ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان پہنچیں گے
- ایرانی صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد ہوگا، جس میں وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں، اسلام آباد
ایران کے صدر مسعود پزشکیان وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر منگل 23 جون کو اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔
دفترِ خارجہ نے بتایا کہ صدر پزشکیان کے ہمراہ وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا۔
ترجمان کے مطابق دورے کے دوران صدر پزشکیان پاکستان کے صدر سے ملاقات اور وزیر اعظم کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کریں گے۔
چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ بھی ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے۔ یاد رہے کہ صدر ایران کی حیثیت سے ڈاکٹر پزشکیان کا پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہوگا۔
دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور تجارت، توانائی، سرحدوں کی سیکیورٹی، عوامی روابط اور علاقائی رابطوں (کنیکٹیویٹی) سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے نئی راہیں تلاش کریں گے۔ یہ دورہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد جاری سفارتی روابط کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی حالات پر تبادلہ خیال کا ایک اہم موقع بھی فراہم کرے گا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔
اتوار کے روز شروع ہونے والے اور رات گئے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد وسطی سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام برگن اسٹاک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ہم نے ایک کامیاب حتمی معاہدے کے لیے بہت اچھی بنیاد رکھ دی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز اب “کھلی ہے اور وہاں سے لاکھوں بیرل خام تیل اور قدرتی گیس گزر رہی ہے جو اس سے پہلے نہیں گزر پا رہی تھی ۔
جھیل لوسرن کے کنارے واقع برگن اسٹاک کے پرتعیش کمپلیکس میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔






















Comments