BR100 Increased By (1.75%)
BR30 Increased By (1.81%)
KSE100 Increased By (1.62%)
KSE30 Increased By (1.61%)
BAFL 57.90 Increased By ▲ 0.87 (1.53%)
BIPL 27.35 Increased By ▲ 0.54 (2.01%)
BOP 34.17 Increased By ▲ 0.45 (1.33%)
CNERGY 9.64 Increased By ▲ 0.07 (0.73%)
DFML 18.65 Increased By ▲ 0.32 (1.75%)
DGKC 213.88 Increased By ▲ 7.08 (3.42%)
FABL 100.19 Increased By ▲ 1.22 (1.23%)
FCCL 54.07 Increased By ▲ 2.19 (4.22%)
FFL 16.88 Increased By ▲ 0.19 (1.14%)
GGL 23.85 Increased By ▲ 0.37 (1.58%)
HBL 309.25 Increased By ▲ 5.93 (1.96%)
HUBC 221.00 Increased By ▲ 3.48 (1.6%)
HUMNL 10.87 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 7.54 Increased By ▲ 0.11 (1.48%)
LOTCHEM 30.68 Increased By ▲ 0.10 (0.33%)
MLCF 97.99 Increased By ▲ 2.32 (2.43%)
OGDC 324.75 Increased By ▲ 3.76 (1.17%)
PAEL 42.33 Increased By ▲ 0.95 (2.3%)
PIBTL 16.88 Increased By ▲ 0.11 (0.66%)
PIOC 287.35 Increased By ▲ 24.50 (9.32%)
PPL 226.20 Increased By ▲ 2.00 (0.89%)
PRL 41.85 Increased By ▲ 0.45 (1.09%)
SNGP 109.30 Increased By ▲ 5.17 (4.96%)
SSGC 29.35 Increased By ▲ 0.94 (3.31%)
TELE 9.10 Increased By ▲ 0.41 (4.72%)
TPLP 12.85 Increased By ▲ 0.72 (5.94%)
TRG 58.90 Increased By ▲ 1.27 (2.2%)
UNITY 10.31 Increased By ▲ 0.60 (6.18%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.03 (2.42%)
پاکستان

پاکستان کا تحمل کا مظاہرہ، اسلام آباد ایم او یو کے تحت ایران امریکہ مذاکرات کی بحالی پر زور

  • جنگ کا دوبارہ آغاز کسی کے مفاد میں نہیں، ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک بار پھر تحمل، ضبط اور مذاکرات پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید کشیدگی نہ صرف خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچائے گی بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے 8 جولائی کو دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور اس مؤقف کا اعادہ کیا تھا کہ جنگ کا دوبارہ آغاز کسی کے مفاد میں نہیں۔

انہوں نے اسلام آباد کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے حصول کے لیے مسلسل رابطے، سفارت کاری اور مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ بالآخر تمام تنازعات اور اختلافات کا حل مذاکرات کی میز پر بات چیت کے ذریعے ہی نکلتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک دیرپا اور مؤثر فریم ورک کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب چند روز قبل امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھنے کی غرض سے ایران پر نئے حملے کیے جس کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین پر حملے کیے۔ اس تازہ کشیدگی نے جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

8 جولائی کو ہونے والے حملوں کا یہ سلسلہ جس کے بارے میں امریکا کا کہنا تھا کہ یہ 7 جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین مال بردار جہازوں پر حملے کے جواب میں کیا گیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد شروع ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ امریکی فوج نے ایک روز قبل بتایا تھا کہ اس نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف تازہ حملوں کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے جن میں بندر عباس بھی شامل تھا، جو آبنائے ہرمز پر واقع ایران کا اہم ترین بندرگاہی شہر ہے۔

اس کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا جبکہ تنازع سے دور واقع ممالک میں بھی مہنگائی میں اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

ایران کے مطابق اس کے کنٹرول میں رہنے والی آبنائے ہرمز دوبارہ بھڑکنے والی اس جنگ کا مرکزی محور بن چکی ہے۔ جون میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدہ ہونے کے باوجود یہ تنازع اب اپنے چھٹے روز میں داخل ہو چکا ہے۔

دریں اثنا ترجمان دفتر خارجہ نے تسلیم کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو بعض چیلنجز درپیش ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام فریقین کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا کہ وہ تشدد کا خاتمہ کریں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور 22 جون کو جاری ہونے والے پاکستان-قطر مشترکہ اعلامیے کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے متعدد ممالک آبنائے ہرمز کی صورتحال سے منفی طور پر متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے عالمی توانائی کی فراہمی، بین الاقوامی تجارت اور غذائی تحفظ پر اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ صورتحال جلد معمول پر آ جائے گی جبکہ اس نے اس اہم بحری گزرگاہ میں بحری جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کی کوششوں کے لیے خطے کے اہم فریقوں کے ساتھ مسلسل اور فعال رابطے میں ہے۔

اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے 10 جولائی کو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور خلیجی ریاست پر حالیہ حملوں کے بعد قطر کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے مسلسل سفارتی روابط برقرار رکھنے اور اسلام آباد امن مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔

اسی روز وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں انہوں نے حالیہ پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشکل سے قائم ہونے والے امن کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ترجمان کے مطابق صدر پزشکیان نے امن کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا اور خطے کے استحکام کے لیے پاکستان کی تعمیری حمایت اور سفارتی کوششوں کو سراہا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی سفارتی سطح پر متحرک رہے اور انہوں نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے۔

ان گفتگوؤں میں خطے کی حالیہ صورتحال، تحمل و بردباری اور مذاکرات کی ضرورت، نیز سفارتی ذرائع سے قریبی مشاورت جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔


Comments

200 حروف