اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان، انڈیکس 900 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا
- بینچ مارک انڈیکس 944.43 پوائنٹس یا 0.57 فیصد اضافے سے 166,068.84 پوائنٹس پر ٹریڈ کررہا تھا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو کاروبار کے آغاز پر خریداری کا رجحان بحال ہوگیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی منٹوں میں 900 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
صبح 9 بج کر 40 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 944.43 پوائنٹس یا 0.57 فیصد اضافے سے 166,068.84 پوائنٹس پر ٹریڈ کررہا تھا۔
آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے نمایاں حصص میں لکی سیمنٹ ، ڈی جی خان سیمنٹ ، حبیب بینک ، ایم سی بی بینک ، میزان بینک ، نیشنل بینک ، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی ، ماری انرجیز اور پاکستان اسٹیٹ آئل مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
پیر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ملکی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور سعودی عرب، حوثیوں، امریکا اور ایران کے درمیان علاقائی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے حصص میں سرمایہ کاری کم کردی تھی۔ نتیجتاً کے ایس ای 100 انڈیکس 1,964.87 پوائنٹس یا 1.18 فیصد گر کر 165,124.41 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی منڈیوں میں منگل کو ایشیائی حصص میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کی قیادت ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص نے کی۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں بلند رہیں، جس سے ڈالر کو بھی سہارا ملا۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 2 فیصد گر گیا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 6 فیصد اور جاپان کا نکی انڈیکس 2.6 فیصد نیچے آگیا۔
امریکی ٹیکنالوجی حصص پر مشتمل نیس ڈیک انڈیکس بھی پیر کو 0.5 فیصد گر گیا، جس کی وجہ چِپ ساز کمپنیوں کے حصص میں کمی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا اور چین کے درمیان بڑھتے مقابلے سے متعلق خدشات تھے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ اس ہفتے امریکی بینکوں کے مالی نتائج پر مرکوز رہے گی، جن سے قرضوں کی نمو، مالیاتی اخراجات اور کاروباری سرگرمیوں پر امریکی بانڈز کے بڑھتے منافع کے اثرات کا اندازہ لگایا جائے گا۔ آج جے پی مورگن چیس، گولڈمین سیکس، سٹی گروپ اور ویلز فارگو سمیت چار بڑے امریکی بینک اپنے نتائج جاری کریں گے۔
یہ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔























Comments