گرین لینڈ میں طاقت کی تبدیلی، نیا آرکٹک موڑ دنیا کو نئی سمت دینے لگا
- 18 ستمبر 2026 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن نے گرین لینڈ کی سلامتی پر مستقل کنٹرول حاصل کرلیا ہے
18 ستمبر 2026 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن نے گرین لینڈ کی سلامتی پر مستقل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ وہ اس سے قبل اس علاقے کو کسی نہ کسی طریقے سے اپنے قبضے میں لینے کی دھمکی دے چکے تھے، تاہم اب لہجہ الحاق سے تعاون کی جانب تبدیل ہوگیا ہے۔ بیان بازی میں یہ تبدیلی غیر اعلانیہ تفصیلات سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی طاقتیں اب مسابقت کو کس طرح ترجیح دیتی ہیں: سرحدوں کو دوبارہ کھینچنے کے بجائے ان کرداروں اور افعال پر اپنا حق جتانا جنہیں روایتی طور پر سرحدیں تحفظ فراہم کرتی رہی ہیں۔
ڈنمارک گرین لینڈ پر اپنی خودمختاری پر زور دیتا ہے، جبکہ اس معاہدے کی ڈنمارک اور گرین لینڈ کی دونوں قانون ساز اسمبلیوں سے توثیق بھی ضروری ہے۔ یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ نیا انتظام 1951 کے معاہدے سے کس حد تک مختلف ہے، جس کے تحت پہلے ہی امریکی فوجی موجودگی کی ایک نمایاں سطح کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے باوجود تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا دائرہ سرد جنگ کے دور کے اس معاہدے سے زیادہ وسیع ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے کسی بھی مخالف کو واشنگٹن کی پیشگی واضح تحریری منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں اڈہ قائم کرنے یا حساس نوعیت کی سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مزید برآں، ان کی انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ جزیرے پر فوجی موجودگی میں تیزی سے اضافہ کیا جائے۔
گرین لینڈ کی اسٹرٹیجک اہمیت واضح ہے۔ یہ شمالی بحرِ اوقیانوس کے ان اہم بحری راستوں کو کنٹرول کرتا ہے جنہیں روسی آبدوزیں کھلے سمندروں تک رسائی کے لیے استعمال کرتی ہیں اور یہ روس اور شمالی امریکہ کے درمیان فضائی اور میزائل حملوں کے مختصر ترین راستوں کے نیچے واقع ہے۔ اس کا پگھلتا ہوا ساحلی علاقہ نئے بحری راستے پیدا کر رہا ہے جو ایک نسل پہلے موجود نہیں تھے۔
اس کے علاوہ گرین لینڈ کی ارضیاتی ساخت میں نایاب ارضی عناصر اور اہم معدنیات موجود ہیں جو بیٹریوں، دفاع اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں، خصوصاً اس لیے کہ اس وقت چین ان مواد کی پراسیسنگ میں سب سے آگے ہے۔ واشنگٹن کے لیے یہ جزیرہ ایک ریڈار اسٹیشن، بحری گیٹ وے اور معدنیات کے ایک ذریعے کے طور پر کام کرتا ہے۔
بیجنگ کے نقطۂ نظر سے یہ معاہدہ اس باب کو بند کرتا ہے جسے چین اپنی کئی سالہ آرکٹک رسائی کی کوششوں کے ذریعے کھولنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ چین کی حکمت عملی کبھی طاقت کے استعمال پر مبنی نہیں رہی بلکہ صبر پر مبنی رہی ہے، جس کے تحت کان کنی، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے بتدریج رسائی حاصل کی گئی، تحقیقی مراکز قائم کیے گئے اور پولر سلک روڈ کے تصور کو فروغ دیا گیا۔ اس حکمت عملی کا انحصار چھوٹے دائرہ اختیار رکھنے والے علاقوں کے ساتھ ایک ایک سرمایہ کاری کے ذریعے روابط قائم کرنے پر ہے۔
تاہم حساس نوعیت کی سرمایہ کاری پر امریکی ویٹو گرین لینڈ میں اس طریقہ کار کو روک دیتا ہے اور ایک ایسی مثال قائم کرتا ہے جو مغرب کے اتحادی دیگر خطوں کو بھی اسی طرز عمل کی پیروی پر آمادہ کر سکتی ہے۔
ماسکو اس صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتا ہے: اس کا آرکٹک ساحل اور فوجی موجودگی اب بھی بے مثال ہیں اور نوک(Nuuk) کے انتظامات اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرتے۔ تاہم، امریکی موجودگی میں مستقل اور اضافے سے کسی بھی ایسے منصوبے کی لاگت بڑھ جاتی ہے جس میں گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ کے راستے کو شامل کیا جائے، جبکہ اس گزرگاہ پر انحصار کرنے والی بحری حکمت عملی بھی مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔
اسے چینی اور روسی حکمت عملیوں کی شکست قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ جاری مسابقت کے دوران ایک انتہائی محتاط انداز میں ہدف بنایا گیا قدم ہے، جس کی لاگت کو اس کے حامی کم اہمیت دیتے ہیں۔ بنیادی تشویش اس اتحاد کو پہنچنے والا نقصان ہے جسے یہ معاہدہ مضبوط بنانے کا مقصد رکھتا ہے۔
ٹرمپ کی سابقہ دھمکیوں سے یہ عندیہ ملتا تھا کہ علاقے پر قبضے کی کوئی بھی کوشش نیٹو کے ٹوٹنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسی دھمکی کے تحت ہونے والا معاہدہ، اور اطلاعات کے مطابق جس پر جزوی طور پر نیٹو کے باضابطہ ڈھانچے سے باہر مذاکرات کیے گئے، یورپی دارالحکومتوں کو یہ تاثر دے سکتا ہے کہ امریکہ اتحادیوں کو ایسے شراکت داروں کے بجائے اثاثوں کے طور پر دیکھتا ہے جن سے مشاورت کی جائے۔ یورپ کا واشنگٹن سے دوری اختیار کرنے کا ہر فیصلہ ماسکو اور بیجنگ کو اسٹرٹیجک طور پر فائدہ پہنچاتا ہے۔
دوسری تشویش رضامندی ہے۔ چھوٹے علاقوں کو بیرونی طاقتوں کے لیے ہدف بنانا آسان ہوسکتا ہے، لیکن وہ عام طور پر ایسے معاہدوں کی مزاحمت کرتے ہیں جنہیں وہ مسلط کردہ سمجھتے ہیں۔ اگر گرین لینڈ کے باشندے اس معاہدے کو ایسے شراکت داری کے بجائے اپنا مستقبل واشنگٹن کے حوالے کرنے کے طور پر دیکھتے ہیں جو سرمایہ کاری، روزگار اور سلامتی فراہم کرتی ہو، تو وہ اپنے حریفوں کو فائدہ اٹھانے کے لیے شکایات فراہم کریں گے۔ دیرپا معاہدوں کے لیے صرف کوپن ہیگن کے دستخط نہیں بلکہ نوک کی مخلصانہ حمایت بھی ضروری ہے۔
تیسرا نکتہ سیدھا سا حساب ہے۔ بیجنگ اور ماسکو کو گرین لینڈ میں موجودگی قائم کرنے سے روکنے سے بحرالکاہل کے خطے، وسطی ایشیا یا خلیج میں ان کے اثر و رسوخ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ درحقیقت، آرکٹک میں زیادہ جارحانہ امریکی مؤقف بیجنگ اور ماسکو کو ایک دوسرے کے مزید قریب لاسکتا ہے، جو بالکل وہی ہے جسے روکنے کی واشنگٹن کوشش کرتا رہا ہے۔
عالمی جنوب کے ممالک کے لیے سبق تشویش ناک ہے، بڑی طاقتوں کی مسابقت کے اصول اسٹرٹیجک جغرافیے کے گرد تبدیل ہو رہے ہیں۔ کوئی بھی ملک جو کسی اہم گزرگاہ، تجارتی راستے یا اہم وسائل کے مقام پر واقع ہو، غالباً حریف بلاکس کی جانب سے ہدف بنایا جائے گا یا اسے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی جائے گی۔ بحیرہ عرب کے ساحل، آبنائے ہرمز سے قربت اور سی پیک کے راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔
بہترین طریقہ یہ نہیں کہ کسی ایک فریق کا انتخاب کیا جائے یا یہ تصور کیا جائے کہ غیر جانب داری کی کوئی قیمت نہیں۔ اس کے بجائے اقتصادی لچک کو مضبوط بنانا، تجارت اور توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا اور اس وقت مذاکرات کرنا انتہائی اہم ہے جب سودے بازی کی طاقت مضبوط ہو۔
گرین لینڈ امریکہ اور اس کے حریفوں کے درمیان جاری مسابقت کی ایک ابتدائی مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ایسی مسابقتیں کس طرح آگے بڑھیں گی: خاموشی سے، اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل مقامات پر فوجی اڈوں کے حقوق کو کنٹرول کرنے، سرمایہ کاری کو ویٹو کرنے اور سپلائی چینز کا انتظام کرنے کے ذریعے۔ بڑی طاقتوں نے اس طرزِ عمل کو سمجھ لیا ہے، اور درمیانی طاقتوں کو بھی اسی نوعیت کی حکمت عملی اپنانے پر غور کرنا چاہیے۔
پاکستان کا آگے بڑھنے کا راستہ
فائدہ اٹھانے کی ضرورت سے پہلے اقتصادی لچک پیدا کریں۔ ان ساختی کمزوریوں کو کم کریں جو ان مذاکرات میں پاکستان کو قیمت قبول کرنے والا فریق بنا دیتی ہیں: محدود ٹیکس بیس، کمزور مالیاتی گنجائش اور آئی ایم ایف پر مسلسل انحصار۔ جو ملک مالی کمزوری کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے، اسے اس ملک کے مقابلے میں زیادہ ناموافق شرائط ملتی ہیں جو مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کر رہا ہو۔
برآمدی منڈیوں اور توانائی کے ذرائع کو متنوع بنائیں تاکہ کوئی ایک تعلق — خلیجی تیل، چینی سرمایہ کاری یا امریکی منڈی تک رسائی — دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہ بن جائے۔
سی پیک اور خلیج/آبنائے ہرمز تک رسائی کو بوجھ کے بجائے اسٹرٹیجک اثاثوں کے طور پر دیکھا جائے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنے اسٹرٹیجک محلِ وقوع، جس میں گوادر تک بندرگاہی رسائی، بحیرہ عرب میں موجودگی اور آبنائے ہرمز سے قربت شامل ہے، کو چین، خلیجی ریاستوں اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں فعال طور پر شامل کرے، بجائے اس کے کہ یہ سمجھا جائے کہ یہ پہلے ہی محفوظ اور یقینی وعدے ہیں۔
بیرونی طور پر طے کیے گئے معاہدوں کے پائیدار ہونے کیلئے مقامی حمایت کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ گرین لینڈ کے باشندوں کی حقیقی حمایت کوپن ہیگن کے دستخط سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں صوبائی اور مقامی حکام کی منظوری ناگزیر ہے؛ گوادر، بلوچستان یا ساحلی سلامتی سے متعلق معاہدوں کیلئے حقیقی مقامی حمایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ ایسے معاہدے طویل مدتی شکایات پیدا کرسکتے ہیں جنہیں مخالفین اپنے مفادات کیلئے استعمال کرسکتے ہیں، جیسا کہ سی پیک سے متعلق سکیورٹی خدشات میں پہلے ہی دیکھا جا چکا ہے۔
اب مذاکرات کریں، جب تک سودے بازی کی طاقت موجود ہے۔ اس وقت مذاکرات میں شامل ہوں جب اثر و رسوخ برقرار ہو۔ پاکستان کا اثر و رسوخ گوادر، بحیرہ عرب تک رسائی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے اثاثوں سے حاصل ہوتا ہے، تاہم یہ اثر و رسوخ ان متبادل امکانات کی موجودگی سے مشروط ہے جو ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
اتحادی تعلقات میں پیدا ہونے والے نقصان کے جال سے الٹ سمت میں بھی بچیں: پاکستان کو سی پیک کی مالی معاونت کی شرائط پر چین کے ساتھ اپنے تعلقات، انسدادِ دہشت گردی اور تجارتی تعاون پر امریکہ کے ساتھ تعلقات، جبکہ توانائی اور ترسیلاتِ زر پر خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی حرکیات پر نظر رکھنی چاہیے، اور ایسے انتظامات کی مزاحمت کرنی چاہیے جو اسے کسی دوسرے فریق کے اسٹرٹیجک نقشے پر محض ایک اثاثہ بنا دیں، بجائے اس کے کہ اسے اپنے مفادات رکھنے والے مذاکراتی شراکت دار کے طور پر دیکھا جائے۔
پاکستان کا جغرافیہ ایک ایسا اثاثہ ہے جس کی بیرونی طاقتیں اس وقت باقاعدہ قیمت لگا رہی ہیں، یہ محض ایک غیر فعال حقیقت نہیں ہے۔ حکمت عملی یہ ہے کہ مالیاتی اور اقتصادی لچک کو مضبوط بنایا جائے تاکہ مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کیے جاسکیں۔ اہم گزرگاہوں تک رسائی کی قیمت واضح طور پر طے کی جائے، بجائے اس کے کہ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے بلا معاوضہ دے دیا جائے۔ سلامتی سے متعلق کسی بھی انتظام کیلئے حقیقی ملکی اور صوبائی رضامندی یقینی بنائی جائے، اور بیرونی طاقتوں کی جانب سے متبادل راستے محدود کرنے سے پہلے ہی تنوع پیدا کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments