جی 24 اجلاس، پاکستان کا عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات پر زور
- مشکل معاشی اصلاحات کرنے والے ممالک کو بروقت معاونت فراہم کی جائے، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس 2026 کے موقع پر منعقدہ وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس میں جی 24 کے فرسٹ وائس چیئرمین کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے ترقی پذیر معیشتوں کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تقسیم تجارت اور سرمایہ کاری کو متاثر کررہی ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والے شدید جھٹکے ترقیاتی کامیابیوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، سخت مالی حالات مشکلات میں اضافہ کررہے ہیں اور ترقیاتی ضروریات کے لیے مالی وسائل کی کمی بھی بڑھتی جارہی ہے۔
انہوں نے جی 24 کے آئندہ چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گروپ کے اجتماعی اثرورسوخ کو مضبوط بنانے اور ترقی پذیر معیشتوں کے مفادات کو آگے بڑھانے کیلئے مؤثر کردار ادا کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے زور دیا کہ عالمی مالیاتی نظام کے ڈھانچے میں اصلاحات کو درپیش چیلنجز کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مشکل معاشی اصلاحات کرنے والے ممالک کو بروقت معاونت فراہم کی جائے، خصوصاً ایسے حالات میں جب انہیں ایسے بیرونی معاشی دھچکوں کا سامنا ہو جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں۔
محمد اورنگزیب نے جی 24 کے لیے تین ترجیحات بیان کیں جن میں عالمی مالیاتی نظام میں ترقی کو مرکزی حیثیت دینا، بریٹن ووڈز کے مالی اداروں کو زیادہ نمائندہ اور حالات کے تقاضوں کے مطابق جواب دہ بنانا اور ترقی پر مرکوز عالمی مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دینا شامل ہیں۔
انہوں نے نائیجیریا کی قیادت کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ نمائندہ، مستحکم اور ترقی پر مرکوز عالمی معاشی نظام کے قیام کے لیے رکن ممالک اور ادارہ جاتی شراکت داروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔
دریں اثنا عالمی بینک کے زیرِ اہتمام آبادیاتی تبدیلی کو انسانی سرمائے میں اضافے اور روزگار کے مواقع کی تخلیق میں تبدیل کرنا کے موضوع پر منعقدہ گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان میں تیزی سے بڑھتی آبادی کے مسئلے اور صحت، تعلیم اور روزگار پر اس کے اثرات سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور ایران کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے خواتین کی تعلیم، افرادی قوت میں ان کی شمولیت اور بچوں کی پیدائش کے درمیان مناسب وقفے سے متعلق آگاہی کیلئے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ رابطے کو اہم ترجیحات قرار دیا۔
انہوں نے وزیراعظم کی سربراہی میں قومی آبادی کونسل کے قیام کی تجویز پیش کی اور اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط اقدامات، مسلسل سیاسی عزم اور قابلِ پیمائش نتائج کے ذریعے مختلف اور منتشر اقدامات کو جامع حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جائے تاکہ آبادیاتی تبدیلی کو انسانی سرمائے میں اضافے اور روزگار کے بہتر مواقع میں تبدیل کیا جاسکے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کیلئے آبادیاتی فوائد سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور نجی شعبے کی قیادت میں ایسی معاشی ترقی ضروری ہے جو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے۔
انہوں نے نوجوانوں کی آمدن اور برآمدات میں اضافے کیلئے فری لانسنگ، آئی ٹی سے منسلک خدمات اور ڈیجیٹل مہارتوں کو اہم مواقع قرار دیا۔ انہوں نے آبادی، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں کو یکجا کرتے ہوئے ایک مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔























Comments