آئی ایم ایف کا انتباہ: امریکا ایران معاہدے کے باوجود توانائی و اجناس کی منڈیاں فوری استحکام کی جانب نہیں لوٹیں گی
- آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک سے سپلائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد یوریا، دیگر کھادوں اور بنیادی دھاتوں کی قیمتیں نیچے آنا شروع ہو گئی ہیں
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے بعد توانائی اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں کمی ضرور دیکھی گئی ہے، تاہم قیمتوں اور خلیجی تجارتی سرگرمیوں کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔
آئی ایم ایف کی ترجمان جولی کوزیک نے جمعرات کو ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ ادارہ 8 جولائی کو جاری ہونے والے اپنے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک کے تازہ جائزے میں یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا اپریل میں پیش کیے گئے عالمی نمو کے تین ممکنہ منظرناموں کو برقرار رکھا جائے یا نہیں، جو ایران جنگ کے مختلف نتائج پر مبنی تھے۔
مئی میں جب آبنائے ہرمز بند تھی اور عالمی معیار کے خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار تھی، تب آئی ایم ایف نے خبردار کیا تھا کہ عالمی معیشت نسبتاً بہتر منظرنامے سے نکل کر ایک منفی منظرنامے کی جانب بڑھ رہی ہے، جس میں 2026 کے لیے عالمی اقتصادی نمو 2.5 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔
اس منفی منظرنامے میں 2026 کے دوران خام تیل کی اوسط قیمت 100 ڈالر فی بیرل، مالیاتی حالات میں سختی اور مہنگائی کے بڑھتے خدشات شامل تھے۔
تاہم جولی کوزیک نے کہا کہ مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے اقدامات کے باعث مہنگائی سے متعلق توقعات قابو میں رہی ہیں، جبکہ ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں دونوں کو عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی حاصل رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خلیجی ممالک سے ترسیل دوبارہ شروع ہونے کے بعد یوریا، دیگر کھادوں اور بنیادی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، تاہم شپنگ کے دورانیے اور سپلائی چین کے تقاضوں کے باعث قیمتوں اور تجارت کی مکمل بحالی میں وقت لگے گا۔
جولی کوزیک کے بقول، ”معمول کی صورتحال میں واپسی کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا، اور یہ سب اسی صورت ممکن ہے جب جنگ بندی برقرار رہے۔“
آئی ایم ایف کے مطابق سب سے زیادہ تشویش ان ترقی پذیر ممالک کے بارے میں ہے جو توانائی درآمد کرتے ہیں اور جن کے پاس تیل یا دیگر اجناس کے ذخائر اور مالی گنجائش محدود ہے، خصوصاً افریقی ممالک۔
بھارت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہاں اندرونی طلب بدستور مضبوط ہے اور مالی سال 2026-27 کے دوران حقیقی جی ڈی پی نمو 6.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔





















Comments