BR100 Decreased By (-0.74%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.66%)
KSE30 Decreased By (-0.72%)
BAFL 57.29 Increased By ▲ 0.17 (0.3%)
BIPL 27.20 Decreased By ▼ -0.27 (-0.98%)
BOP 33.50 Decreased By ▼ -0.45 (-1.33%)
CNERGY 10.91 Decreased By ▼ -0.04 (-0.37%)
DFML 18.11 Decreased By ▼ -0.09 (-0.49%)
DGKC 210.00 Decreased By ▼ -3.33 (-1.56%)
FABL 100.10 Decreased By ▼ -0.86 (-0.85%)
FCCL 54.90 Decreased By ▼ -0.95 (-1.7%)
FFL 16.12 Decreased By ▼ -0.09 (-0.56%)
GGL 25.00 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
HBL 303.00 Decreased By ▼ -3.84 (-1.25%)
HUBC 221.50 Decreased By ▼ -1.51 (-0.68%)
HUMNL 10.40 Decreased By ▼ -0.08 (-0.76%)
KEL 7.33 Decreased By ▼ -0.06 (-0.81%)
LOTCHEM 27.41 Decreased By ▼ -0.29 (-1.05%)
MLCF 94.74 Decreased By ▼ -2.17 (-2.24%)
OGDC 318.80 Decreased By ▼ -2.20 (-0.69%)
PAEL 42.64 Decreased By ▼ -0.55 (-1.27%)
PIBTL 16.49 Decreased By ▼ -0.24 (-1.43%)
PIOC 280.50 Decreased By ▼ -7.08 (-2.46%)
PPL 219.99 Decreased By ▼ -2.85 (-1.28%)
PRL 58.62 Decreased By ▼ -0.53 (-0.9%)
SNGP 102.50 Decreased By ▼ -1.36 (-1.31%)
SSGC 25.57 Decreased By ▼ -0.39 (-1.5%)
TELE 8.44 Decreased By ▼ -0.12 (-1.4%)
TPLP 13.00 Increased By ▲ 0.24 (1.88%)
TRG 60.40 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
UNITY 10.14 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
WTL 1.21 Decreased By ▼ -0.01 (-0.82%)
پاکستان

وفاق نے صوبوں سے گندم کی ضروریات تحریری طور پر طلب کر لیں

  • حکومت پنجاب نے 10 لاکھ ٹن، سندھ نے 7 لاکھ ٹن، خیبرپختونخوا نے 2 لاکھ ٹن اور بلوچستان نے 50 ہزار ٹن گندم کی طلب پیش کی ہے
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی حکومت نے منگل کو صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ گندم کی اپنی مجموعی ضروریات تحریری طور پر فراہم کریں تاکہ مرکز تمام صوبوں میں گندم کی تقسیم کے لیے مناسب حکمت عملی مرتب کر سکے۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ویٹ بورڈ کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر نے کہا کہ گندم کی ضروریات کے حوالے سے صوبوں کی زبانی درخواستیں کافی نہیں ہیں، اس لیے تمام صوبے اپنی طلب تحریری طور پر جمع کرائیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ اجلاس کے دوران حکومت پنجاب نے 10 لاکھ ٹن، سندھ نے 7 لاکھ ٹن، خیبرپختونخوا نے 2 لاکھ ٹن اور بلوچستان نے 50 ہزار ٹن گندم کی طلب پیش کی۔

اجلاس میں پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے ذخائر کے تناظر میں صوبوں کی ضروریات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبوں کی مجموعی طلب پاسکو کے دستیاب ذخائر سے زیادہ ہے۔

عہدیدار کے مطابق ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ صوبوں سے مشاورت اور ان کی زبانی طور پر پیش کی گئی ضروریات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ درآمدی عمل کے دوران تمام صوبوں کو مکمل اعتماد میں لیا جائے گا، خصوصاً درآمد کی جانے والی گندم کے معیار (کوالٹی) سے متعلق معاملات پر بات چیت کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ گندم صوبوں میں استعمال ہونی ہے، اس لیے صوبائی حکومتوں کی جانب سے معیار کی منظوری کے بعد ہی گندم درآمد کی جائے گی۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ درآمد شدہ گندم صوبوں کی ضروریات کے مطابق تقسیم کی جائے گی تاکہ شفافیت، انصاف اور مساوی بنیادوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کر رہی ہے تاکہ ملک بھر میں گندم کی بروقت دستیابی یقینی بنائی جا سکے، صارفین کے مفادات کا تحفظ ہو اور گندم کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مکمل رابطے میں رہتے ہوئے گندم کی درآمد کے لیے تمام ضروری انتظامات جلد مکمل کیے جائیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف