ہنگامی اختیارات اور وفاقیت : آئینی تجزیہ
- آئینِ پاکستان کے تحت موجودہ حالات میں وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں قانونی طور پر ہنگامی حالت نافذ نہیں کرسکتی۔ ایسا اقدام غیر آئینی ہوگا اور اعلیٰ عدلیہ میں اسے کالعدم قرار دیے جانے کا امکان ہے
11 اکتوبر اتوار کے روز یہ دیکھنے کے بعد کہ کابینہ نے اجلاس منعقد کیا اور صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے ایک متنازع قانون کی منظوری دی، جس کے نتیجے میں عوام کے ووٹوں سے منتخب واحد حکومت کو ہٹا دیا گیا،
میں آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973 کے تحت یہ تجزیہ کرنے کی کوشش کروں گا کہ آیا موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال میں وفاقی حکومت قانونی طور پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے یا نہیں۔
میرا تجزیہ آرٹیکل 232 اٹھارہویں آئینی ترمیم اور پاکستان کے وفاقی ڈھانچے سے متعلق عدالتی تشریحات کے ارتقا پر مرکوز ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے بغیر اندرونی خلفشار کی بنیاد پر خیبر پختونخوا میں آئینی طور پر ایمرجنسی نافذ نہیں کر سکتی اور موجودہ حالات وفاقی حکومت کی جانب سے یک طرفہ اقدام کے لیے آئینی معیار پر پورا نہیں اترتے۔
ایمرجنسی کے اختیارات پاکستان کے آئینی نظام کے تحت وفاق کے پاس موجود سب سے زیادہ مداخلت آمیز اختیار ہیں۔ ان اختیارات کا استعمال وفاقی نظام میں اختیارات کے توازن کو تبدیل کرتا ہے، بنیادی حقوق کو محدود کرتا ہے اور اقتدار کو اسلام آباد میں مرکزی حیثیت دے دیتا ہے۔ تاریخی طور پر ایمرجنسی کے اعلانات کو صوبائی خودمختاری میں وفاقی مداخلت کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، جس کے سیاسی نتائج اکثر نہایت گہرے اور دور رس ثابت ہوئے ہیں۔
میں موجودہ سیاسی کشمکش، انتظامی بدعنوانی کے الزامات اور سکیورٹی خدشات پر مبنی ماحول میں یہ تحریر اس سوال کا جواب دینے کے لیے پیش کر رہا ہوں کہ آیا وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں آئینی طور پر ایمرجنسی نافذ کی یا نہیں۔ میں اس سوال کا جائزہ اصولی اور عدالتی نظائر کی بنیاد پر لینے کی کوشش کروں گا۔
آرٹیکل 232(1) صدرِ مملکت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر وہ مطمئن ہوں کہ ایسی سنگین ہنگامی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے جس میں جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے اندرونی خلفشار کے باعث پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہے، تو وہ ہنگامی حالت کا اعلان کر سکتے ہیں لیکن اس شق کے ساتھ دوسابق ، یعنی شرائط، منسلک ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ اگر معاملہ اندرونی خلفشار کا ہو تو ایسا اعلان اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک صوبائی اسمبلی اس بارے میں قرارداد منظور نہ کر دے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اگر صدر نے کابینہ کے مشورے کے بغیر ازخود کارروائی کی ہو تو اس معاملے کو دس دن کے اندر پارلیمان کے سامنے پیش کرنا لازم ہے۔
مندرجہ بالا سے واضح ہوتا ہے کہ آئین نے صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنانے کا ارادہ کیا ہے اور اندرونی خلفشار کی صورت میں وفاقی اختیار کو محدود کر دیا ہے۔ اس طرح وفاقیت کو آئین کے بنیادی اصول کے طور پر تقویت دی گئی ہے۔
بظاہر جنگ یا بیرونی جارحیت کا کوئی واضح خطرہ موجود نہیں۔ غالباً وفاقی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ دارالحکومت تک پہنچنے کے لیے کیا جانے والا لانگ مارچ اندرونی خلفشار کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تاہم جنگ یا بیرونی جارحیت ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر وفاق یک طرفہ طور پر کارروائی کر سکتا ہے۔ اندرونی خلفشار، جو تاریخی طور پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی بنیاد رہی ہے، اب صوبائی رضامندی کا تقاضا کرتی ہے۔
سپریم کورٹ نے بارہا اس امر پر زور دیا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم نے وفاقیت کو آئین کے بنیادی ساختی اصول کے طور پر مضبوط کیا ہے۔ہم ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی بنام وفاقِ پاکستان (پی ایل ڈی 2015 سپریم کورٹ 401) کے فیصلے کو نظرانداز نہیں کر سکتے، جس میں عدالت نے وفاقیت کو فروغ دینے والی آئینی ترامیم کے احترام کی توثیق کی۔ اسی طرح محمود خان اچکزئی بنام وفاقِ پاکستان (پی ایل ڈی 1997 سپریم کورٹ 426) کا مقدمہ بھی، اگرچہ اٹھارہویں ترمیم سے قبل کا ہے، وفاقیت کو آئین کے بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔
یہ تمام فیصلے مجموعی طور پر اس اصول کو تقویت دیتے ہیں کہ صوبائی خودمختاری کو نظرانداز کرنے کی وفاقی کوشش، خصوصاً ہنگامی اختیارات کے استعمال کے ذریعے، سخت عدالتی جانچ کے تابع ہونی چاہیے۔
موجودہ بحران کے تناظر میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخوا میں جنگ یا بیرونی جارحیت کی صورتِ حال موجود ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے پر ہمیں ایسی کوئی عوامی طور پر دستیاب شہادت نظر نہیں آتی جس سے ظاہر ہو کہ خیبر پختونخوا اس وقت کسی غیر ملکی حملے، سرحد پار فوجی کارروائی یا اعلان شدہ جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔
لہٰذا واحد قابلِ عمل بنیاد اندرونی خلفشار ہی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ایسا اندرونی خلفشار موجود ہے جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو۔ حتیٰ کہ اگر اندرونی خلفشار موجود بھی ہو، تب بھی آئین خیبر پختونخوا اسمبلی کی قرارداد کو لازمی قرار دیتا ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال اور اسمبلی کی تشکیل کے پیشِ نظر ایسی قرارداد کا منظور ہونا انتہائی بعید معلوم ہوتا ہے۔
پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وفاقی حکومت صوبائی اسمبلی کو نظرانداز کر سکتی ہے؟ جواب قطعی طور پر نہیں ہے۔ آئینی متن واضح اور لازمی ہے۔ صدر صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے بغیر ہنگامی حالت کا اعلان نہیں کر سکتے۔ الفاظ “shall not” ممانعت پر دلالت کرتے ہیں اور صدر کے لیے کوئی صوابدیدی اختیار نہیں چھوڑتے۔ لہٰذا اس شرط سے بچنے یا اسے نظرانداز کرنے کی کوئی بھی کوشش آرٹیکل 232 کے خلاف، آئین سے متجاوز، اٹھارہویں ترمیم اور وفاقی ڈھانچے کی خلاف ورزی اور فوری عدالتی چیلنج کے قابل ہو گی۔
اب گورنر راج کے نفاذ کا سوال آتا ہے، کیونکہ بعض لوگ یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ آرٹیکل 232 کے بجائے آرٹیکل 234 استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت وفاقی حکومت صوبائی اختیارات اسی وقت سنبھال سکتی ہے جب صوبے کے امور آئین کے مطابق جاری رکھنا ممکن نہ رہیں۔
تاہم آرٹیکل 234 کوئی عام ہنگامی شق نہیں ہے اور اسے آرٹیکل 232 کو نظرانداز کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ آئینی نظام کی واضح اور قابلِ ثبوت ناکامی ضروری ہے۔ مزید برآں وفاقِ پاکستان بنام سندھ (پی ایل ڈی 1994 سپریم کورٹ 738) کے فیصلے کے تحت یہ اقدام عدالتی نظرِثانی کے تابع رہتا ہے۔ لہٰذا آرٹیکل 234 کو ہنگامی اختیارات کے نفاذ کے لیے پچھلے دروازے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کے اعلانات عدالتی جائزے کے تابع ہیں۔ اس ضمن میں اسما جیلانی بنام حکومتِ پنجاب (پی ایل ڈی 1972 سپریم کورٹ 139) اور سید ظفر علی شاہ بنام جنرل پرویز مشرف (پی ایل ڈی 2000 سپریم کورٹ 869) کے مقدمات کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ ہنگامی اختیارات کو غیر آئینی اقدامات کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت ہنگامی حالت کے نفاذ کی بنیاد بننے والے حقائق کا جائزہ بھی لے سکتی ہے۔
وفاقی نظام اور صوبائی خودمختاری کو عدالتی تحفظ حاصل ہے۔ لہٰذا آئین کے آرٹیکل 232 میں مقررہ شرائط پوری کیے بغیر نافذ کی جانے والی کسی بھی ہنگامی حالت کو عدالت کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
1۔ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت وفاقی حکومت پہلے شرط کی روشنی میں صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے بغیر خیبر پختونخوا میں اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ہنگامی حالت نافذ نہیں کرسکتی۔
2۔ ہنگامی حالت کے نفاذ کے لیے صدر کو کابینہ نے مشورہ دیا تھا، صدر نے آرٹیکل 232 کے دوسرے شرطیے کے تحت اپنے طور پر اقدام نہیں کیا۔ لہٰذا پارلیمنٹ پہلی شرط کو غیر مؤثر نہیں بنا سکتی۔
3۔ موجودہ حالات جنگ یا بیرونی جارحیت کے اس معیار پر پورا نہیں اترتے جس کی بنیاد پر وفاقی حکومت یک طرفہ طور پر کارروائی کرسکے۔
4۔ صوبے کی رضامندی کے بغیر ہنگامی حالت نافذ کرنے کی کوئی بھی کوشش غیر آئینی، اختیارات سے تجاوز کے مترادف اور عدالتی طور پر کالعدم قرار دیے جانے کے خطرے سے دوچار ہوگی۔
5۔ آرٹیکل 234 کو آرٹیکل 232 میں دی گئی آئینی ضمانتوں سے بچنے یا انہیں نظرانداز کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
6۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی ڈھانچہ صوبائی خودمختاری کا تحفظ کرتا ہے اور وفاق کی جانب سے سیاسی محرکات کے تحت صوبائی معاملات میں مداخلت کی راہ روکتا ہے۔
میری محتاط قانونی رائے میں آئینِ پاکستان کے تحت موجودہ حالات میں وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں قانونی طور پر ہنگامی حالت نافذ نہیں کرسکتی۔ ایسا اقدام غیر آئینی ہوگا اور اعلیٰ عدلیہ میں اسے کالعدم قرار دیے جانے کا امکان ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026























Comments