وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں موجودہ حکومت کا مالی سال 27-2026 کے لیے تیسرا بجٹ پیش کیا جس کا کل حجم 18,771 ارب روپے ہے۔ یہ رقم مالی سال 26-2025 کے نظرثانی شدہ بجٹ 15,642 ارب روپے کے مقابلے میں 8.33 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
ایف بی آر کی کل آمدنی کا تخمینہ 15,264 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں سے 8,848 ارب روپے (57.5 فیصد) نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کیے جائیں گے۔
وفاقی حکومت کی نان ٹیکس آمدنی (بنیادی طور پر پیٹرولیم لیوی اور اسٹیٹ بینک کے منافع کے ذریعے) کا تخمینہ 5,336 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
اس کے بعد وفاقی حکومت کی خالص آمدن 11,751 ارب روپے ہوگی۔ اپنے اسٹریٹجک منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے وسائل میں اضافہ کرنے کی غرض سے وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں پر انحصار کرنا پڑا ہے اور صوبوں نے بھی اس موقع پر کردار ادا کرتے ہوئے اپنی قابلِ تقسیم محاصل (ڈویزیبل پول) سے وصولیوں کو گزشتہ سال کی سطح پر منجمد رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے صوبائی حکومتوں کو اپنے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرامز (ترقیاتی منصوبوں) میں کٹوتی کرنا ہوگی۔ تخمینہ ہے کہ صوبوں کی جانب سے یہ معاونت تقریباً 1,790 ارب روپے تک ہوگی جس سے مالی خسارہ 7,020 ارب روپے سے کم ہو کر 5,230 ارب روپے رہ جائے گا جو کہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد بنتا ہے۔
معیشت کی شرحِ نمو کو جی ڈی پی کے 4 فیصد پر رکھا گیا ہے تاہم یہ ایک خاصا مشکوک تخمینہ ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کا دباؤ، اس کے نتیجے میں سپلائی چین میں رکاوٹیں اور ترقی یافتہ دنیا میں تجارت کے حوالے سے بڑھتا ہوا تحفظ پسندی کا رجحان اس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
بجٹ تجاویز میں ٹیکس نیٹ کو بامعنی طور پر وسیع کرنے کی کوئی واضح کوشش نمایاں طور پر موجود نہیں ہے۔ تاجروں کے ساتھ مبینہ طور پر طے پانے والا معاہدہ، جس کے تحت انہیں ٹرن اوور کی بنیاد پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، ٹیکس کی مجموعی وصولی کے لحاظ سے نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی اس سے ٹیکس نیٹ میں کسی نمایاں وسعت کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت کو چاہیے کہ پہلے سے موجود شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائے جس کے تحت ہر تاجر کے لیے اپنی دکان یا کاروبار کی رجسٹریشن کرانا لازمی ہو اور وہ اپنی رجسٹریشن کو اپنے کاروباری مراکز میں نمایاں طور پر آویزاں کریں۔ اس سے حکومت کو ایک ایسا ڈیٹا بیس حاصل ہوگا جو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور تعمیل کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
بجٹ کے لیے رہنما اصولوں کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: 1) نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے ذریعے اسٹریٹجک ٹیرف کی تنظیمِ نو؛ 2)تجارتی عمل کو آسان بنانا، تجارت میں سہولت کاری اور نظام کی مجموعی کارکردگی میں اضافہ کرنا؛ اور 3) ہدف شدہ عوامی صحت میں ریلیف اور اہم شعبوں کے لیے معاشی تحریک (اسٹیمولس)۔
مذکورہ رہنما اصولوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے، 92 ٹیرف لائنز پر مختلف صنعتی شعبوں کے لیے خام مال پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹیز کی تمام سلیبوں میں 5 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ تقریباً 700 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹیز میں 2 فیصد کمی کی گئی ہے جبکہ ریگولیٹری ڈیوٹی کے نظام کو 1700 سے زائد ٹیرف لائنز تک کم کر دیا گیا ہے۔
غیر ملکی غیر منقولہ اور منقولہ اثاثوں کی ملکیت پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا خاتمہ ایک خوش آئند قدم ہے کیونکہ یہ سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا اور حکومت کی جانب سے مختلف ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں کے تحت دیے گئے واضح وعدوں کی بھی خلاف ورزی تھی۔
وفاقی آئینی عدالت کے اس فیصلے کی تعمیل میں جس میں غیر منقولہ جائیداد سے سمجھی گئی آمدنی پر ٹیکس (ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 7E) کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا، مذکورہ ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا اس کالعدم قانون کے تحت پہلے سے جمع شدہ ٹیکس کو واپس کیا جائے گا یا اسے ٹیکس دہندگان کی مستقبل کی ٹیکس ذمہ داریوں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
500 ملین روپے تک کی آمدنی والے افراد پر سے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے زائد آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی ہے۔
اسی طرح برآمدی آمدنی اور آئی ٹی و آئی ٹی سے منسلک خدمات پر عائد ٹیکس میں بھی کمی کی گئی ہے۔ غیر ملکی ادائیگیوں پر کارڈ کے ذریعے 5 فیصد ٹیکس عائد تھا جسے اب کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے کیونکہ یہ دیکھا گیا تھا کہ ایسی ادائیگیاں کرنے کے لیے غیر سرکاری ذرائع کا استعمال کیا جا رہا تھا۔
بزنس کلاس کے فضائی ٹکٹوں پر عائد 200,000 روپے کی بھاری فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی واپس لے لی گئی ہے۔
رواں سال کی ایک نمایاں خصوصیت ترسیلاتِ زر میں غیر معمولی اضافہ ہے جو پہلے ہی 40ارب ڈالر کی حد کو عبور کر چکی ہیں۔ خلیجی ممالک میں جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی تارکینِ وطن مقیم ہیں وہاں کے غیر مستحکم حالات کا اس میں واضح کردار ہے، کیونکہ ان میں سے کئی افراد اپنے نقد اثاثے وہاں سے منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر حکومت بغیر کسی سوال کے رقوم جمع کروانے کی قابلِ قبول حد کو دوبارہ دس ملین روپے تک بحال کر دے جسے کم کر کے پانچ ملین روپے سالانہ کر دیا گیا تھا، تو اس سے تارکینِ وطن کی بہت مدد ہوگی۔
ترسیلاتِ زر نے یقیناً ملک کو شدید بیرونی دباؤ سے بچنے کا موقع فراہم کیا ہے، تاہم ترسیلاتِ زر برآمدی آمدنی کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں کیونکہ یہ کھپت کو تو بڑھاتی ہیں لیکن برآمدی تبدیلی کے لیے براہِ راست صنعتی صلاحیت پیدا نہیں کرتیں، جو کہ حکومت کا بیان کردہ ہدف ہے اور اگر ہمیں کبھی بھی جڑواں خساروں کے چکر سے نکلنا ہے تو یہ ہدف بالکل درست ہونا چاہیے۔
یہ دلیل کافی معقول ہے کہ صنعتی معیشتوں میں کرنسی کی قدر میں کمی عام طور پر برآمدات کو فروغ دیتی ہے تاہم پاکستان میں ہمارے درآمدی متبادل کے صنعتی ماڈل کی وجہ سے یہ صرف قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات اور صنعتی خام مال کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے۔
معیشت کو کئی وجوہات کی بنا پر اپنے موجودہ چیلنجوں کا سامنا رہے گا جن میں آبادی میں تیزی سے اضافہ، تعلیم اور صحت کے لیے ناکافی مختص کردہ بجٹ، ہر سال جاب مارکیٹ میں داخل ہونے والے لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع کا فقدان اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شامل ہے۔
اس حقیقت پر جتنا بھی زور دیا جائے کم ہے کہ حکومت کا قرضوں پر بھاری انحصار افراطِ زر (مہنگائی) کو ہوا دیتا ہے اور مرکزی بینک کو پالیسی ریٹ بڑھانے پر مجبور کرتا ہے جو بدلے میں حکومت کے لیے قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ میں مزید اضافہ کردیتا ہے، تاہم کسی بھی ملک کی لچک کا انحصار اس کے معاشی بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی پر ہوتا ہے جس میں صنعتی صلاحیت، برآمدی مسابقت، لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اور مالیاتی استعداد شامل ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے ایک مطالعے کے مطابق، پاکستان کمزور صنعتی صلاحیتوں اور انتہائی ناکافی مالیاتی گنجائش کے باعث ایسی دیگر معیشتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ معاشی دباؤ کا شکار ہے جن میں مہنگائی کی شرح یکساں ہے۔
آخر میں ایک گہرا سوال ہمیشہ جواب کا متقاضی رہتا ہے: کیا پاکستان کی بظاہر مشکلات کا شکار معیشت کا کوئی حل موجود ہے؟ اس اخبار کا جواب اثبات میں ہے۔ ساختی اصلاحات یا طویل المدتی پالیسی تبدیلیاں، جو ملک کے اندر اور خطے یا عالمی سطح پر موجود معاشی حقائق کو مکمل طور پر مدنظر رکھیں، ایک ایسے فریم ورک کا بنیادی ستون ہوں گی۔
ایسے قواعد و ضوابط جو مضبوط سیاسی عزم اور اعلیٰ عدلیہ کی حمایت کے حامل ہوں، یقیناً پالیسی سازوں کو ایسی پالیسیاں تشکیل دینے، منصوبہ بندی کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے میں مدد دیں گے جن کا مقصد معیشت میں بتدریج اور مرحلہ وار بہتری لانا ہو۔ سب سے پہلے ہمیں درست راستے کا تعین کرنا ہوگا اور اس کے تحفظ اور تسلسل کے لیے خود کو پابند کرنا ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026



















Comments