امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی، خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ
- برینٹ فیوچرز کی قیمت 9 سینٹ یا 0.1 فیصد اضافے سے 87.16 ڈالر فی بیرل ہوگئی
تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو معمولی اضافہ دیکھا گیا کیونکہ امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کی دھمکی کے بعد خام تیل کی رسد کے حوالے سے خدشات دوبارہ سر اٹھانے لگے جبکہ اس سے پچھلے سیشن میں عالمی طلب کے کمزور منظرنامے کی وجہ سے قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تھی۔
برینٹ فیوچرز کی قیمت 9 سینٹ یا 0.1 فیصد اضافے سے 87.16 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچرز 4 سینٹ اضافے کے ساتھ 81.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔
دونوں اہم بینچ مارک گزشتہ سیشن میں 2 فیصد سے زائد گرگئے جس کے باعث برینٹ میں مسلسل چھ سیشنز اور ڈبلیو ٹی آئی میں پانچ سیشنز سے جاری اضافے کا سلسلہ تقریباً ختم ہوگیا تاہم دونوں رواں ہفتے تقریباً 4 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہیں۔
امریکہ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات تعطل کا شکار رہتے ہیں تو وہ ایران کی بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھ سکتا ہے اور تہران پر اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کرے گا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے نیوز میکس کے پروگرام روب شمٹ ٹونائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ مزید اعلانات کے لیے اگلے ہفتے اس جگہ پر نظر رکھیے کیونکہ ہم ایسے اقدامات نافذ کرنے جا رہے ہیں جو کسی بھی ملک کی معاشی تنہائی کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔
امریکہ کی تازہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کو محدود کیے ہوئے ہے جہاں تنازع سے قبل دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی تھی۔ اس صورتحال کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اندرونِ ملک غیر مقبول جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز کے مطابق ایران کی نیم فوجی فورس بسیج کے حال ہی میں مقرر کیے گئے سربراہ حسین طائب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ کے انتظام اور کنٹرول میں ہے۔
طویل جنگ کے باعث رسد میں رکاوٹ کے خدشے کو اس ہفتے اوپیک اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی جانب سے تیل کی طلب میں اضافے کے تخمینے کم کیے جانے نے کسی حد تک متوازن کردیا جبکہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ امریکی خام تیل کے ذخائر میں تین سال سے زائد عرصے کے بعد ایک ہفتے کے دوران سب سے بڑا اضافہ ہوا۔
کے سی ایم کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا کہ یہ دونوں عوامل ایک دوسرے کے اثرات کو متوازن کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نتیجتاً مارکیٹ کو سہارا تو مل رہا ہے لیکن جب تک یہ متضاد دباؤ برقرار رہیں گے قیمتوں میں نمایاں اضافہ مشکل رہے گا۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق جمعرات کی شام سرکاری ملکیتی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملے کا نشانہ بنے۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کا حملہ قرار دیا۔























Comments