BR100 Increased By (1.88%)
BR30 Increased By (2.37%)
KSE100 Increased By (1.73%)
KSE30 Increased By (1.75%)
BAFL 58.99 Increased By ▲ 1.14 (1.97%)
BIPL 25.64 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.61 Increased By ▲ 0.93 (2.76%)
CNERGY 8.08 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 19.08 Increased By ▲ 0.06 (0.32%)
DGKC 206.32 Increased By ▲ 12.22 (6.3%)
FABL 91.07 Increased By ▲ 1.18 (1.31%)
FCCL 54.40 Increased By ▲ 2.26 (4.33%)
FFL 18.05 Increased By ▲ 0.04 (0.22%)
GGL 20.80 Increased By ▲ 0.13 (0.63%)
HBL 288.35 Increased By ▲ 4.43 (1.56%)
HUBC 219.59 Increased By ▲ 7.11 (3.35%)
HUMNL 11.07 Increased By ▲ 0.03 (0.27%)
KEL 8.05 Increased By ▲ 0.21 (2.68%)
LOTCHEM 28.77 Decreased By ▼ -0.19 (-0.66%)
MLCF 90.52 Increased By ▲ 4.01 (4.64%)
OGDC 317.99 Increased By ▲ 1.79 (0.57%)
PAEL 41.07 Increased By ▲ 1.11 (2.78%)
PIBTL 17.51 Increased By ▲ 0.24 (1.39%)
PIOC 278.98 Increased By ▲ 11.40 (4.26%)
PPL 225.84 Increased By ▲ 3.17 (1.42%)
PRL 34.63 Increased By ▲ 0.17 (0.49%)
SNGP 100.42 Increased By ▲ 1.33 (1.34%)
SSGC 26.97 Increased By ▲ 0.30 (1.12%)
TELE 8.93 Increased By ▲ 0.02 (0.22%)
TPLP 10.90 Decreased By ▼ -0.30 (-2.68%)
TRG 69.78 Decreased By ▼ -0.81 (-1.15%)
UNITY 11.52 Increased By ▲ 0.08 (0.7%)
WTL 1.27 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر متفق، دستخط جمعہ کو ہوں گے، وزیراعظم

  • یہ معاہدہ ایسے وقت طے پایا جب اتوار کو اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا، جس پر ایران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے تنقید کی
شائع June 15, 2026 اپ ڈیٹ June 15, 2026 09:14am

امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔ یہ اعلان پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پر کیا۔

یہ معاہدہ ایسے وقت طے پایا جب اتوار کو اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا، جس پر ایران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے تنقید کی۔

معاہدے کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم شہباز شریف کے مطابق اس میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے بشمول لبنان کی شق شامل ہے۔

قبل ازیں متعدد ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے گی اور جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات مزید 60 روزہ مذاکرات کے دوران طے کیے جائیں گے۔

پاکستانی وزیراعظم کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں معاہدے کی تصدیق کی۔

اتوار کو ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیل کا تازہ حملہ، جس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس کا ہدف حزب اللہ تھی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کے پاس اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی نہ تو صلاحیت ہے اور نہ ہی ارادہ۔ انہوں نے یہ بیان ایکس پر جاری کیا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اس حملے کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا۔ ایران نے سخت جواب دینے کی دھمکی دی، جبکہ اس کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے کہا کہ انگلی ٹریگر پر ہے اور دشمن کے قلب پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ آج صبح بیروت پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، خاص طور پر ایسے دن جب ہم ایران کے ساتھ ایک امن معاہدے کے اتنے قریب ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ مجوزہ امریکہ-ایران معاہدے کا فریق نہیں ہے۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان اس معاملے پر اختلافات موجود ہیں، کیونکہ امریکہ اسرائیل سے لبنان میں فوجی کارروائیاں محدود کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔

لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کے بعد دوبارہ شدت اختیار کر گیا تھا۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے قبل ازیں رائٹرز کو بتایا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 25 ارب ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہو گا، جبکہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے اور نہ ہی حاصل کرنے پر رضامند ہو گا۔

عہدیدار کے مطابق ایران اس بات پر بھی متفق ہوا ہے کہ حتمی معاہدے تک جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی، جس میں یورینیم کی افزودگی نہ کرنا اور جوہری تنصیبات میں توسیع نہ کرنا شامل ہے۔

Comments

200 حروف