بحری ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز پر امریکا، ایران کے متضاد دعووں کے باعث تیل مہنگا
- برینٹ فیوچرز 80 سینٹ یا 0.92 فیصد اضافے سے 87.87 ڈالر فی بیرل ہوگئے
ٹینکروں پر دوبارہ ہونے والے حملوں اور ٹرمپ انتظامیہ اور ایرانی قیادت کے درمیان لفظی جنگ کے باعث جمعے کے روز خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 10:48 بجے سینٹرل ٹائم (1548 جی ایم ٹی) پر برینٹ فیوچرز 80 سینٹ یا 0.92 فیصد اضافے سے 87.87 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچرز 43 سینٹ یا 0.53 فیصد بڑھ کر 81.69 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔
برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی میں ہفتہ وار بنیاد پر بالترتیب 5.09 فیصد اور 4.37 فیصد اضافے کا امکان تھا۔
ایس ای بی ریسرچ کے چیف کموڈیٹیز اینالسٹ بیارنے شیلڈروپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے امریکا کے حالیہ طرزِ عمل کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ فطری ہے، کیونکہ اس سے مستقبل قریب میں کسی حل کی امید بہت کم دکھائی دیتی ہے۔
جمعرات کو امریکا نے کہا تھا کہ جنگ بندی مذاکرات میں تعطل کے باعث وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھ سکتا ہے اور تہران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کرسکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے نیوز میکس کے پروگرام ’’روب شمٹ ٹونائٹ‘‘ میں کہا، ’’اگلے ہفتے مزید اعلانات کے لیے تیار رہیں، کیونکہ ہم کسی ملک کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی تاریخ میں پہلے کبھی نہ دیکھے گئے اقدامات کرنے جارہے ہیں۔‘‘
شیلڈروپ نے کہا، ’’آبنائے ہرمز سے معمول کی آمدورفت کی بحالی کی اب فوری مدت میں کوئی امید نظر نہیں آتی۔‘‘
آبنائے ہرمز سے آمدورفت میں کمی
امریکا اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے دعووں کے درمیان اس آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت ماہانہ اوسط سے بھی کم ہوگئی۔
فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی تھی۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق، سرکاری ملکیتی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے دو بحری جہاز جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملوں کا نشانہ بنے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اس واقعے کو ایرانی حملہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔
پرائس فیوچرز گروپ کے سینیئر تجزیہ کار فل فلین نے کہا، ’’قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ یہی خبر ہے: ٹینکروں پر حملے۔‘‘
تین ذرائع نے بتایا کہ ڈرون حملے کے بعد بحیرہ اسود کی بندرگاہ نووروسیسک میں واقع روس کے شیسکاریس ٹرمینل سے خام تیل کی برآمدات جمعے کو معطل کردی گئیں، جس سے روس کے اہم برآمدی مراکز میں سے ایک پر رسد میں مزید خلل پڑا۔
فلین نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے نووروسیسک بندرگاہ پر حملے نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کو تقویت دی۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ سے تیل کی رسد محدود ہونے کے باوجود اوپیک کی پیش گوئیوں میں طلب میں کمزور اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں ساڑھے تین سال سے زائد عرصے کے دوران سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
جولیئس بیئر کے شعبۂ معاشیات اور نیکسٹ جنریشن ریسرچ کے سربراہ نوربرٹ روکر نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) اور امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’اس ہفتے کی رپورٹس کافی چشم کشا تھیں۔ ذخائر خدشات کے مقابلے میں کہیں بہتر حالت میں ہیں، جس سے تیل کی قیمتوں میں کمی آنی چاہیے۔‘‘























Comments