مشرقِ وسطیٰ کے برآمدات بڑھانے کے باعث خلیجی تیل بردار جہازوں کے کرایے تقریباً دوگنا ہو گئے
- آبنائے ہرمز سے باہر تیل بردار جہاز کرائے کی شرحیں بڑھ کر 1 لاکھ 90 ہزار 500 ڈالر یومیہ تک پہنچ گئی ہیں
تیل بردار جہازوں کے آپریٹرز رواں ہفتے غیر معمولی منافع کما رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز اور وسیع خلیجی خطے سے گزرنے والے جہازوں کے کرایوں میں تقریباً دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔ شپنگ ڈیٹا اور ذرائع کے مطابق ٹریفک میں بتدریج بحالی کے ساتھ طلب میں اضافہ ہوا ہے جس سے شرحیں بلند ہو گئی ہیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ 60 روزہ جنگ بندی پر رضامندی کے بعد گزشتہ ہفتے عائد کی گئی موثر ناکہ بندی ختم ہونے کے باوجود اب بھی محدود ہے، جبکہ مستقل امن معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد اس جنگ سے قبل یومیہ اوسط 125 کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔ اندازوں کے مطابق 100 کے قریب آئل ٹینکرز خلیج کے اندر کارگو سمیت پھنسے ہوئے ہیں، جس سے دستیاب جہازوں کی کمی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
شپ بروکرز اور صنعتی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز سے باہر ٹینکر کے کرائے ایک ہفتے میں بڑھ کر 1 لاکھ 90 ہزار 500 ڈالر یومیہ ہو گئے ہیں، جو اس سے قبل ایک لاکھ 6 ہزار 500 ڈالر یومیہ تھے، جبکہ خلیج سے باہر کے چارٹر ریٹس میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بڑے خام تیل بردار جہازوں ( وی ایل سی سیز) کی یومیہ آمدن خلیج کے اندر ان کارگو کے لیے جو آبنائے ہرمز سے گزرنا ضروری رکھتے ہیں، تقریباً 4 لاکھ 70 ہزار ڈالر یومیہ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ شپ بروکرز اور صنعتی ذرائع کے اندازوں کے مطابق یہ آمدن ایک ہفتے کے دوران 50 ہزار ڈالر سے زائد بڑھ چکی ہے۔
شپ بروکریج ادارے کلارکسنز کے مطابق ٹینکر مالکان آئندہ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافے کی تیاری کر رہے ہیں، اور انہیں اس بات سے بھی تقویت ملی ہے کہ امریکی ایران کشیدگی کے آغاز کے باوجود اسپاٹ ٹائم چارٹر ایکویویلنٹ (ٹی سی ای) آمدن اوسطاً ایک لاکھ ڈالر یومیہ سے اوپر رہی ہے۔
کلارکسنز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹینکرز کی دستیابی پہلے ہی انتہائی محدود ہے، اور اگر آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھلتی ہے تو اس سے گنجائش پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک، بالخصوص ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی)، اس ماہ بڑی تعداد میں خام تیل کے ٹینڈرز جاری کر رہے ہیں اور خریداروں کو خلیج کے اندر سے لوڈنگ کی ترغیب دے رہے ہیں، جس سے ٹینکرز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
جنوبی کوریا کی شپنگ کمپنی سنوکار، جو دنیا کے بڑے سپر ٹینکر آپریٹرز میں شمار ہوتی ہے — نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ کمپنی کا ایک بیلجیم بی سپر ٹینکر پیر کے روز خلیج میں داخل ہوا، جو اس گروپ کے ان جہازوں میں سے تازہ ترین ہے جو لوڈنگ کے لیے بھیجے گئے ہیں، اور منگل کو شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق عراق کے ٹرمینلز کی جانب رواں تھا۔
اگرچہ ٹینکر ریٹس میں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم انشورنس ذرائع کے مطابق جنگی خطرات کے پریمیم میں گزشتہ پانچ دنوں کے دوران کمی آئی ہے اور یہ ایک ہفتہ قبل تقریباً 5 فیصد سے کم ہو کر اب جہاز کی مجموعی مالیت کے تقریباً 3 فیصد تک آ گیا ہے، جس میں ڈسکاؤنٹس شامل نہیں۔ اس کمی سے جہازوں کے لیے انشورنس لاگت میں لاکھوں ڈالر کی بچت ممکن ہو گئی ہے۔
بھارت کے خریدار، جن میں اس کا سب سے بڑا ریفائنر ریلائنس بھی شامل ہے، کئی ماہ سے سپلائی میں تعطل کے بعد اس خطے سے خام تیل کی خریداری کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ریلائنس نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔























Comments