اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
- مرکزی بینک کا فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے
اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا جس کے تحت شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پیر کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کا رواں سال چوتھی بار اجلاس منعقد ہوا اور شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق تھا۔
کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمپنی نے نوٹ کیا کہ حالیہ مثبت جیو پولیٹیکل پیشرفت کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم یہ اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بلند ہیں۔ اس کے باوجود جیسا کہ پچھلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں اندازہ لگایا گیا تھا اس تنازع کے اثرات اب حالیہ معاشی اشاریوں میں ظاہر ہو رہے ہیں۔
کمیٹی کے مطابق اپریل اور مئی کے دوران ہیڈ لائن انفلیشن (مجموعی مہنگائی) بڑھ کر دو ہندسوں میں پہنچ گئی، جبکہ کور انفلیشن میں بھی کچھ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ علاوہ ازیں بڑھتی ہوئی قیمتوں، کفایت شعاری کے اقدامات اور موجودہ معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث معاشی سرگرمیوں میں سست روی کے کچھ اثرات دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ بیرونی کھاتے پر دباؤ فی الحال معتدل ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ مجموعی معاشی منظرنامہ پچھلے اجلاس کے مقابلے میں کافی حد تک تبدیل نہیں ہوا اور اس تناظر میں موجودہ مانیٹری پالیسی کا تسلسل درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کے لیے موزوں ہے۔
کمیٹی نے گزشتہ اجلاس کے بعد سے ہونے والی درج ذیل کلیدی پیشرفتوں کا احاطہ کیا۔ اول یہ کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے عبوری تخمینوں کے مطابق مالیاتی سال 2025-26 کے لیے حقیقی جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد رہی ہے۔ دوم حالیہ سروے کے مطابق صارفین اور کاروباری اداروں کے اعتماد میں معمولی بہتری آئی ہے اور مہنگائی کے حوالے سے ان کی توقعات میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔ سوم آئی ایم ایف کے ای ایف ایف اور آر ایس ایف پروگرامز کے جائزوں کی کامیاب تکمیل اور جاری فنڈز کی بدولت 5 جون 2026 تک اسٹیٹ بینک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ چہارم حکومت نے مالیاتی سال 2025-26 کے لیے پرائمری بیلنس سرپلس جی ڈی پی کا 2.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ مالیاتی سال 2026-27 کے لیے جی ڈی پی کے 2.0 فیصد سرپلس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور آخری یہ کہ مڈل ایسٹ (مشرقِ وسطیٰ) کے تنازع نے کئی معیشتوں کے میکرو اکنامک حالات کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کی وجہ سے متعدد مرکزی بینکوں نے اپنی پالیسی ریٹس میں اضافہ شروع کر دیا ہے۔
کمیٹی نے واضع کیا کہ مڈل ایسٹ کے طویل تنازع کے باوجود مانیٹری پالیسی اور مسلسل مالیاتی استحکام پر مبنی فعال مینجمنٹ نے معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔
مہنگائی کا منظرنامہ
کمیٹی نے اندازہ لگایا ہے کہ مہنگائی اگلے چند ماہ تک دو ہندسوں میں رہ سکتی ہے، جس کے بعد اس میں بتدریج کمی آئے گی۔ تاہم اس منظرنامے کو متعدد خطرات لاحق ہیں، جن میں جیو پولیٹیکل حالات، عالمی قیمتوں کے ملکی ایندھن پر اثرات، بجلی اور گیس کے ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ، ممکنہ مالیاتی خسارے اور موسم کی تبدیلیوں کے باعث غذائی اشیاء کی غیر یقینی قیمتیں شامل ہیں۔
پچھلی مانیٹری پالیسی کمیٹی
اس سے قبل 27 اپریل 2026 کو ہونے والے اجلاس میں مرکزی بینک نے مارکیٹ کی توقعات کے مطابق پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 11.5 فیصد کر دیا تھا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے توقع ظاہر کی تھی کہ شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق 15 جون 2026 کے ایم پی سی اجلاس میں 49 فیصد افراد توقع رکھتے ہیں کہ پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔اسی دوران باقی 49 فیصد شرکاء شرحِ سود میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں جن میں 34 فیصد کا خیال ہے کہ 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوگا جبکہ 15 فیصد کے مطابق 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ متوقع ہے، صرف 2 فیصد افراد نے شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس تک کمی کی پیشگوئی کی۔بروکریج ہاؤس نے کہا کہ شرحِ سود میں تبدیلی سے متعلق غیر یقینی اور ملے جلے خیالات کی بنیادی وجہ تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ ہے۔ ان کے مطابق شرحِ سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا ان کا مؤقف اس بنیاد پر ہے کہ جنگ میں شامل فریقین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور پاکستان کی فعال ثالثی کی کوششیں صورتحال کو قابو میں رکھنے میں مددگار ہیں۔دریں اثنا پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نے کہا کہ مارکیٹ کی توقعات مجموعی طور پر محتاط طور پر شرحِ سود کو برقرار رکھنے کے مؤقف کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
حالیہ تبصروں کے مطابق اگرچہ شرحِ سود میں تبدیلی کے حوالے سے آرا منقسم ہیں اور کچھ لوگ موجودہ سطح برقرار رکھنے جبکہ کچھ معمولی اضافے کے حق میں ہیں، تاہم تیل کی قیمتوں میں کمی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ میں نرمی نے مزید اضافے کے امکان کو کم کردیا ہے۔ دوسری جانب بلند افراطِ زر اور توقعات سے جڑے خدشات کی وجہ سے شرحِ سود میں کمی کو قبل از وقت قرار دیا جا رہا ہے۔
صنعت کاروں کی جانب سے موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کی شدید مذمت
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دو ہندسوں میں مستحکم پالیسی ریٹ ملک کی معاشی بقا کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ شرحِ سود میں کمی نہ ہونے سے ڈی انڈسٹریلائزیشن (صنعتوں کی بندش) بڑھے گی اور برآمدی اہداف شدید متاثر ہوں گے، جو قیمتی زرِ مبادلہ کے حصول کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک تجارت اور صنعت کو درپیش چیلنجز سے بالکل لاپروا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کی سہولت کاری سے ہونے والے امریکی ایران ممکنہ امن معاہدے اور عالمی توانائی کی سپلائی بحال ہونے کے باعث مہنگائی میں واضح کمی کی توقعات کے باوجود پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ افسوسناک ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینیئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے اس بات پر زور دیا کہ بینچ مارک پالیسی ریٹ نے سرمائے کی لاگت کو مصنوعی طور پر بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ ہمارے علاقائی حریف بہت کم شرحِ سود پر کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں پاکستانی برآمدات کی مسابقت ختم ہو رہی ہے۔ موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے سے ایس ایم ایز اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ دونوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، جس سے ملک میں نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا عمل رک گیا ہے۔























Comments