سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے اہم نکات
- ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ثالثی کرنے والے ممالک پاکستان اور قطر کی مدد سے حاصل ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے اسے "نمایاں پیش رفت" قرار دیا ہے
ایران اور امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کو پیر کے روز مکمل کر لیا، جبکہ تکنیکی سطح پر بات چیت جاری رہے گی۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر اور پاکستان کی ثالثی سے حاصل ہونے والی “نمایاں پیش رفت” کو سراہا، جبکہ امریکی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
قطر اور پاکستان کے مشترکہ بیان کے مطابق پہلے دور کے اختتام پر اہم نکات درج ذیل ہیں:
- تہران اور واشنگٹن کی جانب سے قائم کی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت مزید تکنیکی بات چیت کی فوری بنیاد رکھ دی گئی ہے۔
- تکنیکی مذاکرات اس ہفتے کے باقی دنوں میں برگن اسٹاک میں تمام متعلقہ امور پر جاری رہیں گے۔
لبنان ’ڈی-کنفلکشن سیل‘
امریکہ اور ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایک ”ڈی-کنفلکشن سیل“ قائم کیا جائے گا، جس میں دونوں فریق، لبنانی حکومت اور ثالث ممالک شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، جیسا کہ مشترکہ بیان میں کہا گیا۔
لبنان میں حالیہ دنوں میں جاری لڑائی نے امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز ایکس پر لکھا کہ لبنان میں یہ ڈی-کنفلکشن سیل ”اصل امتحان“ ثابت ہوگا۔
آبنائے ہرمز ‘کمیونیکیشن لائن’
تہران اور واشنگٹن نے ایک رابطہ لائن قائم کی ہے جس کا مقصد کسی بھی حادثے یا غلط فہمی سے بچنا اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے، جیسا کہ بیان میں کہا گیا۔
یہ رابطہ لائن 60 روزہ مدت کے لیے مؤثر ہوگی، جو پہلے سے طے شدہ مفاہمت نامے کے تحت ہے، جس میں ایران نے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ”ہر ممکن کوشش“ کا عزم ظاہر کیا تھا۔
ایران نے ہفتے کے روز اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
کچھ منجمد اثاثے بحال
عباس عراقچی نے پیر کے روز ایکس پر لکھا کہ ”تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے، کچھ منجمد اثاثے بھی بحال کر دیے گئے ہیں، اور ایران کے لیے بڑا تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔“
تاہم پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان میں ایرانی اثاثوں کے کسی حصے کے اجراء کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکہ نے ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں ختم کرنے اور منجمد یا محدود فنڈز اور اثاثوں کو مکمل طور پر قابلِ استعمال بنانے کا عہد کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اے ایف پی کی جانب سے عباس عراقچی کے بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
پاکستان اور قطر کا اہم کردار
ایران اور امریکہ کے معاہدے میں پاکستان اور قطر نے ثالث کے طور پر نمایاں بین الاقوامی حیثیت حاصل کر لی ہے، اور دونوں ممالک نے پہلے دورِ مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ”ثالث ممالک اپنی پوری کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ مذاکرات تعمیری ماحول میں آگے بڑھیں اور فریقین کو حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مدد ملے۔“
عباس عراقچی نے اپنی ایکس پوسٹ میں ”پاکستان اور قطر کی انتھک ثالثی“ کو سراہتے ہوئے ان کے کردار کو خاص طور پر اہم قرار دیا۔






















Comments