"ساؤتھ ایئر" کا کراچی سے اندرون ملک پروازوں کا آغاز
- نئی فضائی سروسز سے ملک بھر میں فضائی رابطوں میں بہتری متوقع ہے، پی اے اے کا مؤقف
پاکستان کی نجی علاقائی فضائی کمپنی ” ساؤتھ ایئر“ نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے باقاعدہ پروازوں کے شیڈول کا آغاز کر دیا ہے۔
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق یہ ملک کے مقامی ہوا بازی کے نیٹ ورک میں ایک اہم اضافہ ہے۔ایئرلائن نے کراچی، تربت، کوئٹہ اور کراچی، بہاولپور، اسلام آباد کے روٹس پر اپنی شیڈولڈ پروازوں کا آغاز کیا ہے۔ افتتاحی پروازیں تربت کے لیے Z8911 اور بہاولپور کے لیے Z8942، جمعرات کی صبح کراچی سے روانہ ہوئیں۔
پی اے اے کے مطابق ان نئی پروازوں سے ملکی روابط میں بہتری اور مسافروں کو ملک بھر میں سفر کے بہتر متبادل فراہم ہونے کی امید ہے۔ابتدائی طور پر ساؤتھ ایئر تربت کے روٹ پر ہفتہ وار ایک پرواز اور بہاولپور کے روٹ پر ہفتہ وار تین پروازیں چلائے گی۔کراچی سے تعلق رکھنے والی اس ایئر لائن کا مستقبل قریب میں پشاور، رحیم یار خان، سکھر اور گوادر کے لیے بھی پروازیں شروع کرکے اپنے نیٹ ورک کو وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔ٹورازم پروموشن اینڈ ریجنل انٹیگریشن (ٹی پی آر آئی) لائسنس کے تحت کام کرتے ہوئے ایئر لائن کی ان نئی خدمات سے پاکستان بھر میں فضائی رابطوں کو بہتر بنا کر سیاحت کے فروغ، تجارت کی سہولت اور علاقائی یکجہتی کو مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ایئرلائن اپنی خدمات کا آغاز جدید اے ٹی آر 72-600 طیاروں کے ساتھ کر رہی ہے، جو اپنی ایندھن کی بچت، آپریشنل کارکردگی اور بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر پورا اترنے کی وجہ سے دنیا بھر میں مختصر اور درمیانے فاصلے کی پروازوں کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔
ملکی پروازوں کے آغاز پر تبصرہ کرتے ہوئے ساؤتھ ایئر کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نشاط فاطمہ نے کہا کہ ایئر لائن کا مستقبل قریب میں اپنے روٹس کے نیٹ ورک اور بیڑے کو وسعت دینے کا منصوبہ ہے، تاکہ ملک بھر کے مزید شہر جدید فضائی سفر کی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ساؤتھ ایئر کا قیام محض ایک نئی ایئر لائن کا اضافہ نہیں ہے، بلکہ پاکستان کے فضائی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی ایک قومی کوشش ہے۔ ہمارا عزم ہر مسافر کو محفوظ، وقت کی پابند اور اعلیٰ معیار کی سفری خدمات فراہم کرنا ہے اور ان علاقوں کو قومی ہوا بازی کے نیٹ ورک سے جوڑنا ہے جہاں اب تک فضائی خدمات محدود رہی ہیں۔























Comments