رپورٹس کے مطابق پاکستان کو ربیع سیزن کے دوران 25 فیصد پانی کی قلت کا سامنا ہے جس سے غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ پاکستان میں زرعی پیداوار کو اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
اندرونی رکاوٹوں کا تعلق یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی فی ہیکٹر پیداوار میں اضافے میں ناکامی سے ہے۔
صورتحال اس لیے مزید پیچیدہ ہوگئی ہے کہ نسبتاً کم تعداد میں خوشحال کاشتکاروں اور تقریباً 80 فیصد زرعی برادری کی فی ایکڑ پیداوار کے درمیان فرق بڑھتا جارہا ہے۔ یہ 80 فیصد کاشتکار 12 ایکڑ سے کم رقبے پر کاشت کاری کرتے ہیں یا اپنی ضروریات پوری کرنے کی سطح پر کام کرتے ہیں اور ایک فصل سے دوسری فصل تک گزر بسر کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
زرعی مداخل پر مراعات اور کم شرحِ سود پر دستیاب زرعی قرضوں سے زیادہ تر فائدہ امیر کاشتکاروں نے ہی اٹھایا ہے کیونکہ ان کے غریب ہم منصبوں کے پاس ان مراعات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے نہ تو مطلوبہ معلومات ہیں اور نہ ہی ضروری وسائل۔ مزید برآں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپنی نمائندگی کے باعث امیر کاشتکار اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں بہت کم انکم ٹیکس ادا کریں، تاہم جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اب یہ صورتحال تبدیل ہونے کا امکان ہے کیونکہ یہ معاملہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اہم شرط بن چکا ہے۔
زرعی پیداواری لاگت بھی بڑھ رہی ہے اور اس کی ایک وجہ جزوی طور پر ای ایف ایف پروگرام کو قرار دیا جا سکتا ہے جس نے اکتوبر 2024 میں نشاندہی کی تھی کہ حکومت کی جانب سے زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی اور گیس (ششماہی بنیاد پر) سمیت قیمتوں کے تعین میں مداخلت، بلند ٹیرف اور غیر ٹیرف تحفظ کے ساتھ مل کر مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں مسابقتی ماحول کو جھکا دیتی ہے۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہیں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار سمجھا جاتا ہے اور دنیا کے 10 سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں اس کا شمار ہوتا ہے جس کے باعث زرعی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال ربیع سیزن کے دوران پانی کی کوئی قلت نہیں تھی، اس کے باوجود ملک کو 20 لاکھ ٹن سے زائد گندم کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں زرعی سبسڈیز کے گرین کمپوننٹ کے تحت 21 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ تاہم حکومت نے اس رقم کو بالواسطہ طور پر مفید قرار دیا ہے جبکہ زرعی شعبے پر اس کے متوقع اثرات کی وضاحت نہیں کی۔ اس صورتحال نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ یہ رقم شاید صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی 1.6 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت عائد شرائط پوری کرنے کی کوشش ہو۔
زیرِ کاشت موجودہ فصلوں پر دو وجوہات کی بنا پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ اول، زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت کو ملک میں دستیاب آبی وسائل کے مطابق ڈھالنا ہوگا جبکہ زرعی پیداوار کو خام مال کے طور پر استعمال کرنے والے بااثر صنعت کاروں کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا؛ مثال کے طور پر، شوگر ملز کی جانب سے فاضل پیداوار کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونی چاہیے تاکہ برآمد کی اجازت ملنے کے بعد مارکیٹ میں قلت پیدا ہونے اور درآمدات کی ضرورت پیش آنے کی صورتِ حال سے بچا جا سکے۔ دوم، کوآپریٹو شعبے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، جو اس وقت بڑی حد تک غیر فعال، منتشر اور/یا جاگیردارانہ مفادات کے زیرِ اثر ہے جبکہ بھارت میں یہ شعبہ کامیاب اور ادارہ جاتی شکل اختیار کرچکا ہے۔
یہ درست ہے کہ جاری مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث کھاد کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جبکہ دنیا بھر میں توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ چنانچہ رواں ربیع سیزن میں زرعی پیداوار ہدف سے خاصی کم رہنے کی توقع ہے۔ تاہم ان اصلاحات کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد کی ضرورت ہے جو بھارت میں کامیاب ثابت ہوئی ہیں، کیونکہ دونوں ممالک میں زرعی اور موسمیاتی حالات یکساں ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments