30 سے 40 ممالک کو ہنگامی مالی امداد دینے کے لیے بات چیت جاری ہے، عالمی بینک
- ڈیزل اور کھاد کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور ممکنہ طور پر شدید ال نینو موسمی اثرات نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں، صدر عالمی بینک
عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا ہے کہ ادارہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے 30 سے 40 ممالک کے ساتھ ممکنہ ہنگامی مالی امداد پر بات چیت کر رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے اجے بنگا نے کہا کہ عالمی معیشت اب تک خاصی مضبوط ثابت ہوئی ہے، جس کی ایک وجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں بڑی سرمایہ کاری اور تیل کی طلب و رسد میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ اسی باعث فروری کے اواخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی بینک کی جانب سے ابتدائی طور پر دستیاب کرائے گئے 25 ارب ڈالر کے ہنگامی فنڈ سے بہت کم ممالک نے رجوع کیا۔
تاہم ان کے مطابق ڈیزل اور کھاد کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور ممکنہ طور پر شدید ال نینو موسمی اثرات نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔
اجے بنگا نے کہا کہ ابتدائی 25 ارب ڈالر کے علاوہ عالمی بینک کے منظور شدہ منصوبوں کے وسائل کا رخ موڑ کر مزید 35 ارب ڈالر حاصل کیے جا سکتے ہیں، جس سے مجموعی طور پر 60 ارب ڈالر تک کی امداد دستیاب ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں بینک اپنی مالی معاونت بڑھا کر 100 ارب ڈالر تک لے جا سکتا ہے، جو کووڈ 19 کی وبا کے دوران تقسیم کیے گئے 70 ارب ڈالر سے زیادہ ہوگی۔
عالمی بینک کے تخمینوں کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو 2026 میں بیرونی قرض دہندگان کو تقریباً 400 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، جن میں ایک تہائی رقم صرف سود کی ادائیگیوں پر مشتمل ہے۔
اجے بنگا نے بتایا کہ عالمی بینک نے جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران نجی شعبے سے ریکارڈ 112 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 69 ارب ڈالر تھی۔ اس کے علاوہ بینک نے اپنے وسائل سے 123 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس سے مجموعی رقم 235 ارب ڈالر ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ارجنٹینا، بھارت، بنگلہ دیش اور انگولا سمیت مختلف ممالک میں دیکھا گیا، تاہم کم آمدنی والے ممالک میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔
اجے بنگا کے مطابق عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کا بوجھ کم کرنے اور مقامی محصولات بڑھانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ بینک قرضوں کی لاگت کم کرنے کے لیے ضمانتوں اور قرضوں کے تبادلے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے، تاکہ بچنے والے وسائل تعلیم، صحت، پانی اور ماحولیات پر خرچ کیے جا سکیں۔

























Comments