اسحاق ڈار کا ایس سی او سے افغانستان میں طالبان حکومت کو دہشت گردی پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ
- ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ای ٹی آئی ایم افغان سرزمین سے متحرک ہیں، نائب وزیراعظم، 2027ء میں ایس سی او کی صدارت اور سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) پر زور دیا ہے کہ وہ افغان طالبان کو ان کی دہشت گردی مخالف اہم ذمہ داریاں یاد دلائے اور ان پر عمل درآمد کروائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی اس خطے کو درپیش شدید ترین سیکیورٹی چیلنجز میں سے ایک ہے۔ چولپون آتا میں ایس سی او کی کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا نتیجہ تمام ایس سی او رکن ممالک کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ ایک اہم دور سے گزر رہا ہے۔ ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان دیکھنا ہمیشہ سے پاکستان کی خواہش رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت دیگر دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے بھرتیوں، تربیت اور حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صرف اس سال 2,000 سے زائد دہشت گردانہ واقعات میں 560 سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں اور مزید کہا کہ ان میں سے بعض حملوں میں افغان شہری بھی ملوث پائے گئے ہیں۔انہوں نے ایس سی او پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان سے علاقائی اور عالمی امن کے لیے دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق کیے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن، استحکام اور معاشی ترقی صرف دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرکے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد کا ماننا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کو حل کرنے اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپریل 2026ء میں ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد ٹاکس کی سہولت کاری اور میزبانی کی، جس کے نتیجے میں 47 سال بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطح کی براہ راست سفارتی بات چیت ہوئی اور اسلام آباد ایم او یو (یادداشتِ نہم) پر دستخط ہوئے۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسلام آباد ایم او یو اور جاری تکنیکی مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل اور پرامن حل کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے یہ خبردار بھی کیا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان عناصر سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایسے عناصر امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے اور حاصل کردہ پیشرفت کو معکوس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ایس سی او کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے تنظیم کے مقاصد کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ 2005ء میں مبصر کی حیثیت سے شروع ہونے والا پاکستان کا سفر 2017ء میں مکمل رکنیت تک پہنچنا کثیر الجہتی سفارت کاری کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اس وقت سال 26-2025 کے لیے ایس سی او کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کی صدارت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد رواں سال کے آخر میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالنے اور پھر 2027ء میں پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے پرامید ہے۔


























Comments