ٹوکنائزیشن: پاکستان کے توانائی بحران کا نیا حل؟
- ٹوکنائزیشن سے مراد کسی بنیادی اثاثے پر ملکیت یا حقوق کو بلاک چین پر موجود ایک ڈیجیٹل ٹوکن کی صورت میں ظاہر کرنا ہے
پاکستان کا بجلی کا شعبہ ایک شیطانی چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ 2025 کے آغاز تک گردشی قرضہ 2.4 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ بیشتر بجلی گھر کم استعداد پر چلنے کے باوجود ملک اب بھی آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو بھاری مستقل استعداد ادائیگیاں (کیپیسٹی چارجز) کر رہا ہے۔ دوسری جانب گھریلو اور تجارتی سطح پر شمسی توانائی کے نظام تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں تاکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے بچا جا سکے۔ اس رجحان کے نتیجے میں ادائیگی کرنے والے صارفین کی تعداد کم ہو رہی ہے، فی یونٹ لاگت بڑھ رہی ہے اور پورے نظام پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔
تاہم اس بحران میں ایک پوشیدہ موقع بھی موجود ہے۔ پاکستان ایشیا میں شمسی اور ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے بہترین وسائل رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ملک کی ڈیجیٹل معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ترسیلاتِ زر کے دنیا کے بڑے راہداری نظاموں میں اس کا شمار ہوتا ہے، جبکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ کرپٹو اثاثوں اور بلاک چین پر مبنی مالیاتی نظام سے بھی واقف ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے ایک ابھرتے ہوئے مالیاتی تصور، یعنی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن پر غور کرنا ایک منفرد موقع ہو سکتا ہے۔
ٹوکنائزیشن وہ عمل ہے جس میں کسی بنیادی اثاثے سے وابستہ ملکیت یا حقوق کو بلاک چین پر ایک ڈیجیٹل ٹوکن کی شکل دی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے کسی اثاثے کی جزوی ملکیت ممکن ہو جاتی ہے، جسے محفوظ اور شفاف انداز میں ضابطہ کار کے تحت چلنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خریدا اور فروخت کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بہاولپور میں قائم کسی شمسی توانائی منصوبے کی مستقبل کی آمدنی کو ہزاروں ڈیجیٹل سرمایہ کاری یونٹس میں تقسیم کرکے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔
یہ اب محض تجرباتی ٹیکنالوجی نہیں رہی۔ ترقی یافتہ ممالک میں توانائی کے شعبے میں ٹوکنائزیشن پر مبنی مالیاتی نظام عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اٹلی میں اینیل نے مائیکا (MiCA) ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت بلاک چین پر مبنی جزوی ملکیت کے منصوبے متعارف کرائے ہیں۔ آسٹریلیا میں پاور لیجر بلاک چین کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کی براہِ راست خرید و فروخت ممکن بنا رہا ہے، جبکہ امریکا میں پلورل انرجی جیسی کمپنیاں درمیانے درجے کے صاف توانائی منصوبوں کے لیے ٹوکنائزیشن کے ذریعے زیادہ سرمایہ کاروں کو متوجہ کر رہی ہیں۔ یہ محض نظریاتی تصور نہیں بلکہ حقیقی کاروباری ماڈلز میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ہے۔
پاکستان کے حالات میں اس تصور کی افادیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔
سب سے پہلے، گردشی قرضے کے بحران نے توانائی کے شعبے میں مالیاتی اور شفافیت کے مسائل کو جنم دیا ہے۔ موجودہ نظام میں غیر واضح واجبات، تاخیر سے ادائیگیاں، خودمختار ضمانتیں اور وقتی مالی امداد معمول بن چکی ہیں۔ مستقبل کی بجلی آمدنی کی بنیاد پر جاری کیے جانے والے ٹوکنائزڈ مالیاتی آلات نظام میں زیادہ شفافیت، خودکار ادائیگیوں اور مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کے تعین میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگرچہ ٹوکنائزیشن بنیادی ساختی مسائل ختم نہیں کرے گی، لیکن اس سے مالیاتی شفافیت ضرور بہتر ہو سکتی ہے۔
دوسری اہم وجہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہیں۔ اگرچہ ترسیلاتِ زر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، لیکن بیشتر اوورسیز پاکستانیوں کے پاس ملکی بنیادی ڈھانچے میں طویل المدتی اور شفاف سرمایہ کاری کا کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ موجود نہیں۔ اگر انہیں کسی شمسی یا آبی بجلی منصوبے میں ضابطہ کار کے تحت ٹوکنائزڈ حصہ اور باقاعدہ منافع کی سہولت دی جائے تو یہ سرکاری اداروں کے روایتی کاغذی سرمایہ کاری منصوبوں سے کہیں زیادہ پرکشش ثابت ہو سکتا ہے۔
تیسری وجہ ضابطہ جاتی ماحول میں آنے والی تبدیلی ہے۔ پی وی اے آر اے اور پی ڈی اے اے جیسے اداروں کا قیام اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت بلاک چین پر مبنی مالیاتی نظام کو مرکزی معیشت کا حصہ بنانے کی جانب پیش رفت کر رہی ہے۔ اگرچہ ضابطہ جاتی وضاحت ابھی مکمل نہیں، تاہم کرپٹو اپنانے کے حوالے سے پاکستان دنیا کی نمایاں منڈیوں میں شمار ہوتا ہے۔ طلب پہلے ہی موجود ہے، ضرورت صرف ایک ایسے معتبر اور ضابطہ کار کے تابع نظام کی ہے جو ڈیجیٹل سرمایہ کو قیاس آرائی کے بجائے پیداواری شعبوں کی طرف منتقل کرے۔
چوتھی وجہ شمسی توانائی کا تیزی سے پھیلتا ہوا استعمال ہے۔ پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے تحت چھتوں پر نصب شمسی نظاموں کی مجموعی استعداد تقریباً 6 گیگاواٹ تک پہنچنے والی ہے، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں شمسی پینلز کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے کیونکہ صارفین مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے متبادل ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔ یہ غیر مرکزی توانائی انقلاب روایتی مالیاتی ڈھانچوں سے باہر وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ ایسے منتشر قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو قابلِ تجدید توانائی سرٹیفکیٹس، کاربن کریڈٹ اسکیموں اور تصدیق شدہ بجلی پیداوار کی بنیاد پر جزوی سرمایہ کاری ماڈلز کے ذریعے رسمی سرمایہ منڈیوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔
تاہم اس راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں۔ ڈیجیٹل سیکیورٹیز، ٹوکن کی تحویل، سرمایہ کاروں کا تحفظ، ٹیکس نظام اور تنازعات کے حل جیسے معاملات پر پاکستان میں ابھی جامع قانون سازی درکار ہے۔ اگرچہ اسمارٹ کنٹریکٹس کارکردگی بہتر بنا سکتے ہیں، لیکن کوڈنگ کی خامیاں یا نظم و نسق کی کمزوریاں بڑے مالیاتی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک کے سرمایہ جاتی ضوابط اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط بھی سرحد پار ٹوکنائزڈ سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
اس سے بھی بڑا مسئلہ سرمایہ کاروں کا اعتماد ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران آئی پی پیز کے متعدد معاہدوں پر نظرثانی نے معاہدوں کے تقدس پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کار مستقبل میں اسی وقت اعتماد کریں گے جب انہیں یقین ہو کہ ڈیجیٹل ٹوکن کے ساتھ وابستہ حقوق قانونی طور پر مکمل طور پر قابلِ نفاذ ہوں گے۔
اس کے ساتھ ایک اہم سماجی انصاف کا پہلو بھی موجود ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے، بینکنگ نظام سے وابستہ اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد فطری طور پر ایسے ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارمز سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر اس پہلو پر توجہ نہ دی گئی تو ٹوکنائزیشن کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ توانائی کے منصوبوں کی ملکیت نسبتاً خوشحال طبقے تک محدود ہو جائے، جبکہ توانائی کی بڑھتی لاگت کا بوجھ زیادہ کمزور اور غریب طبقات پر پڑتا رہے۔
تاہم یہ خدشات اس تصور کو مسترد نہیں کرتے بلکہ صرف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس پر عمل درآمد میں احتیاط اور درست مرحلہ وار حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
مصنف کے مطابق پاکستان کو ملک گیر سطح پر وسیع منصوبے شروع کرنے کے بجائے پہلے محدود اور سخت نگرانی میں پائلٹ منصوبوں سے آغاز کرنا چاہیے۔ پی وی اے آر اے اور پی ڈی اے اے، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے تعاون سے ایک ریگولیٹری سینڈ باکس قائم کر سکتے ہیں، جہاں قابلِ تجدید توانائی کی ٹوکنائزیشن کے محدود تجرباتی منصوبے، خصوصاً بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے، شروع کیے جائیں۔
اس سلسلے میں پہلے سے قائم شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کو، جو مخصوص قابلِ تجدید توانائی زونز میں موجود ہیں، پائلٹ پروگرام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان میں خطرات نسبتاً کم ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ معلومات کے افشا، ڈیجیٹل تحویل، ثانوی منڈی میں ٹریڈنگ اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سے متعلق واضح اور شفاف ضابطے بھی وضع کیے جانے چاہییں۔
مصنف کے مطابق کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت پاکستان میں بجلی کی منڈی میں جاری اصلاحات بھی ایک اہم موقع فراہم کرتی ہیں کہ مالیاتی تصفیے کے نظام کو ابتدا ہی سے جدید خطوط پر استوار کیا جائے، بجائے اس کے کہ بعد میں اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔
مصنف واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے توانائی بحران کا حل صرف ٹوکنائزیشن نہیں ہے۔ اس کے لیے بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر ضابطہ کاری اور مناسب ٹیرف ڈھانچے بھی ناگزیر ہیں۔ تاہم توانائی کے شعبے میں ایک ایسی چیز کی شدید کمی ہے جو سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع کرے، شفافیت میں اضافہ کرے اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے نئے سرمایہ کاری مواقع پیدا کرے، اور ٹوکنائزیشن اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
مصنف کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی بنیادیں اب کافی حد تک پختہ ہو چکی ہیں، سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی موجود ہے، قابلِ تجدید توانائی کے وسائل کی صلاحیت بھی مسلمہ ہے، اور پاکستان بھی پہلی بار ضابطہ کار کے تحت ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے لیے ضروری ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینا شروع کر چکا ہے۔
آخر میں مصنف سوال اٹھاتا ہے کہ آیا پالیسی ساز ٹوکنائزیشن کو واقعی معاشی اصلاحات کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر اپنائیں گے یا پھر یہ بھی محض ایک ایسا دلکش تصور ثابت ہوگا جس پر کچھ عرصہ گفتگو تو ہوگی، مگر بعد ازاں وہ ان بے شمار پالیسیوں کی طرح فراموش کر دیا جائے گا جو کبھی عملی جامہ ہی نہ پہن سکیں۔






















Comments