اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں 2.7 فیصد کا بڑا اضافہ
- کاروبار کے اختتام پر100 انڈیکس 177,039.82 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو زبردست خریداری دیکھی گئی جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2.7 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، بعدازاں منافع سمیٹنے کے رجحان نے انڈیکس کو 175,085.79 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک دھکیل دیا۔
تاہم سیشن کے دوسرے حصے میں زبردست خریداری کا رجحان لوٹ آیا جس کی بدولت بینچ مارک 100 انڈیکس تیزی سے بحال ہوا اور 177,176.72 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 4,639.92 پوائنٹس یا 2.69 فیصد اضافے سے 177,039.82 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مجموعی طور پر ’سب اچھا ہے کے مثبت جذبات غالب رہے، کیونکہ مارکیٹ کے شرکاء نے حکومت کی جانب سے بجٹ میں اصلاحات پر مبنی اقدامات کا خیرمقدم کیا اور امریکہ و ایران کے درمیان ابتدائی امن معاہدے کی رپورٹس پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خدشات بھی کم ہو گئے۔
ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس میں حصہ ڈالنے کے لحاظ سے مارکیٹ کے بڑے حصص یو بی ایل، حبکو، لکی سیمنٹ، اینگرو اور ایف ایف سی مارکیٹ کو اوپر لے جانے والے بنیادی عوامل کے طور پر سامنے آئے اور انہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس کے اضافے میں 1,790 پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے شدید اتار چڑھاؤ اور 170,000 پوائنٹس کی اہم سطح سے نیچے جانے کے باوجود 100 انڈیکس میں 1.1 فیصد کا اضافہ ہوا کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں گراوٹ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا اور مارکیٹ میں رسک لینے کی صلاحیت کو تقویت دی۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 100 انڈیکس 1,921 پوائنٹس یا 1.13 فیصد اضافے سے 172,399.90 پوائنٹس پر بند ہوا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب جمعہ کو مالی سال 27-2026 کے لیے پاکستان کا وفاقی بجٹ پیش کیا جس میں حکومت نے جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد اور افراطِ زر (انفلیشن) کو 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
پیر کو ایشیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی جبکہ ڈالر کی قدر میں کمی اور تیل کی قیمتیں گرگئیں۔ یہ صورتحال امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ایک ابتدائی امن معاہدے کی وجہ سے پیدا ہوئی جس سے عالمی سطح پر افراطِ زر کے دباؤ میں کمی اور شرح سود میں اضافے کی ضرورت کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پر کہا کہ ایک معاہدہ طے پاگیا ہے جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی شامل ہے۔
ٹرمپ اس ہفتے فرانس میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور یوکرین کے صدر کے ساتھ ورکنگ سیشن میں شرکت کریں گے۔
ایران نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت کو وہ اور عمان مشترکہ طور پر منظم کریں گے جو آزاد تجارت کے اصولوں کے لیے ممکنہ دھچکا ہوسکتا ہے اور اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ شپنگ پر کسی قسم کا ٹول یا فیس عائد کی جاسکتی ہے۔
یہ خبر اس ہفتے اجلاس کرنے والے مرکزی بینکوں کے لیے باعثِ اطمینان ہوگی جس سے توانائی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی افراطِ زر کی توقعات کو روکنے کے لیے پالیسی کو مزید سخت کرنے کا دباؤ کچھ کم ہو جائے گا۔
مارکیٹس میں اس معاہدے کا امکان پہلے ہی متوقع تھا لیکن اس کی تصدیق برینٹ کروڈ (خام تیل) کی قیمت کو 4 فیصد گرا کر 83.80 ڈالر فی بیرل تک لانے کے لیے کافی تھی جو مئی کی بلند ترین سطح 126.41 ڈالر سے کافی نیچے ہے۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں 4.7 فیصد کمی ہوئی اور یہ 80.89 ڈالر فی بیرل پر آ گیا لیکن یہ اب بھی اس 67 ڈالر کی سطح سے اوپر ہے جس پر یہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ٹریڈ کر رہا تھا۔
دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 0.01 روپے (ایک پیسہ) کے اضافے کے ساتھ 278.31 پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 890.79 ملین شیئرز سے بڑھ کر 988.08 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔
حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 41.98 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 63.48 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
کوہ نور اسپننگ 64.13 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، جس کے بعد میپل لیف 45.55 ملین شیئرز اور بینک آف پنجاب 38.64 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔
پیر کو مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 349 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 119 کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ 26 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

























Comments