آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں اضافہ، تاہم صورتحال تاحال معمول پر نہیں آئی
- آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایک روز میں گزرنے والے جہازوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ اب بھی جنگ سے قبل کی سطح کے تقریباً نصف کے برابر ہے۔ حکام نے جمعرات کو بتایا ہے کہ خلیج میں پھنسے ملاحوں کا انخلا بھی جاری ہے۔
تجزیاتی ادارے کلر (Kpler) کے مطابق بدھ کے روز آبنائے ہرمز سے 70 تصدیق شدہ بحری گزرگاہیں ریکارڈ کی گئیں۔
یہ یکم مارچ کو امریکی-اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد ایک ہی دن میں گزرنے والے جہازوں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔
کلر کے ٹریکنگ پلیٹ فارم کے مطابق بدھ کو کم از کم 56 اجناس بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں تیل اور گیس کے ٹینکرز کے علاوہ کھاد جیسی خشک اجناس لے جانے والے بحری جہاز بھی شامل تھے۔
جمعرات کو دوپہر تک مزید 15 اجناس بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کر چکے تھے۔ یہ تعداد یکم مارچ سے 14 جون کے درمیان یومیہ اوسط 10 جہازوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ 14 جون کو ایران اور امریکا نے جنگ کے خاتمے پر بات چیت کے آغاز کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا تھا۔
سمندری نگرانی کے ادارے اے ایکس ایس میرین کے مطابق یکم مارچ کے بعد پہلی مرتبہ خشک مال بردار جہازوں کی آمدورفت بدھ کے روز 2025 کی معمول کی سطح تک پہنچ گئی، جب 22 جہازوں نے یہ آبی گزرگاہ عبور کی۔
آمدورفت میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جنگ کے باعث خلیج میں پھنس جانے والے تقریباً 11 ہزار ملاحوں میں سے بعض کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔
ملاحوں کے انخلا کے لیے اقوام متحدہ کی زیر قیادت منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کا آغاز منگل کی شام کیا گیا تھا۔
شپنگ کمپنی مرسک نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کے دو جہاز بدھ کی شام اور جمعرات کی صبح خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے، تاہم کمپنی کے مزید تین جہاز اب بھی وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔
15 جون سے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس برآمدات کی گزرگاہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج سے نکلنے والے جہاز مختلف متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بحری آمدورفت ابھی جنگ سے پہلے کی معمول کی صورتحال میں واپس نہیں آئی۔ جنگ سے قبل جہاز آبنائے کے وسط میں قائم ٹول فری راہداری سے گزرتے تھے۔
شپنگ جریدے لائیڈز لسٹ کے مدیرِ اعلیٰ رچرڈ میڈ نے ایک بریفنگ میں کہا، ’’ایران اب بھی شمالی بحری راستوں پر سخت نگرانی برقرار رکھے ہوئے ہے اور اطلاعات ہیں کہ مخصوص اجازت نامے مرحلہ وار جاری کیے جا رہے ہیں۔‘‘
تہران نے جمعرات کو خبردار کیا کہ ایران کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
رچرڈ میڈ کے مطابق، ’’امریکی بحریہ کی نگرانی میں جنوبی عمانی راہداری استعمال کرنے والے غیر ایرانی جہازوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ حالات مکمل طور پر معمول پر آ چکے ہیں۔‘‘
برطانوی بحریہ نے منگل کو بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز کی مرکزی بحری راہداری میں محفوظ جہاز رانی کی راہ میں حائل بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے یورپی مائن سویپر جہاز خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔
دریں اثنا، برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ( یوکے ایم ٹی او) ایجنسی کے مطابق جمعرات کو آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز نامعلوم گولہ یا میزائل لگنے سے نقصان کا شکار ہوا، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔





















Comments