امریکا، ایران میں پھر جنگی محاذ گرم، حملوں میں تیزی
- اب مجھے ہماری پوزیشن کہیں زیادہ بہتر لگ رہی ہے، امریکی صدر
امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگی کشیدگی شدت اختیار کرگئی جب دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران حملوں کا سب سے بڑا تبادلہ ہوا۔ واشنگٹن نے مزید تباہ کن حملوں کی دھمکی دی جب کہ ایران نے ایک حملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ شادی کی تقریب کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں پانچ افراد مارے اور درجنوں شہری زخمی ہوئے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ اس نے منگل کو اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ٹھکانوں پر حملوں کی ایک لہر مکمل کی جن میں فضائی دفاعی تنصیبات، ریڈار نظام، بحری اثاثوں، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتوں سے متعلق تنصیبات اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا نے منگل کو ملک بھر میں متعدد اہداف پر حملوں کی اطلاع دی جن میں سے بیشتر آبنائے ہرمز کے قریب واقع تھے جہاں ایران ان تیل بردار بحری جہازوں کو دھمکیاں دے رہا ہے جو اجازت کے بغیر اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایران نے سرکاری بیانات کے مطابق اردن اور عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جبکہ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق بحرین میں بھی حملے کیے گئے۔
اگرچہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اردن میں بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تاہم دو امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ ابتدائی جائزوں کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اردن کی مسلح افواج نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مملکت کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 13 بیلسٹک میزائلوں سے نمٹا جن میں سے 10 کو راستے میں ہی روک لیا گیا جبکہ 3 دور دراز علاقوں میں جا گرے۔ بحرین نے کہا کہ ایرانی ڈرونز کو بھی روک کر تباہ کر دیا گیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا کہ اس کی زمینی افواج نے شمالی عراق کے شہر اربیل میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جن میں متعدد امریکی اہلکار ہلاک ہوئے، تاہم عراق اور امریکا دونوں نے اس حملے کی تصدیق نہیں کی۔
فائرنگ کے تبادلے نے جولائی کے بعد پہلی مرتبہ سنگین جنگی کارروائی کی نشاندہی کی جس سے وہ وقفہ ختم ہوگیا جس کے دوران متحارب فریقوں نے حملوں سے گریز کیا تاہم مذاکرات کی میز پر واپسی میں بھی کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
یہ جنگ بندی جیسی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایسا محسوس ہونے لگا کہ تنازع دونوں فریقوں کو تھکا رہا ہے۔ ایران کی پہلے ہی مشکلات سے دوچار معیشت جنگ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ اس کی روایتی فوجی صلاحیت بھی کمزور پڑ گئی ہے۔دوسری جانب نومبر میں ہونے والے کانگریشنل انتخابات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔ رائٹرز نے گزشتہ ماہ رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج نے دنیا بھر میں موجود انتہائی درست نشانے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے اپنے ذخیرے کا بڑا حصہ استعمال کرلیا ہے جس سے مستقبل کے تنازعات کے لیے امریکی فوج کی تیاری پر خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
تاہم دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی کے نتیجے میں دونوں جانب سے ایک بار پھر سخت اور دھمکی آمیز بیانات کا تبادلہ ہوا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اب مجھے ہماری پوزیشن کہیں زیادہ بہتر لگ رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول ہمارے پاس ہے اور ان کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ صرف ناگزیر انجام کو طول دے رہے ہیں۔ ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور مقابلہ کریں گے؟
ایران نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو دھمکی دی۔
ایران کی مشترکہ فوجی کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم خبردار کرتے ہیں کہ خطے میں امریکی جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا جواب مزید شدید، وسیع اور تباہ کن کارروائیوں کی صورت میں دیا جائے گا اور جو بھی ملک جارح امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرے گا، اسے اس کے خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔
























Comments