 Increased By ▲ 0.66 (1.29%)
FFL 13.95 Increased By ▲ 0.16 (1.16%)
GGL 18.15 Decreased By ▼ -0.79 (-4.17%)
HBL 287.88 Decreased By ▼ -2.38 (-0.82%)
HUBC 192.68 Decreased By ▼ -0.84 (-0.43%)
HUMNL 9.44 Increased By ▲ 0.31 (3.4%)
KEL 5.84 Decreased By ▼ -0.05 (-0.85%)
LOTCHEM 26.12 Decreased By ▼ -0.18 (-0.68%)
MLCF 90.02 Increased By ▲ 0.63 (0.7%)
OGDC 297.70 Decreased By ▼ -2.69 (-0.9%)
PAEL 33.42 Increased By ▲ 0.12 (0.36%)
PIBTL 13.74 Increased By ▲ 0.13 (0.96%)
PIOC 231.32 Increased By ▲ 0.16 (0.07%)
PPL 216.35 Decreased By ▼ -0.68 (-0.31%)
PRL 93.25 Decreased By ▼ -0.20 (-0.21%)
SNGP 89.90 Increased By ▲ 0.19 (0.21%)
SSGC 22.50 Decreased By ▼ -0.08 (-0.35%)
TELE 7.07 Increased By ▲ 0.01 (0.14%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.28 (-2.28%)
TRG 54.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
UNITY 8.68 Increased By ▲ 1.00 (13.02%)
WTL 0.97 No Change ▼ 0.00 (0%)
Perspectives

پاکستان اور آئی ایم ایف، ہر مرض کا ایک ہی علاج؟

  • پاکستان کئی دہائیوں سے وقفے وقفے سے اپنی معیشت کو مستحکم کرتا رہا ہے، لیکن ہر بار اسے یہ احساس ہوا کہ استحکام کے اس عمل نے اس کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں بہت کم کردار ادا کیا
شائع اپ ڈیٹ

گزشتہ ہفتے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے عملے اور پاکستان کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ طے پا گیا۔ عملے کی سطح پر طے پانے والا یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ جیسے جیسے یہ مرحلہ قریب آ رہا ہے، اس حوالے سے استعمال ہونے والی زبان پہلے سے مانوس دکھائی دے رہی ہے۔

سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھیں۔ شرحِ مبادلہ میں لچک برقرار رکھیں۔ مطلوبہ بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کریں۔ توانائی کی قیمتوں کو لاگت کے مطابق بنانے کے لیے اصلاحات جاری رکھیں۔

یہ کوئی نئی ہدایات نہیں ہیں۔ یہ انہی چار پالیسی اقدامات کی مختلف شکلیں ہیں جن کا پاکستان کو معاشی مشکلات کے دوران بارہا سامنا کرنا پڑا ہے، مانیٹری پالیسی میں سختی، مالیاتی استحکام، مارکیٹ کے طے کردہ شرحِ مبادلہ کا نظام اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ۔

پاکستان کئی دہائیوں سے وقفے وقفے سے اپنی معیشت کو مستحکم کرتا رہا ہے، لیکن ہر بار اسے یہ احساس ہوا کہ استحکام کے اس عمل نے اس کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں بہت کم کردار ادا کیا، حالانکہ یہی صلاحیت اگلے معاشی بحران کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

درحقیقت، مئی 2026 میں اپنے دورے کے دوران بھی آئی ایم ایف نے توانائی کے شعبے میں مزید اصلاحات کے ساتھ ساتھ مناسب حد تک سخت مانیٹری پالیسی، شرحِ مبادلہ میں لچک اور مالیاتی استحکام کا عمل جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

تازہ ترین جائزہ ایک ایسے سوال پر غور کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے جس سے عموماً اگلے کارکردگی کے معیار کو پورا کرنے کی عجلت میں گریز کیا جاتا ہے: کیا یہ پالیسیاں درحقیقت پاکستان میں پائی جانے والی مہنگائی کی نوعیت اور معیشت کے ڈھانچے کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہیں؟

آئی ایم ایف کا معاشی استحکام کا پروگرام ایک اہم لحاظ سے کامیاب رہا ہے۔ پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر بحال ہوئے۔ زرمبادلہ کی منڈی مستحکم ہوئی۔ بالآخر مہنگائی میں کمی آئی۔ ملک 2023 میں جس معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا، وہاں سے پیچھے ہٹنے میں کامیاب رہا۔

لیکن معاشی استحکام اور ترقی دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ پاکستان کئی دہائیوں سے وقفے وقفے سے اپنی معیشت کو مستحکم کرتا رہا ہے، لیکن ہر بار اسے یہ احساس ہوا کہ استحکام کے اس عمل نے اس کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں بہت کم کردار ادا کیا، حالانکہ یہی صلاحیت اگلے معاشی بحران کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ معیشت ترقی کرتی ہے، بیرونی ادائیگیوں کی حد سے ٹکرا جاتی ہے، سست پڑ جاتی ہے، دوبارہ آئی ایم ایف سے رجوع کرتی ہے، طلب کو دباتی ہے، استحکام حاصل کرتی ہے اور پھر اسی چکر کا آغاز ہو جاتا ہے۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی مریض کو ہر مرتبہ بخار ہونے پر پیراسیٹامول تجویز کر دی جائے، مگر یہ جاننے کی کوشش نہ کی جائے کہ بخار بار بار کیوں لوٹ آتا ہے۔

اس طرزِ فکر کی فکری بنیادیں وسیع تر واشنگٹن اتفاقِ رائے کی روایت میں پیوست ہیں، جس میں مالیاتی نظم و ضبط، منڈیوں کو آزاد بنانا، مسابقتی شرحِ مبادلہ، نجکاری اور اس یقین کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ معیشت میں قیمتوں اور ترغیبات کی درستگی ترقی کی بنیادیں فراہم کرتی ہے۔ ان میں سے بیشتر اقدامات کے پیچھے منطق موجود ہے۔ کوئی حکومت مسلسل اتنا خرچ نہیں کر سکتی جتنا اس کے پاس موجود نہ ہو۔ شرحِ مبادلہ کو مستقل طور پر مصنوعی سطح پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ خسارے میں چلنے والے توانائی کے نظاموں کو لامتناہی طور پر مالی واجبات جمع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب معاشی استحکام کے روایتی اصول درست تشخیص کا متبادل بن جاتے ہیں۔

مانیٹری پالیسی ہی کو دیکھ لیجیے۔ شرحِ سود بڑھانے کے حق میں درسی کتب میں پیش کی جانے والی دلیل بالکل سادہ ہے۔ جب معیشت اس لیے ضرورت سے زیادہ گرم ہو رہی ہو کہ گھرانے اور کاروباری ادارے بہت زیادہ خرچ کر رہے ہوں، تو قرض لینے کی لاگت بڑھانے سے کھپت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ مجموعی طلب کم ہو جاتی ہے۔ قیمتوں پر دباؤ میں کمی آتی ہے۔ لیکن اس طریقۂ کار کا مؤثر ہونا اس مفروضے پر منحصر ہے کہ زیرِ علاج مہنگائی کی ایک اہم وجہ ضرورت سے زیادہ طلب ہو۔

پاکستان میں مہنگائی کے ادوار میں بارہا رسد سے متعلق عوامل کا بڑا حصہ رہا ہے، جن میں عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتیں، درآمدی ایندھن، غذائی اشیا کی قلت، حکومت کی جانب سے مقرر کردہ بجلی اور گیس کی قیمتیں، ٹیکسوں اور شرحِ مبادلہ میں گراوٹ شامل ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی اپنی تحقیق بھی اس کی وضاحت کرتی ہے۔ مہنگائی کی حرکیات کے جائزے سے معلوم ہوا کہ 1992 سے 2011 کے دوران مہنگائی میں ہونے والی تبدیلیوں میں رسد کے جھٹکوں کا حصہ 48 فیصد تھا، جبکہ حقیقی طلب کے جھٹکوں کا حصہ صرف 10 فیصد رہا۔ اسٹیٹ بینک کی نسبتاً حالیہ تحقیق میں بھی عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں، زر کی رسد اور مالیاتی پالیسی کو تاریخی طور پر مہنگائی کے اہم محرکات میں شمار کیا گیا ہے، جبکہ بعض ادوار میں شرحِ مبادلہ کے بھی نمایاں اثرات سامنے آئے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں، پاکستان میں مہنگائی نہ تو مکمل طور پر ایک مانیٹری معاملہ ہے اور نہ ہی اس کی واحد وجہ رسد سے متعلق عوامل ہیں۔ تاہم، مہنگائی کے ہر دور کو اس طرح دیکھنا جیسے اس کی بنیادی وجہ مقامی طلب میں ضرورت سے زیادہ اضافہ ہو، اتنا ہی ناقابلِ دفاع مؤقف ہے۔

2023-24 کا تجربہ خاص طور پر سبق آموز ہے۔ پاکستان نے مالی سال 2024 کا آغاز 22 فیصد شرحِ سود کے ساتھ کیا۔ تقریباً پورے مالی سال کے دوران مانیٹری پالیسی غیر معمولی حد تک سخت رہی۔ اس کے باوجود مالی سال 2024 میں اوسط مہنگائی 23.4 فیصد رہی۔

اس کی وجہ کیا تھی؟ اسٹیٹ بینک خود کہتا ہے کہ سال کی پہلی ششماہی کے دوران حکومت کی جانب سے مقرر کردہ غذائی اشیا اور توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے، شرحِ مبادلہ میں گراوٹ اور زیادہ ٹیکسوں و محصولات نے مہنگائی میں اضافہ کیا۔ اسٹیٹ بینک واضح طور پر تسلیم کرتا ہے کہ ان پیش رفتوں نے مقامی طلب میں پالیسی کے ذریعے پیدا کی گئی کمزوری کے اثرات کو جزوی طور پر زائل کر دیا۔ توانائی کی مہنگائی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ صرف گیس کی قیمتوں میں اضافے نے مالی سال 2024 کے دوران شہروں میں مجموعی مہنگائی میں تقریباً 20 فیصد حصہ ڈالا۔

یہ پالیسی کے حوالے سے ایک غیر معمولی تضاد ہے۔ پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین شرحِ سود میں سے ایک کے ذریعے طلب کو پہلے ہی دبایا جا رہا تھا، جبکہ معاشی ایڈجسٹمنٹ پروگرام کے دیگر اجزا بیک وقت بجلی، گیس اور دیگر اخراجات میں اضافہ کر رہے تھے۔

اس پر عموماً ثانوی اثرات (سیکنڈ راؤنڈ ایفیکٹس) کی دلیل دی جاتی ہے۔ اس معاملے میں ایک جائز معاشی دلیل موجود ہے۔ مرکزی بینک تیل، گندم یا بجلی پیدا نہیں کر سکتا، لیکن وہ اس کوشش میں کردار ادا کر سکتا ہے کہ رسد کو پہنچنے والا ابتدائی دھچکا مہنگائی سے متعلق توقعات میں مستقل جگہ نہ بنا لے اور اجرتوں سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں تک نہ پھیل جائے۔ تاہم، ثانوی اثرات کو مہنگائی کے اصل سبب سے قطع نظر مانیٹری پالیسی سخت کرنے کے لیے ہر موقع پر استعمال ہونے والی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

اگر ٹیرف بڑھانے کے باعث بجلی مہنگی ہو جائے تو شرحِ سود میں اضافہ بجلی سستی نہیں کرتا۔ اگر روپے کی قدر میں کمی کے باعث درآمدی ایندھن مہنگا ہو جائے تو شرحِ سود بڑھانے سے پاکستان میں تیل کی مقامی رسد میں اضافہ نہیں ہوتا۔ اگر گندم کی قلت کے باعث آٹے کی قیمت بڑھ جائے تو کاروباری اداروں کے لیے ورکنگ کیپیٹل مہنگا کرنے سے گندم کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے یہ اقدامات کسی اور چیز کو دباتے ہیں، اور وہ ہے معاشی سرگرمی۔

اس بات کے شواہد بھی طویل عرصے سے موجود ہیں کہ پاکستان میں مانیٹری پالیسی کے اثرات معیشت تک پہنچنے کا طریقۂ کار ان ترقی یافتہ معیشتوں جیسا نہیں، جہاں سے مانیٹری پالیسی کے بیشتر روایتی نظریات اخذ کیے گئے ہیں۔ احسان چوہدری، اسد جان اور حمزہ ملک کی 2015 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روایتی ویکٹر آٹو ریگریسو (وی اے آر) تخمینوں کے مطابق پاکستان میں مانیٹری پالیسی کے جھٹکوں کے مہنگائی اور پیداوار دونوں پر معمولی اثرات مرتب ہوئے۔ اس سے مانیٹری پالیسی کے اثرات معیشت تک منتقل ہونے کے نظام کی افادیت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ بعد ازاں اسٹیٹ بینک کی تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ نظام بہتر ہوا ہے، خصوصاً قرضوں کے ذریعے اثرات منتقل ہونے کے حوالے سے۔ لیکن یہ پیش رفت خود ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے: سخت مانیٹری پالیسی کے اثرات بڑی حد تک قرضوں کی فراہمی محدود کرنے کے ذریعے معیشت تک پہنچتے ہیں۔

اور قرضوں کی فراہمی محدود کرنے کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ کاروباری ادارے توسیعی منصوبے مؤخر کر دیتے ہیں۔ ورکنگ کیپیٹل مہنگا ہو جاتا ہے۔ سرمایہ کاری کم پُرکشش رہ جاتی ہے۔ تعمیراتی سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں۔ صنعتی پیداواری صلاحیت جمود کا شکار رہتی ہے۔ پھر ہم حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان ترقی کیوں نہیں کر پاتا۔

یہی تضاد مالیاتی پالیسی میں بھی موجود ہے۔ پاکستان کو بلاشبہ مالیاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایسا ملک جس کا ٹیکس نیٹ مسلسل محدود ہو، مالیاتی خسارے برقرار رہیں اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے بھاری رقوم درکار ہوں، وہ غیر معینہ مدت تک اسی صورتِ حال کو جاری نہیں رکھ سکتا۔ مالیاتی پائیداری کا مطالبہ کرنے میں آئی ایم ایف درست ہے۔

لیکن ساختی مالیاتی اصلاحات اور مالیاتی اخراجات میں کٹوتی کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ ساختی اصلاحات ٹیکس نیٹ کو وسعت دیتی ہیں، ان آمدنیوں اور اثاثوں پر ٹیکس عائد کرتی ہیں جن پر اب تک کم ٹیکس لگایا گیا ہے، سرکاری اداروں میں اصلاحات کرتی ہیں، مالی وسائل کے ضیاع کو کم کرتی ہیں اور اخراجات کا رخ پیداواری صلاحیت بڑھانے کی طرف موڑتی ہیں۔ اس کے برعکس، مالیاتی اخراجات میں کٹوتی کا طریقہ یہ ہے کہ جہاں سے ٹیکس وصول کرنا آسان ہو، وہاں ٹیکس بڑھا دیا جائے اور اخراجات کو اس حد تک محدود کر دیا جائے کہ مطلوبہ بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل ہو سکے۔

دونوں طریقوں سے حسابی گوشوارے بہتر ہو سکتے ہیں، لیکن معیشت کو صرف ایک طریقہ بدلتا ہے۔ جب سخت مانیٹری پالیسی کے ساتھ بیک وقت مالیاتی استحکام کے لیے اخراجات محدود کیے جاتے ہیں تو ایک منفی چکر پیدا ہو سکتا ہے۔ سرکاری اخراجات محدود رہتے ہیں، جبکہ مہنگے قرضوں کے باعث نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ معاشی نمو کمزور پڑ جاتی ہے۔ معاشی سرگرمیوں میں کمی سے ممکنہ ٹیکس بیس بھی سکڑ جاتا ہے، جس سے مستقبل میں محصولات بڑھانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ ترقیاتی اخراجات پر مزید کٹوتیاں کی جاتی ہیں، پیداواری صلاحیت کی رفتارِ نمو سست پڑ جاتی ہے اور بالآخر وہی مالیاتی کمزوری دوبارہ سامنے آ جاتی ہے۔

معاشی نمو کو پہنچنے والا نقصان محض نظریاتی نہیں ہے۔ اپریل 2025 میں عالمی بینک نے نشاندہی کی تھی کہ مسلسل سخت معاشی پالیسیوں کے باعث پاکستان کی اقتصادی ترقی کمزور رہی، جبکہ اس نے پیش گوئی کی تھی کہ نمو پر دباؤ برقرار رہے گا، کیونکہ مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں میں سختی اب بھی مالیاتی حفاظتی ذخائر دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے ضروری تھی۔

یہی معاشی استحکام میں پوشیدہ بنیادی سمجھوتا ہے، آج استحکام کے بدلے آج ہی کچھ معاشی نمو کی قربانی۔ بعض اوقات یہ سمجھوتا ضروری ہوتا ہے۔ 2023 میں یقیناً ایسا ہی تھا۔ لیکن اسے پاکستان کا مستقل ترقیاتی ماڈل نہیں بننا چاہیے۔

اس کے بعد شرحِ مبادلہ کا معاملہ آتا ہے۔ شاید پاکستان کی معاشی بحث میں کوئی دوسرا عدد حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ (ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ، آر ای ای آر) سے زیادہ غلط فہمیوں کا شکار نہیں۔ آر ای ای آر میں پاکستان کے تجارتی شراکت داروں کی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ قیمتوں کی نسبتی سطحوں کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ تاہم، عوامی بحث میں 100 کے عدد کو تقریباً ایک پراسرار اہمیت حاصل ہو گئی ہے، گویا آر ای ای آر کا 100 ہونا معاشی توازن کی علامت ہے اور اس سے اوپر کوئی بھی سطح یہ ثابت کرتی ہے کہ روپیہ اپنی حقیقی قدر سے زیادہ مضبوط ہے۔ ایسا نہیں ہے۔

اسٹیٹ بینک اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔ پاکستان میں آر ای ای آر کے لیے استعمال ہونے والی موجودہ سیریز میں 2010 کی اوسط قدر کو 100 قرار دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک واضح طور پر خبردار کرتا ہے کہ آر ای ای آر کی 100 کی سطح کو شرحِ مبادلہ کا متوازن یا حقیقی سطح کا پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ 100 سے اوپر یا نیچے جانے کا محض یہ مطلب ہے کہ حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ میں 2010 کی اوسط کے مقابلے میں تبدیلی آئی ہے۔ کسی کرنسی کی قدر حقیقتاً غیر متوازن ہے یا نہیں، اس کا تعین کرنے کے لیے پیداواری صلاحیت، بیرونی ادائیگیوں کی پائیداری، مالیاتی حالات، آبادی کے ڈھانچے اور دیگر بنیادی معاشی عوامل کا تجزیہ ضروری ہے۔

2010 میں پاکستان کی معیشت میں کوئی ایسی غیر معمولی یا مثالی کیفیت نہیں تھی جسے ہر لحاظ سے بہترین قرار دیا جا سکے۔ لہٰذا، ایسا کوئی معاشی قانون موجود نہیں جو اس بات کا تقاضا کرتا ہو کہ حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ (آر ای ای آر) لازماً 100 پر واپس آئے۔ شرحِ مبادلہ کو منڈی کی قوتوں کے مطابق طے ہونے دینا ایک بات ہے، جبکہ کسی من مانے اشاریے کی بنیادی سطح کو پالیسی کا ہدف بنا لینا بالکل دوسری بات ہے۔ پاکستان کے لیے یہ فرق انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ روپے کی قدر میں کمی خود بھی مہنگائی کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستان ایندھن، مشینری، صنعتی خام مال اور دیگر ضروری اشیا درآمد کرتا ہے۔ جب روپے کی قدر گرتی ہے تو ان درآمدات کی مقامی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ پھر یہ اضافی لاگت پیداواری مراحل سے گزرتی ہوئی بالآخر صارف تک پہنچ جاتی ہے۔

روپے کی قدر میں کمی کا مبینہ فائدہ برآمدات کا زیادہ مسابقتی ہو جانا ہے۔ لیکن صرف روپے کی قدر گھٹانے سے برآمدی شعبہ وجود میں نہیں آ سکتا۔ اگر کوئی برآمد کنندہ مشینری، کیمیکلز، ایندھن یا درمیانی درجے کے پیداواری خام مال کی درآمد کرتا ہے تو روپے کی قدر میں کمی بیک وقت اس کی پیداواری لاگت بھی بڑھا دیتی ہے۔ مزید یہ کہ اگر پاکستان میں پیداواری صلاحیت، بنیادی ڈھانچے، قابلِ اعتماد توانائی، مالی وسائل تک رسائی اور ایسی جدید مصنوعات کی کمی ہو جن کی عالمی منڈیوں میں حقیقی طلب موجود ہے، تو روپے کو سستا کر دینے سے مسابقت کی صلاحیت جادوئی طور پر پیدا نہیں ہو جائے گی۔ شرحِ مبادلہ مختلف اشیا کی نسبتی قیمتوں کو تبدیل کر سکتی ہے، لیکن یہ صنعتی پالیسی کا متبادل نہیں بن سکتی۔

اس کے بعد چوتھی تجویز سامنے آتی ہے، توانائی کی قیمتیں۔ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں موجود خرابیوں سے کوئی سنجیدہ مبصر انکار نہیں کر سکتا۔ گردشی قرضے، نقصانات، بجلی چوری، غیر مؤثر تقسیم کار کمپنیاں، صلاحیت کی ادائیگیاں اور ناقص انتظامی نظام ایسے مسائل ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن شعبے کی غیر مؤثریت کی لاگت پوری کرنے کے لیے بار بار ٹیرف بڑھانا، اس غیر مؤثریت کو ختم کرنے کے مترادف نہیں ہے۔

ایک بار پھر، مالی سال 2024 اس تضاد کو نہایت واضح انداز میں سامنے لاتا ہے۔ توانائی کے نرخوں میں ردوبدل نے خود مہنگائی میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس کے بعد مہنگائی پر قابو پانے کے لیے جزوی طور پر مانیٹری پالیسی کو سخت رکھا گیا۔ ایڈجسٹمنٹ کے ایک حصے نے قیمتیں بڑھائیں، جبکہ دوسرے حصے نے اس کے نتائج کو محدود کرنے کے لیے معیشت کو دبا دیا۔

اس طریقے سے معاشی استحکام تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے اقتصادی ترقی کی حکمتِ عملی قرار دینا مشکل ہے۔

یہیں سے پاکستان میں ضرورت سے زیادہ کھپت کے مبینہ مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ جب بھی معاشی نمو بحال ہوتی ہے، پاکستان کی بحالی تیزی سے کھپت پر مبنی ہو جاتی ہے۔ درآمدات بڑھتی ہیں، بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ پیدا ہوتا ہے اور پالیسی ساز یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ پاکستانی ضرورت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اور بہت کم بچت کرتے ہیں۔ لیکن شاید ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ وہ اپنی کمائی کا اتنا زیادہ حصہ خرچ کیوں کرتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مالی سال 2025-24 کے لیے گھریلو بچت سے متعلق تجزیے میں اس کا ایک بالکل واضح جواب دیا گیا ہے: آمدنی۔ اس تجزیے کے مطابق، آمدنی کے لحاظ سے سب سے نچلے چوتھائی حصے میں شامل گھرانے اوسطاً اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اور بچت کرنے کے بجائے اپنی جمع پونجی استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ آمدنی والے گھرانے اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ بچت کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کی فی کس آمدنی ہم مرتبہ ممالک کے مقابلے میں پیچھے رہی ہے اور حالیہ برسوں میں اجرتوں میں اضافہ مہنگائی کی رفتار کے مطابق نہیں ہو سکا۔ اسٹیٹ بینک نے نتیجہ اخذ کیا کہ ان رجحانات کو تبدیل کیے بغیر گھریلو بچت کے امکانات روشن نہیں ہو سکتے۔

گھریلو آمدنی اور اخراجات کے تازہ ترین اعدادوشمار اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مالی سال 2025-24 کے اعدادوشمار کے مطابق، ایک گھرانے کی اوسط ماہانہ آمدنی 82,179 روپے تھی، جبکہ اوسط ماہانہ اخراجات 79,150 روپے تھے۔ لوگ وہ آمدنی نہیں بچا سکتے جو ان کے پاس موجود ہی نہ ہو۔ ایسے گھرانے کے لیے جو اپنی زیادہ تر آمدنی خوراک، کرائے، بجلی، ٹرانسپورٹ اور تعلیم پر خرچ کرتا ہو، کھپت کو معاشی بے ضابطگی کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تو بقا کی ضرورت ہے۔

لہٰذا، پاکستان بار بار کھپت پر مبنی معاشی نمو کی طرف لوٹتا ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس نے کبھی اس کے متبادل کو کافی حد تک فروغ نہیں دیا: یعنی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات پر مبنی ترقی۔ اور یہیں معاشی استحکام کے ساتھ حد سے زیادہ وابستگی اپنے ہی مقصد کے خلاف کام کرنے لگتی ہے۔

اگر سرمایہ کاری کو طویل عرصے تک دبایا جائے تو نئی پیداواری صلاحیت پیدا ہونے کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ اگر ترقیاتی اخراجات کو طویل عرصے تک سکیڑا جائے تو بنیادی ڈھانچہ زوال پذیر ہونے لگتا ہے۔ توانائی کو ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا کر دیا جائے تو صنعت اپنی مسابقت کھو دیتی ہے۔ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے بغیر بار بار روپے کی قدر میں کمی کی اجازت دی جائے تو درآمدی مہنگائی دوبارہ لوٹ آتی ہے۔ گھریلو آمدنی کم رکھی جائے تو بچت بھی کم رہتی ہے۔

پھر جب بالآخر پابندیوں میں نرمی کی جاتی ہے تو معاشی نمو کو آگے بڑھانے کے لیے کیا باقی رہ جاتا ہے؟ کھپت۔

پاکستان کا المیہ یہ نہیں کہ آئی ایم ایف کی چار تجاویز کبھی مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔ اکثر یہ بالکل وہی نتائج دیتی ہیں جن کے حصول کے لیے انہیں وضع کیا گیا ہوتا ہے۔ یہ معیشت کو مستحکم کرتی ہیں۔ روپے کی قدر میں گراوٹ رک جاتی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ جاتے ہیں۔ کرنٹ اکائونٹ کی صورتِ حال بہتر ہو جاتی ہے۔ بالآخر مہنگائی میں کمی آتی ہے۔ مالیاتی اعدادوشمار بہتر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ فوری بحران ٹل جاتا ہے۔

لیکن بار بار معاشی سرگرمیوں کو محدود کرکے حاصل کیا جانے والا استحکام ترقی نہیں ہے۔ 2023 کے ہنگامی معاشی پروگرام کے تین سال بعد پاکستان نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بڑھا لیے ہیں اور مجموعی معاشی استحکام بھی کسی حد تک بحال کر لیا ہے۔ اس کے باوجود مالی سال 2026 کے لیے عارضی شرحِ نمو صرف 3.7 فیصد رہی۔ مزید یہ کہ نمایاں کمی کے بعد مہنگائی دوبارہ بڑھ کر اگست 2026 میں سالانہ بنیاد پر 11.1 فیصد ہو گئی۔

مریض کی حالت مستحکم ہے، لیکن مریض صحت مند نہیں ہے۔

لہٰذا، جب پاکستان آئی ایم ایف کے ایک اور جائزے کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے تو بحث کا محور محض یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آیا حکومت نے ایک اور مالیاتی ہدف پورا کر لیا ہے یا مانیٹری پالیسی کافی حد تک سخت ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کہیں ہم ایک بار پھر بحران کے علاج کو معیشت کے علاج کے مترادف تو نہیں سمجھ رہے۔

پاکستان کو 2023 میں آئی ایم ایف کی ضرورت تھی۔ ممکن ہے آج بھی اسے آئی ایم ایف کی ضرورت ہو۔ لیکن کئی دہائیوں تک اسی ادارے سے رجوع کرنے، استحکام کے تقریباً انہی اقدامات پر مبنی پروگراموں کو مختلف شکلوں میں نافذ کرنے اور ہر بار انہی ساختی کمزوریوں کے ساتھ ابھرنے کے بعد پاکستان کو یہ سوال اٹھانے کا حق حاصل ہو گیا ہے کہ آیا اس نسخے کو مریض کی مخصوص حالت اور ضروریات کے مطابق مزید بہتر بنانے کی ضرورت تو نہیں۔


یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتا۔

Comments

200 حروف