BR100 Decreased By (-1.05%)
BR30 Decreased By (-1.17%)
KSE100 Decreased By (-0.89%)
KSE30 Decreased By (-1.35%)
BAFL 55.19 Decreased By ▼ -1.11 (-1.97%)
BIPL 24.51 Decreased By ▼ -0.14 (-0.57%)
BOP 28.77 Decreased By ▼ -0.31 (-1.07%)
CNERGY 12.40 Decreased By ▼ -0.12 (-0.96%)
DFML 16.50 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
DGKC 181.70 Decreased By ▼ -2.68 (-1.45%)
FABL 91.44 Decreased By ▼ -0.69 (-0.75%)
FCCL 51.10 Decreased By ▼ -1.02 (-1.96%)
FFL 13.87 Decreased By ▼ -0.16 (-1.14%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.25 (-1.3%)
HBL 289.90 Decreased By ▼ -5.86 (-1.98%)
HUBC 194.00 Decreased By ▼ -6.15 (-3.07%)
HUMNL 9.14 Decreased By ▼ -0.24 (-2.56%)
KEL 5.95 Decreased By ▼ -0.10 (-1.65%)
LOTCHEM 26.30 Decreased By ▼ -0.08 (-0.3%)
MLCF 89.40 Decreased By ▼ -1.23 (-1.36%)
OGDC 302.99 Decreased By ▼ -3.13 (-1.02%)
PAEL 33.40 Decreased By ▼ -0.56 (-1.65%)
PIBTL 13.63 Increased By ▲ 0.11 (0.81%)
PIOC 232.12 Decreased By ▼ -3.34 (-1.42%)
PPL 217.39 Decreased By ▼ -1.55 (-0.71%)
PRL 92.85 Decreased By ▼ -0.22 (-0.24%)
SNGP 89.77 Decreased By ▼ -0.58 (-0.64%)
SSGC 22.70 Decreased By ▼ -0.36 (-1.56%)
TELE 7.06 Decreased By ▼ -0.11 (-1.53%)
TPLP 12.45 Increased By ▲ 0.07 (0.57%)
TRG 54.60 Decreased By ▼ -0.69 (-1.25%)
UNITY 7.68 Decreased By ▼ -0.05 (-0.65%)
WTL 0.98 Decreased By ▼ -0.01 (-1.01%)
کاروبار اور معیشت

مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی متاثر، پاکستان کا لیبیا سے خام تیل درآمد کرنے پر غور

  • وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک سے لیبیا کے وزیرِ تیل و گیس خلیفہ رجب عبدالصادق کی ملاقات
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے پیر کو کہا ہے کہ پاکستان نے مقامی ریفائنریوں کو تیل کی فراہمی کے ذرائع میں تنوع لانے کیلئے لیبیا سے خام تیل درآمد کرنے کے امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دی ہے۔

پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ پیشرفت سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 17ویں بین الاقوامی توانائی فورم (آئی ای ایف) کے وزارتی اجلاس کے موقع پر سامنے آئی۔

علی پرویز ملک نے لیبیا کے وزیرِ تیل و گیس خلیفہ رجب عبدالصادق سے دوطرفہ ملاقات کی جس میں تیل و گیس کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اپنے لیبیائی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان نے مقامی ریفائنریوں کو لیبیا سے خام تیل درآمد کرنے کے امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سمیت اہم بحری راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کی صورت میں متبادل ذرائع سے تیل کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے خام تیل کی درآمد کے ذرائع متنوع بنانا چاہتا ہے۔

خلیفہ رجب عبدالصادق نے پاکستان کو لیبیا کے لیے ایک اہم ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ لیبیا کی قومی تیل کمپنی کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ پاکستانی کمپنیوں کو خام تیل کی زیادہ مقدار فراہم کرے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ لیبیا اپنی ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے ریفائنریوں کو اپ گریڈ کرنے کے تجربے سے استفادہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ترکیہ کے وزیرِ توانائی الپ ارسلان بایراکتر نے بھی علی پرویز ملک سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ سندھ طاس میں ڈیٹا جمع کرنے کا کام شروع کرنے کے لیے ٹی پی اے او کے زلزلہ پیما بحری جہاز کی آمد کے موقع پر آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرنے کے منتظر ہیں۔

وفاقی وزیرِ پٹرولیم نے قطر کے وزیرِ توانائی سعد شیریدا الکعبی سے بھی ناشتے پر تفصیلی ملاقات کی جس میں ایل این جی کے شعبے میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

علی پرویز ملک سعودی عرب کے وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر بین الاقوامی توانائی فورم کے اجلاس میں شرکت کررہے ہیں۔

پائیدار توانائی کے حل میں سرمایہ کاری اور تجارت: توانائی کو صاف، قابلِ رسائی اور سستا بنانا کے عنوان سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی توانائی کا شعبہ سرمایہ کاری کے ایک نئے دور میں داخل ہورہا ہے جس میں توانائی کا تحفظ، سستے نرخوں پر فراہمی اور پائیداری کو بیک وقت آگے بڑھانا ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاری صرف قابلِ تجدید توانائی تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس میں ہائیڈروکاربنز، اہم معدنیات اور بجلی کے ترسیلی نظام اور پائپ لائنوں سمیت بنیادی ڈھانچے کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے 2026 میں عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کو درپیش غیر معمولی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات تیل اور گیس تک محدود نہیں رہے بلکہ جہاز رانی اور بیمہ کے شعبے بھی اس سے متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ درآمدی توانائی پر بھاری انحصار کے باوجود پاکستان نے حکومت کے اقدامات اور سعودی عرب، قطر اور کویت سمیت برادر ممالک کے تعاون سے اس بحران کا سامنا کیا۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان طویل مدتی توانائی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے اسٹریٹجک ذخائر کے قیام، عالمی معیار کی بانڈڈ ذخائر اسکیم، مقامی توانائی کی پیداوار میں اضافے، ریفائنریوں اور آئل ٹینک فارمز سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کی ترقی، مسابقتی بجلی و گیس مارکیٹوں اور ہدفی ریلیف کے طریقۂ کار پر کام کررہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تجارت کے نظام میں جدت اور پائیداری کے ساتھ توانائی کی سستی فراہمی، مساوات اور رسائی کے تقاضوں میں بھی توازن برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آئندہ نسلوں کے لیے توانائی کے تحفظ کے مشترکہ اہداف کے حصول کی خاطر آئی ای ایف کے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔

Comments

200 حروف