BR100 Increased By (0.44%)
BR30 Increased By (1.39%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.61%)
BAFL 58.79 Decreased By ▼ -0.35 (-0.59%)
BIPL 26.82 Increased By ▲ 0.20 (0.75%)
BOP 35.38 Increased By ▲ 0.26 (0.74%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
DFML 19.77 Increased By ▲ 0.08 (0.41%)
DGKC 221.94 Increased By ▲ 3.32 (1.52%)
FABL 96.91 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 58.36 Increased By ▲ 1.61 (2.84%)
FFL 17.84 Decreased By ▼ -0.04 (-0.22%)
GGL 23.54 Decreased By ▼ -0.12 (-0.51%)
HBL 294.10 Increased By ▲ 1.11 (0.38%)
HUBC 231.41 Decreased By ▼ -0.40 (-0.17%)
HUMNL 11.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.45%)
KEL 8.75 Increased By ▲ 0.33 (3.92%)
LOTCHEM 28.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.53%)
MLCF 107.15 Increased By ▲ 3.85 (3.73%)
OGDC 339.96 Increased By ▲ 1.79 (0.53%)
PAEL 44.49 Increased By ▲ 1.02 (2.35%)
PIBTL 18.64 Increased By ▲ 0.94 (5.31%)
PIOC 273.85 Increased By ▲ 3.85 (1.43%)
PPL 247.98 Increased By ▲ 3.66 (1.5%)
PRL 35.29 Decreased By ▼ -0.14 (-0.4%)
SNGP 123.17 Decreased By ▼ -2.49 (-1.98%)
SSGC 32.04 Decreased By ▼ -0.90 (-2.73%)
TELE 8.87 Decreased By ▼ -0.04 (-0.45%)
TPLP 10.57 Decreased By ▼ -0.26 (-2.4%)
TRG 64.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.77%)
UNITY 11.12 Increased By ▲ 0.09 (0.82%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.01 (0.8%)
پاکستان

سی ڈی ڈبلیو پی نے 34.74 ارب روپے مالیت کے 15 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی

  • منظور شدہ منصوبوں میں معدنی وسائل کی تلاش، صحت، توانائی، سکیورٹی اور روبوٹکس کے شعبے شامل ہیں
شائع June 25, 2026 اپ ڈیٹ June 25, 2026 11:39pm

مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 34.74 ارب روپے مالیت کے 15 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی۔

منصوبوں کی منظوری جمعرات کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کے مطابق اجلاس میں معدنیات کی تلاش، صحت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، سکیورٹی، توانائی، روبوٹکس اور سڑکوں کے رابطوں سمیت مختلف شعبوں سے متعلق منصوبے پیش کیے گئے۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ منظور شدہ منصوبے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے وژن سے ہم آہنگ ہیں، جن کا محور ڈیجیٹل تبدیلی، جدید انفراسٹرکچر، بہتر روابط اور پائیدار اقتصادی ترقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری پاکستان کو علم پر مبنی اور مسابقتی معیشت بنانے کے سفر کو تیز کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

اجلاس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق تین منصوبے پیش کیے گئے۔ 7.93 ارب روپے لاگت کے ’’ایمرجنگ ٹیکنالوجیز ڈیٹا سینٹر کے قیام‘‘ کے منصوبے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے اسے مزید غور کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔ منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور بگ ڈیٹا اینالیٹکس کے لیے قومی سطح پر ایک محفوظ اور خودمختار ڈیٹا سینٹر قائم کرنا ہے۔

اسی شعبے کے ایک اور منصوبے ’’نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایکو سسٹم ڈویلپمنٹ پروگرام‘‘ کی مالیت 13 ارب روپے ہے، جسے اصولی منظوری دے کر ایکنک کو ارسال کیا گیا۔ منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام، تکنیکی ضروریات، مالی امکانات اور قانونی و انتظامی ڈھانچے کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔

اجلاس میں ’’پاکستان کمیونیکیشن سیٹلائٹ-2 (پاک سیٹ-2)‘‘ منصوبہ بھی پیش کیا گیا، جس کی لاگت 37.19 ارب روپے ہے۔ منصوبے کو بھی اصولی منظوری دیتے ہوئے ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔ اس کے تحت جیو اسٹیشنری مدار میں مواصلاتی سیٹلائٹ کی تنصیب اور لاہور و کراچی میں موجود گراؤنڈ کنٹرول مراکز کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔

فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ سیکٹر کے تحت اسلام آباد پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (ایس پی یو) کے قیام کے لیے زمین کے حصول اور فزیبلٹی اسٹڈی کے منصوبے کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔ 9.41 ارب روپے مالیت کے اس منصوبے میں سیکٹر ایچ-11 اسلام آباد میں 26.76 کنال اراضی کا حصول شامل ہے۔

آزاد جموں و کشمیر حکومت کے 10 ارب روپے مالیت کے ’’بجلی کی فراہمی کے نظام کی بہتری اور مضبوطی‘‘ کے منصوبے کو بھی اصولی منظوری دی گئی۔ منصوبے میں 11 کے وی فیڈرز کی اپ گریڈیشن، نئے ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کی تنصیب اور مرمتی ورکشاپس کے قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔

ٹرانسپورٹ و مواصلات کے شعبے کے چار منصوبوں کو بھی اصولی منظوری دے کر ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔ ان میں 20.35 ارب روپے مالیت کا ’’لالہ موسیٰ بائی پاس (این-5)‘‘ اور 278.62 ارب روپے مالیت کا ’’ایم ایل-3 ریلوے ٹریک اپ گریڈیشن منصوبہ‘‘ شامل ہیں۔ ایم ایل-3 منصوبے کے تحت روہڑی، سبی، کوئٹہ اور کوہِ تفتان کے درمیان 996 کلومیٹر طویل ریلوے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کی جائے گی۔

اسی طرح 43.65 ارب روپے لاگت کے ’’ماشخیل چیدگی روڈ‘‘ منصوبے کو بھی اصولی منظوری دی گئی، جس میں 4.1 کلومیٹر طویل سرنگ، پلوں، حفاظتی دیواروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل ہے۔

اجلاس میں میرپور آزاد کشمیر میں ’’رتھوا ہریام پل‘‘ کی تعمیر کے نظرثانی شدہ منصوبے کو بھی اصولی منظوری دی گئی۔ 10.87 ارب روپے مالیت کے اس منصوبے کے تحت تقریباً 3 کلومیٹر طویل پل اور 4.24 کلومیٹر طویل دو رویہ رابطہ سڑک تعمیر کی جائے گی۔

منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ یہ ایک طویل عرصے سے تاخیر کا شکار منصوبہ تھا جس پر 2018 سے کام رکا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 2022 میں موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد اس منصوبے کی بحالی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ منصوبے کی لاگت پر نظرثانی کے بعد اسے 9.98 ارب روپے کے تخمینے سے مکمل طور پر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت فنڈ فراہم کیا گیا اور اب یہ منصوبہ جسمانی طور پر مکمل ہو چکا ہے، جو تعطل کا شکار ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔

Comments

200 حروف