اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں 3100 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
- دوپہر 12 بجکر 30 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 175,517.90 پوائنٹس پر جاپہنچا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو زبردست خریداری دیکھی جاری رہی ہے جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3100 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ سرمایہ کاروں نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا۔
دوپہر 12 بجکر 30 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 3,118.00 پوائنٹس یا 1.81 فیصد اضافے سے 175,517.90 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
کمرشل بینکس، کھاد، سیمنٹ، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سی اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں بھرپور خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس کے بڑے حصص جن میں ڈی جے کے سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، ماری، اوجی ڈی سی، پی پی پی، پی اوایل اور حبکو شامل ہیں بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
گزشتہ ہفتے شدید اتار چڑھاؤ اور 170,000 پوائنٹس کی اہم سطح سے نیچے جانے کے باوجود 100 انڈیکس میں 1.1 فیصد کا اضافہ ہوا کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں گراوٹ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا اور مارکیٹ میں رسک لینے کی صلاحیت کو تقویت دی۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 100 انڈیکس 1,921 پوائنٹس یا 1.13 فیصد اضافے سے 172,399.90 پوائنٹس پر بند ہوا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب جمعہ کو مالی سال 27-2026 کے لیے پاکستان کا وفاقی بجٹ پیش کیا جس میں حکومت نے جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد اور افراطِ زر (انفلیشن) کو 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
پیر کو ایشیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی جبکہ ڈالر کی قدر میں کمی اور تیل کی قیمتیں گرگئیں۔ یہ صورتحال امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ایک ابتدائی امن معاہدے کی وجہ سے پیدا ہوئی جس سے عالمی سطح پر افراطِ زر کے دباؤ میں کمی اور شرح سود میں اضافے کی ضرورت کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پر کہا کہ ایک معاہدہ طے پاگیا ہے جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی شامل ہے۔
ٹرمپ اس ہفتے فرانس میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور یوکرین کے صدر کے ساتھ ورکنگ سیشن میں شرکت کریں گے۔
ایران نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت کو وہ اور عمان مشترکہ طور پر منظم کریں گے جو آزاد تجارت کے اصولوں کے لیے ممکنہ دھچکا ہوسکتا ہے اور اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ شپنگ پر کسی قسم کا ٹول یا فیس عائد کی جاسکتی ہے۔
یہ خبر اس ہفتے اجلاس کرنے والے مرکزی بینکوں کے لیے باعثِ اطمینان ہوگی جس سے توانائی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی افراطِ زر کی توقعات کو روکنے کے لیے پالیسی کو مزید سخت کرنے کا دباؤ کچھ کم ہو جائے گا۔
مارکیٹس میں اس معاہدے کا امکان پہلے ہی متوقع تھا لیکن اس کی تصدیق برینٹ کروڈ (خام تیل) کی قیمت کو 4 فیصد گرا کر 83.80 ڈالر فی بیرل تک لانے کے لیے کافی تھی جو مئی کی بلند ترین سطح 126.41 ڈالر سے کافی نیچے ہے۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں 4.7 فیصد کمی ہوئی اور یہ 80.89 ڈالر فی بیرل پر آ گیا لیکن یہ اب بھی اس 67 ڈالر کی سطح سے اوپر ہے جس پر یہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے
























Comments