امریکی فوج نے بتایا ہے کہ اس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف تازہ فضائی حملوں کا مرحلہ مکمل کرلیا ہے۔ ان حملوں میں بندر عباس کو بھی نشانہ بنایا گیا جو آبنائے ہرمز پر واقع ایران کا اہم ترین بندرگاہی شہر ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے بندر عباس سمیت متعدد مقامات پر اہداف کو نشانہ بنایا جو ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ اور آبنائے ہرمز پر واقع نیوی اور پاسدارانِ انقلاب کی اہم تنصیبات کا مرکز ہے۔
امریکی فوج نے مزید کہا کہ آج صبح سویرے امریکی افواج نے 90 منٹ تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران گریٹر تنب جزیرے پر واقع ساحلی دفاعی تنصیبات اور کروز میزائل مراکز کو نشانہ بنایا۔
ٹرمپ نے اس ہفتے ایران کے توانائی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی جبکہ اگلے ہفتے پلوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
جنگ میں انسانی ہمدردی کے برتاؤ سے متعلق 1949 کے جنیوا کنونشنز، شہریوں کے لیے ضروری سمجھے جانے والے مقامات پر حملوں کی ممانعت کرتے ہیں۔
رواں سال کے اوائل میں ٹرمپ کی جانب سے ایسے اہداف پر حملے کی دھمکیوں کے بعد امریکہ میں بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے کہا تھا کہ اس طرح کے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپریل میں بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے تہران کے ساتھ جنگ بندی سے قبل ایران کی پوری تہذیب تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔






















Comments