خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کی منظوری دیدی
صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے وفاقی کابینہ کی سفارش کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی (ہنگامی حالت) نافذ کر دی۔
ایوانِ صدر کے مطابق، یہ اقدامات آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت منظور کیے گئے ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کن امور سے متعلق ہیں؟
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 234 کسی صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی سے متعلق ہے۔ اس کے تحت صدر مملکت اس وقت مداخلت کرسکتے ہیں جب صوبائی حکومت آئین کے مطابق امور انجام دینے میں ناکام ہوجائے۔
اس شق کے تحت صدر مملکت صوبائی حکومت کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں یا گورنر کو صدر کی جانب سے انتظامی اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے آئینی شرائط اور پارلیمان کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، آرٹیکل 232 اس وقت ملک میں ہنگامی حالت کے اعلان سے متعلق ہے جب جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی کے باعث پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو۔
یہ آرٹیکل وفاقی حکومت کو ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنے کا اختیار دیتا ہے، جن میں صوبوں کو ہدایات جاری کرنا بھی شامل ہے۔
دوسری جانب، آرٹیکل 233 مخصوص حالات میں بعض بنیادی حقوق معطل کرنے سے متعلق ہے۔
کابینہ کا ہنگامی اجلاس
یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آئی، جس میں ارکان کو صوبے کی سیکیورٹی صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی۔
کابینہ نے صوبائی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ طور پر خود کو الگ کرلیا ہے۔ صورتِ حال کی سنگینی کے پیش نظر کابینہ نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ صدر مملکت کو اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے کا مشورہ دیں۔
بعدازاں وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے وزیراعظم کی جانب سے سفارش بھجوا دی گئی ہے۔
کابینہ کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بریفنگ دی گئی۔
سیکیورٹی صورتِ حال میں بگاڑ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی مبینہ دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر کابینہ نے سفارش کی کہ وزیراعظم، صدر مملکت کو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے کا مشورہ دیں۔
وزیراعظم آفس کے مطابق، یہ سفارش ایوانِ صدر کو بھجوا دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کو معاشی کامیابیاں سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا یہ بیان وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت میں خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا۔
انہوں نے اجلاس کے دوران کہا کہ میں انہیں (پی ٹی آئی کو) معیشت کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔
اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعظم نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ حالیہ اسٹاف لیول معاہدے کا حوالہ دیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان کو رواں سال کے اختتام سے قبل 1.2 ارب ڈالر کی قسط موصول ہو جائے گی۔
انہوں نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا۔
شہباز شریف نے مالیاتی نظم و ضبط یقینی بنانے کے لیے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں قیادتیں اس مقصد کے لیے دن رات مل کر کام کر رہی ہیں۔
وزیراعظم نے گزشتہ ماہ اپنے دورۂ لندن کا بھی ذکر کیا، جہاں انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں کے سرکردہ عہدیداروں سے ملاقاتیں کی تھیں۔


























Comments