اسمارٹ موسمیاتی بجٹ سازی : پاکستان میں گرین فنانس کے ڈھانچے کی ڈیجیٹل تشکیل
- اے آئی پیش گوئی، وسائل کی بہتری اور آفات کی تیاری میں مددگار ہے، جو پاکستان کو عالمی پائیدار مالیاتی نظام سے جوڑتی ہے
پاکستان کو 2030 تک تخمینہ شدہ 348 ارب امریکی ڈالر کی ماحولیاتی فنڈنگ (کلائمیٹ فنانسنگ) کی کمی کا سامنا ہے، لہٰذا مالیاتی نظام (فِسکل آرکیٹیکچر) کی بنیادی ساخت میں تبدیلی ناگزیر ہے۔
روایتی بجٹ سازی سے خودکار اور ڈیٹا پر مبنی گرین فنانس سسٹم کی طرف منتقل ہو کر اور الگورتھمک کلائمیٹ بجٹ ٹیگنگ (سی بی ٹی) کو براہِ راست وفاقی پبلک فنانشل مینجمنٹ (پی ایف ایم) فریم ورک میں شامل کرکے پاکستان اختیاری اخراجات کے ضیاع (فضول اخراجات) کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل تبدیلی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ماحولیاتی بحالی کے لیے مختص کیے جانے والے ہر روپے کا سراغ لگایا جائے، اس کی تصدیق کی جائے اور اسے ریل ٹائم میں قومی ترجیحات کے مطابق ڈھالا جائے۔مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماحولیاتی بجٹ سازی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں، جہاں حکومتوں، کاروباری اداروں اور تنظیموں کو ماحولیاتی اقدامات کے لیے مالی وسائل زیادہ مؤثر طریقے سے مختص کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ ایسا اس لیے ممکن ہو رہا ہے کیونکہ اے آئی بڑے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کرکے ان علاقوں کی نشاندہی کرتی ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، یوں فنڈز کو انتہائی ضرورت والی جگہوں پر ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیا جاتا ہے۔

اے آئی پیش گوئی کرنے والے تجزیوں (پریڈکٹو اینالیٹکس)، وسائل کی بہتری، نگرانی و مانیٹرنگ اینڈ ایوالمیشن، کاربن کے اخراج کے تجزیے اور آفات سے نمٹنے کی تیاری میں بھی معاونت فراہم کرتی ہے۔عالمی سطح پر یہ بنیادی تبدیلی پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی پائیدار مالیاتی نظام سے جوڑتی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بلاک چین، بگ ڈیٹا اور مخصوص ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئیز) شامل ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی (ای ایس جی) ضوابط کی پاسداری کو حقیقی وقت میں خودکار بنانا، ٹریک کرنا اور تصدیق کرنا ہے۔کولمبیا، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں نے ثابت کیا ہے کہ ڈیجیٹل درجہ بندی کا نظام عالمی منڈی کو شفاف ڈیٹا فراہم کرکے ملک کے معاشی خطرات کے تناسب کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔اس جدید کاری کی بنیاد حال ہی میں قائم کردہ پاکستان گرین ٹیکسوناومی (پی جی ٹی) ہے، جس کی قیادت اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کر رہے ہیں۔ مخصوص اے پی آئیز کے ذریعے یہ درجہ بندی کمرشل بینکنگ سیکٹر میں ماحولیاتی پاسداری کو یکساں معیار پر لاتی ہے۔ یہ ڈیجیٹل نظام خودکار طریقے سے کارپوریٹ قرضوں کے کھاتوں کی جانچ کرتا ہے، اثاثوں کو سخت سبز، عبوری، یا سرخ درجوں میں تقسیم کرتا ہے اور کارپوریٹ سطح پر دھوکے پر مبنی ماحولیاتی دعوؤں (گرین واشنگ) کے خاتمے کے لیے شفاف ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔
ڈیجیٹل پبلک لیجر قائم کرکے پاکستان خود کو عالمی ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے کامیابی سے تیار کر رہا ہے۔وزارتِ خزانہ کا سوویرن سسٹین ایبل فنانسنگ فریم ورک (ایس ایف ایف) اس تصدیق شدہ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے جدید مالیاتی آلات جاری کرتا ہے۔ ان میں روایتی اور اسلامی آلات کی اضافی طلب (اوور سبسکرپشن) شامل ہے جس کا مقصد ایسے ماحولیاتی، سماجی اور پائیدار منصوبوں کو فنڈز فراہم کرنا ہے جو حکومتِ پاکستان کے نیشنل اڈاپٹیشن پلان، قومی پالیسی برائے موسمیاتی تبدیلی اور دیگر قومی حکمت عملیوں کے مطابق ہوں۔ یہ ڈیجیٹل نظام عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو ان کے سرمائے کے حقیقی ماحولیاتی اثرات کی واضح معلومات فراہم کرتا ہے۔پاکستان ماحولیات سے جڑے اس اسلامی مالیاتی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روایتی سرکاری فنڈنگ کے بجائے ماحولیاتی انفرااسٹرکچر کے لیے نجی ادارہ جاتی سرمائے کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔اس کی ایک بہترین مثال حکومت کا تاریخی 32 ارب روپے کا ملکی سوویرن گرین سکوک ہے، جو گاروک، نئے گاج اور شاگرتھنگ جیسے اہم ماحولیاتی منصوبوں کے لیے قانونی طور پر سرمائے کو محفوظ بناتا ہے۔ یہ ملکی اقدام لندن اسٹاک ایکسچینج میں واپڈا کے 500 ملین ڈالر کے انڈس بانڈ جیسے عالمی سنگِ میل کی بھی توثیق کرتا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈیٹا سے تصدیق شدہ ڈیجیٹل معیارات مشکل معاشی حالات میں بھی عالمی ای ایس جی منڈیوں کے راستے کھول سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ وفاقی کابینہ کی پالیسی گائیڈ لائنز مقامی سطح پر کاربن کی قیمتوں کے تعیّن اور خودکار قومی اخراج کے رجسٹر کے لیے راہ ہموار کر رہی ہیں۔ پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت کام کرنے والا یہ فریم ورک مقامی ڈویلپرز کو اپنے ماحولیاتی اقدامات سے مالی فائدے حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔اس تبدیلی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان گہرے تعاون کی ضرورت ہے، تاکہ ان ڈیجیٹل معیارات کو تمام مستقبل کے ترقیاتی پروگراموں میں قانونی طور پر شامل کیا جا سکے۔آخر میں پی ایف ایم ایکٹ اور پی جی ٹی کے ساتھ پاکستان کا یہ مقامی نظام موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ دیگر ممالک کے لیے ایک بہترین نمونے کا کام کرتا ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اداروں کی شفافیت بین الاقوامی کاربن اور قرضوں کی منڈیوں میں سرمائے کی کمی کو کامیابی سے پورا کر سکتی ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026



























Comments