ٹرمپ کا دعویٰ: ایران جوہری معائنے پر رضامند
- ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت شروع کی ہے یا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اصرار کیا ہے کہ ایران نے طویل مدت تک جوہری معائنوں کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ”ایران نے مکمل طور پر اور اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنے طویل مدت کے لیے (یہاں تک کہ لامحدود مدت تک!!!) مان لیے ہیں۔ یہ ‘جوہری شفافیت’ کو یقینی بنائے گا۔ اگر وہ اس پر راضی نہ ہوتے تو مزید مذاکرات نہ ہوتے!“
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت شروع نہیں کی اور نہ ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز برقرار رکھے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر ایران کی بندرگاہوں پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کی جا سکے، تاہم ان کے مطابق یہ امکان “اس وقت انتہائی کم” ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز سے 1.9 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پیر سے ایران پر امریکی پابندیوں میں 60 دن کی نرمی کی گئی ہے، جو ابتدائی امن معاہدے کے بعد کی گئی بات چیت کے تحت ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والی رقوم ایک ایسکرو اکاؤنٹ میں امریکی کنٹرول کے تحت رکھی جائیں گی اور یہ صرف خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال ہوں گی، جو امریکہ سے حاصل کیے جائیں گے، جن میں مکئی، گندم اور سویا بین شامل ہیں۔
ٹرمپ نے لکھا: ”یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ایران کو شدید ضرورت ہے۔ یہ ایک انسانی بحران ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ مدد کرنا ضروری ہے، ابھی — اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔“























Comments