BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.11%)
KSE100 Decreased By (-0.5%)
KSE30 Decreased By (-0.45%)
BAFL 56.86 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
BIPL 24.98 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 30.17 Decreased By ▼ -0.18 (-0.59%)
CNERGY 13.03 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.35 Decreased By ▼ -4.10 (-2.13%)
FABL 93.80 Decreased By ▼ -0.34 (-0.36%)
FCCL 52.29 Decreased By ▼ -0.50 (-0.95%)
FFL 14.55 Decreased By ▼ -0.17 (-1.15%)
GGL 19.11 Decreased By ▼ -0.45 (-2.3%)
HBL 306.40 Increased By ▲ 0.30 (0.1%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.26 Decreased By ▼ -0.20 (-0.76%)
MLCF 91.69 Decreased By ▼ -1.47 (-1.58%)
OGDC 314.75 Decreased By ▼ -1.98 (-0.63%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 239.01 Decreased By ▼ -4.20 (-1.73%)
PPL 222.30 Decreased By ▼ -4.61 (-2.03%)
PRL 92.08 Decreased By ▼ -0.94 (-1.01%)
SNGP 90.90 Decreased By ▼ -0.94 (-1.02%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.56 (-2.35%)
TELE 7.69 Decreased By ▼ -0.11 (-1.41%)
TPLP 12.61 Decreased By ▼ -0.36 (-2.78%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

ایران کی نئی امریکی اقتصادی پابندیوں کی شدید مذمت، ریاستی دہشت گردی قرار دے دیا

  • پابندیوں کی مہم ایرانی معیشت پر جنگ کے اثرات کو مزید سنگین کررہی ہے
شائع اپ ڈیٹ

ایران نے جمعہ کو امریکا کی جانب سے عائد کی گئی نئی اقتصادی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ریاستی دہشت گردی قرار دیا جبکہ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات پر پابندی عائد کر رہے ہیں جو سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ مزید مالی مشکلات ملک میں بے چینی کو جنم دے سکتی ہیں۔

جنگ کو اب چھ ماہ مکمل ہوچکے ہیں اور مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، ایسے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کو مالی طور پر مفلوج کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں جسے اس نے اقتصادی ڈی ڈے کا نام دیا ہے۔

پابندیوں کی مہم ایرانی معیشت پر جنگ کے اثرات کو مزید سنگین کررہی ہے جہاں گزشتہ ماہ سالانہ افراطِ زر کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی۔

آبنائے ہرمز پر جاری کشیدگی بدستور تنازع کا سب سے بڑا حل طلب مسئلہ ہے۔ واشنگٹن نے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کردیں، بصورت دیگر انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے فی الحال عملی طور پر کوئی جرمانہ یا پابندی عائد کرنے سے گریز کیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ تہران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل درآمد سے گریز کریں۔ وزارت نے مزید کہا کہ ان پابندیوں میں شرکت کا مطلب ایک ریاست کی غیر قانونی مرضی کو آزاد ریاستوں پر مسلط کرنے میں معاونت کرنا ہے۔

ایران نے امریکا کے نئے اقدامات کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کی صحت اور روزگار کو سنگین خطرات لاحق ہیں جبکہ دیگر ممالک اور اقوام متحدہ کے اداروں سے قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعہ کو ایک تحریری بیان میں کہا کہ انہوں نے حکام کو سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام سے روک دیا ہے۔

انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ ایسے حوصلہ شکن بیانات سے گریز کریں جو قومی اور عوامی جذبے کو کمزور کرتے ہیں۔

خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا کہ وہ معاشی اور عوام کے روزمرہ اخراجات سے متعلق مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے۔

جمعہ کو بعد ازاں ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ مصر کے بینک مسر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں پر تہران کے ساتھ کاروبار کرنے کے باعث پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ عہدیدار کے مطابق اگر مجوزہ ضابطے کو حتمی شکل دے دی گئی تو بینک مسر یو اے ای کی امریکی مالیاتی اداروں کے ذریعے لین دین کی سہولت حاصل کرنے کی صلاحیت ختم کردی جائے گی۔

Comments

200 حروف